ڈیالو کی کہانی: گلے میں قرآن، چہرے پر تلخ مسکراہٹ والا غلام

برطانوی مصور ولیم ہوئر کے پینٹ کردہ مشہور پورٹریٹ جس میں ایک سیاہ فام غلام کے سر پر پگڑی بندھی ہے اور اس کے گلے میں قرآن پاک ہے۔

1733 میں انگلینڈ کے ولیم ہوئر نے مغربی افریقی روایتی لباس پہنے ڈیالو کی یہ تصویر بنائی تھی (ولیم ہوئر 1733)

ایوب سلیمان ڈیالو کی زندگی، جدوجہد اور عقیدہ ہمارے سامنے ایک نایاب تصویر کے طور پر موجود ہے۔

ڈیالو کی1701 میں سینیگال میں پیدا ہوئے جن کی یادداشت شاندار تھی۔ انہوں نے چھوٹی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کا خاندان اپنے تقویٰ کی وجہ سے جانا جاتا اور قابل احترام تھا۔

سال 1731 ڈیالو کی زندگی میں ایک اہم موڑ تھا جب وہ سفر پر تھے تو انہیں غلاموں کے تاجروں نے پکڑ لیا اور امریکہ کی طرف جانے والے جہاز پر چڑھا دیا۔

بعض مغربی ذرائع میں بتایا گیا ہے کہ ڈیالو کے والد بھی غلاموں کے تاجر تھے اور وہ اپنے والد کی جانب سے کچھ معاہدے کرنے کے لیے اس سفر پر گئے تھے۔

غالب امکان یہ ہے کہ جن تاجروں نے ڈیالو کو پکڑ کر غلام بنایا وہ بھی مسلمان تھے۔

ایک طویل سفر کے دوران زندہ رہنے میں کامیاب ہونے والے ڈیالو کو ایک امریکی خاندان کو بیچ دیا گیا اور انہیں تمباکو کے کھیت میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔

اس عرصے کے دوران ڈیالو نے، جو ہر قسم کے امتیازی اور ناروا سلوک سے دوچار تھے، اپنے مذہبی فرائض کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن مالکان انتہائی ظالم تھے۔

آخر کار انہوں نے ایک فیصلہ کیا اور اس سرزمین پر بحیثیت غلام رہنے کی بجائے فرار ہونے کو ترجیح دی۔ پھر وہ پکڑے گئے۔ انہیں مارا پیٹا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور آخر کار قید کر دیا گیا۔

 جیل میں ڈیالو نے تھامس بلوٹ سے ملاقات کی، جو خدا کے مخلص بندوں میں سے ایک تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلوٹ نے ڈیالو کے ساتھ جتنا وہ کر سکتا تھا ہمدردی سے پیش آیا اور اپنے والد کو لکھا ہوا خط ان کے مالک تک پہنچانے کی کوشش کی۔

یہ خط جیمز ایڈورڈ اوگلتھورپ کے ہاتھ لگا۔

خطے کے امیر نوآبادیاتی مالکان میں سے ایک جیمز اوگلتھورپ نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایک غلام نے کیا لکھا ہو گا۔ اس خط کا عربی میں ترجمہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے کیا تھا۔

جیمز خط میں جو کچھ لکھا گیا تھا اس سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے فوراً ڈیالو کی قیمت ادا کی، انہیں آزاد کرایا اور برطانیہ لے گئے۔

ڈیالو کی زندگی کا یہ ایک بالکل نیا صفحہ کھل گیا۔ انگلستان کے اشرافیہ اور پادری ڈیالو سے ملنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سیاہ فام غلام اتنا ذہین اور وفادار تھا کہ انہوں نے انگلینڈ میں غلامی کے نقطہ نظر کو متاثر کیا۔

ڈیالو ایک ایسی شخصیت تھی جس نے تمام نظریات کو بدل دیا۔

وہ اسلام کی طرف سے انتہائی متنازع مذہبی مسائل کے حیرت انگیز جوابات فراہم کرتے تھے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود ذہانت نے انہیں انگلینڈ میں بہت عزت بخشی۔

اس موقع کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے اور فوری طور پر اپنے آبائی شہر واپس جانے کی بجائے، ڈیالو نے 1934 تک انگلینڈ اور دنیا میں سیاہ فام غلاموں کے حقوق کے تحفظ کے لیے خود کو وقف کر دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ولیم ہوئر کے ’لکی سلیو‘ کے طور پر بنائے گئے پورٹریٹ میں ڈیالو کو ایک انگریز اشرافیہ کے ماحول میں دکھایا گیا ہے جو دراصل ہوئر کے تعریفی رویہ کا نتیجہ ہے۔ تاہم انہیں پگڑی اور مقامی کپڑوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جسے کہا جاتا کہ اس طرح ان کی ثقافت اور عقائد کا احترام کیا گیا ہے۔

اس فریم کے ساتھ، ہوئر نے یہ پیغام دیا کہ سیاہ فام غلاموں کو بھی گوروں کے مساوی حقوق حاصل ہیں اور یہ کہ سفید فام آدمی کم نہیں ہے۔

’لکی غلام‘ کے گلے میں موجود قرآن پاک بھی ڈیالو کے اپنے ایمان کا مظاہرہ کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ منفرد پینٹنگ قطر کے عجائب گھر میں رکھی گئی ہے۔

ڈیالو 1734 میں اپنے ملک واپس آئے اور 1773 میں اپنی موت تک پرسکون زندگی گزاری۔

اگرچہ انگریز ڈیالو کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے لیکن انہوں نے غلاموں کی تجارت کو 1833 تک جاری رکھا۔

ایک اندازے کے مطابق افریقہ سے امریکہ سمگل کیے گئے تقریباً 40 فیصد غلام مسلمان تھے۔

مثال کے طور پر جب 1865 میں ایک عثمانی جہاز غلطی سے برازیل کے ساحل پر پہنچا تو اس میں زیادہ تر غلام مسلمان تھے۔

بغداد کا عبدالرحمٰن یہاں کے مسلمان غلاموں کی جتنی مدد کر سکتا تھا کرتا تھا۔

ہم تاریخی دستاویزات سے جانتے ہیں کہ 15ویں صدی سے افریقہ سے امریکی براعظم تک غلاموں کے اغوا اور تجارت کا سلسلہ جاری تھا۔

زیادہ تر سیاہ فام غلاموں کو ان مسلمانوں کے گنجان آباد علاقوں سے اغوا کیا گیا جیسے کہ گھانا، مالی، سوکوٹرو، کانیم بورنو، سونگے اور سوڈان۔

براعظم میں لائے جانے والے غلاموں کے نظم و ضبط میں پہلا مسئلہ جس پر توجہ دی گئی وہ بلاشبہ ان کے مذہبی عقائد تھے۔ سیاہ فام غلاموں کو ایک بار پھر جبر اور تشدد کے ذریعے اپنا مذہب چھپانے پر مجبور کیا گیا۔

1733 میں باتھ کے ولیم ہوئر نے مغربی افریقی روایتی لباس پہنے ڈیالو کی یہ تصویر بنائی تھی۔

اس سے قبل یہ پینٹنگ قطر میوزیم اتھارٹی (کیو ایم اے) نے نومبر 2009 میں کرسٹیز میں خریدی تھی۔

یہ تحریر اس سے قبل انڈپینڈنٹ ترکی پر شائع ہوچکی ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین