’جہیز میں بہشتی زیور کے ساتھ ملالہ کی کتاب دی جائے‘

کچھ سال پہلے تک بہشتی زیور لڑکی کو جہیز میں دی جاتی تھی۔ اب باری ہے کہ جہیز میں برتن اور بستر کی جگہ ملالہ کہ یہ کتاب دی جائے تاکہ نیا نویلا جوڑا تعلیم کی اہمیت سمجھے اور اپنے ہونے والے بچوں کو ایک محفوظ مستقبل فراہم کرے۔

ملالہ یوسفزئی کی پہلی کتاب 'آئی ایم ملالہ' 2013ء میں شائع ہوئی۔(سوشل میڈیا)

ملالہ یوسفزئی کی پہلی کتاب 'آئی ایم ملالہ' 2013ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں ملالہ نے بہت تفصیل سے اپنی وادی، وہاں کے لوگوں، اپنے خاندان اور اپنے اوپر ہونے والے حملے کے بارے میں لکھا تھا۔ 'آئی ایم ملالہ' کا اردو ترجمہ 2017ء میں 'میں ملالہ ہوں' کے نام سے شائع ہوا۔ کچھ ماہ قبل یہ کتاب پڑھی تو کتنے ہی دن اس افسوس میں گزار دیے کہ پہلے کیوں نہ پڑھی۔

میرے لیے اس کتاب کا دلچسپ ترین حصہ وہ تھا جس میں ملالہ نے ہوش سنبھالنے کے بعد کے واقعات کی تفصیل لکھی ہے۔ ملالہ نے جب برمنگھم کے کوئین الزبتھ اسپتال میں آنکھیں کھولیں تو اس کے والدین میلوں دور پاکستان میں تھے۔ حکومتِ وقت ان کے برطانیہ پہنچنے کا انتظام کر رہی تھی۔ ملالہ کی حالت کافی خراب تھی۔ اسے ایک کان سے سنائی نہیں دے رہا تھا۔ کچھ دن تو اسے آئینے میں اپنا چہرہ بھی نہیں دیکھنے دیا گیا۔ دنیا بھر سے اس کے لیے تحائف، پھول اور کارڈز آئے ہوئے تھے۔ کسی نے شادی کا پیغام بھی بھیجا تھا۔ اس کے آگے اس کی صحت یابی اور اس کے بعد کے مراحل کا ذکر کیا گیا ہے۔

ان ابواب میں کہیں کہیں ملالہ کی حسِ مزاح بھی دیکھنے کو ملتی ہے جو پڑھنے والے پر ایک خوش گوار تاثر چھوڑتی ہے۔ اگر آپ کے پاس تھوڑا سا وقت ہے اور آپ کچھ اچھا پڑھنا چاہتے ہیں تو اس کتاب کے وہ ابواب ضرور پڑھیں۔

اس سال ملالہ کی ایک اور کتاب 'وی آر ڈسپلیسڈ' کے نام سے شائع ہوئی۔ میں نے پہلی بار یہ کتاب کراچی ائیرپورٹ پر دیکھی تو فوراً خرید لی۔ شروع کا ڈیڑھ باب تو فلائٹ کے انتظار میں وہیں انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے پڑھ لیا۔ اس کتاب سے حاصل ہونے والی آمدنی ملالہ فنڈ کے لیے استعمال کی جائے گی جو دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلا باب خود ملالہ کے بارے میں ہے۔ ملالہ بھی ڈسپلیسڈ ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہم جانتے ہوئے بھی تسلیم نہیں کر پا رہے۔ اپنا ملک اپنی مرضی سے چھوڑنا اور وہاں کبھی بھی واپس آنے کی آزادی رکھنا اپنے آپ میں ایک عیاشی ہے۔ ملالہ اس عیاشی کی محتمل نہیں ہو سکتی۔

گذشتہ برس وہ اپنے اوپر ہونے والے حملے کے بعد پہلی بار واپس آئی تو اس کے دورے کو جتنا خفیہ رکھا جا سکتا تھا، رکھا گیا۔ سخت سکیورٹی کے حصار میں اسے سوات بھی لے جایا گیا۔ اس نے کئی اہم ملاقاتیں بھی کیں۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس کی آنکھیں بھی چھلک پڑیں۔ اس باب میں اسی سفر کی داستان ہے۔ بقیہ ابواب میں ملالہ جیسی ہی کئی لڑکیوں کی کہانیاں ہیں جو ڈسپلیسڈ ہیں اور اپنی بہتر زندگی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

اس میں دو ایسی یمنی بہنوں زینب اور سبرین کی بھی کہانی ہے جنہوں نے اپنے ملک کے حالات کی وجہ سے مصر میں اپنے رشتہ داروں کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ بدقسمتی سے ان کے رشتے داروں کا رویہ ان کے ساتھ کچھ خاص اچھا نہیں تھا۔ مجبوراً انہیں مصر بھی چھوڑنا پڑا۔ قسمت اور امیگریشن قوانین کی وجہ سے دونوں بہنیں الگ الگ ممالک میں جا پہنچیں۔ زینب نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اسے اپنی بہن کے بغیر امریکہ جانا ہوگا اور سبرین نے کبھی خواب میں بھی خود کو بحیرہ روم کے ٹھنڈے پانی میں اپنی زندگی بچاتے نہیں دیکھا تھا۔ ایک گھر اور اچھے مستقبل کے خواب کی تعمیر کے لیے انہیں یہ بھی کرنا پڑا۔

ملالہ نے اس کتاب میں صرف ان لڑکیوں کے واپس سکول جانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ہی ذکر نہیں کیا بلکہ امیگریشن قوانین، غیر قانونی ایجنٹس اور پناہ گزین کیمپوں کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

اس کتاب میں نجلہ، ماریہ اور شام کی ملالہ کہلانے والی مزون کی بھی کہانی ہے۔ مزون میں ملالہ کو اپنے لیے امید کی ایک کرن نظر آئی۔ پاکستان کی ملالہ اور شام کی ملالہ آپس میں دوست ہیں۔ ملالہ نے مزون کو اس تقریب میں بھی مدعو کیا تھا جس میں اسے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ مزون نے اپنے خاندان کے ہمراہ شام سے اُردن کی طرف ہجرت کی۔ وہ شام سے اپنے ساتھ صرف کتابیں لے کر آئی تھی کیونکہ اس کے خیال میں یہی اس کا کُل سرمایہ تھا۔

اس کتاب میں ایک ایسی لڑکی کی بھی کہانی ہے جس نے اپنے والد کی ناراضگی کے باوجود سکول جانا نہ چھوڑا۔ وہ اس کی شادی کرنا چاہتے تھے جبکہ یہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔

بقیہ کہانیاں پڑھنے کے لیے کتاب خریدیں، خود بھی پڑھیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی پڑھوائیں۔ کچھ سال پہلے تک بہشتی زیور لڑکی کو جہیز میں دی جاتی تھی۔ اب باری ہے کہ جہیز میں برتن اور بستر کی جگہ ملالہ کہ یہ کتاب دی جائے تاکہ نیا نویلا جوڑا تعلیم کی اہمیت سمجھے اور اپنے ہونے والے بچوں کو ایک محفوظ مستقبل فراہم کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مندرجہ بالا تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

    

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ