گیتانجلی شری بین الاقوامی بکر پرائز کی پہلی بھارتی فاتح

بھارتی مصنفہ کا ہندی میں لکھا گیا ناول ’ریت سمادھی‘، جس کا انگریزی میں ترجمہ ’ٹومب آف سینڈ‘ کے نام سے کیا گیا، ایک 80 سالہ خاتون کی شوہر کی موت کے بعد کی کہانی پر مبنی ہے۔

مصنفہ گیتانجلی شری لندن میں اپنے ناول 'ٹومب آف سینڈ' کے لیے 2022 کے بین الاقوامی بکر انعام کا ایوارڈ لینے کے بعد پوز کر رہی ہیں (فوٹو: اے پی/ ڈیوڈ کلف)

گیتانجلی شری اپنے ہندی زبان میں لکھے گئے ناول ’ریت سمادھی‘، جس کا انگریزی میں ترجمہ ’ٹومب آف سینڈ‘ کے نام سے کیا گیا، کے لیے بین الاقوامی بکر پرائز حاصل کرنے والی پہلی بھارتی شہری بن گئی ہیں۔

یہ کتاب ایک 80 سالہ خاتون کی اپنے شوہر کی موت کے بعد 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے دوران کہانی پر مبنی ہے۔

یہ ہندی زبان کی پہلی کتاب تھی جسے 50,000 پاؤنڈز کے انعام کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔ اس کا انگریزی میں ترجمہ امریکی مترجم ڈیزی راک ویل نے کیا تھا۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق گیتانجلی نے انعام وصول کرنے کے بعد اپنے پیغام میں کہا: ’میں نے کبھی بُکر کا خواب نہیں دیکھا، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں کر سکتی ہوں۔ یہ کتنی بڑی پہچان ہے۔ میں حیران، خوش، اور عاجز ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میرے اور اس کتاب کے پیچھے ہندی اور دیگر جنوبی ایشیائی زبانوں میں ایک بھرپور اور پھلتی پھولتی ادبی روایت ہے۔ عالمی ادب ان زبانوں کے چند بہترین ادیبوں کو جاننے کے بعد زیادہ مستفید ہوگا۔‘

مزید پڑھیے:  ’بکر پرائز‘ 2019: خواتین نے میدان مار لیا

ججوں کے پینل کے سربراہ فرینک وائن نے کہا کہ انہوں نے اس سے پہلے ’ٹومب آف سینڈ‘ جیسا کچھ نہیں پڑھا تھا۔

انہوں نے کہا: ’اس میں ایک جوش و خروش، ایک زندگی، ایک طاقت اور ایک جذبہ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے: عمان کی مصنفہ نے مین بُکر پرائز جیت لیا

آن لائن خبر کا اعلان کرتے ہوئے بُکر تنظیم نے کہا: ’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ بکر انٹرنیشنل پرائز برائے 2022 کا فاتح گیتانجلی شری کا ناول ’ٹومب آف سینڈ‘ ہے۔‘

گیتانجلی شری نے پانچ دیگر فائنلسٹ کو شکست دی جن میں پولینڈ کی نوبیل انعام یافتہ اولگا ٹوکارچوک، ارجنٹائن کی کلاڈیا پینیرو اور جنوبی کوریا کی مصنف بورا چنگ کو جمعرات کو لندن میں ایک تقریب میں انعام سے نوازا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ادب