ایک فلیٹ، دو کہانیاں

اس طرح کے فلیٹ، ہاسٹل، گھروں کے پورشن حتیٰ کہ پورے کے پورے گھر، صرف ماڈل ٹاؤن کی اس گلی میں ہی نہیں، لاہور کے ہرعلاقے میں پائے جاتے ہیں۔ ان سب، بہ باطن بےنامی جائیدادوں کے بظاہر گمنام مالکان صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔

اگر ایسی صرف ایک بلڈنگ سے، جیسی کہ یہ ہے  جہاں وہ فلیٹ ہے جہاں سے کہانی شروع ہوئی تھی، ایک ملین سالانہ کی، کم و بیش  خود کار کمائی ہوتی ہے تو کیا اس پر کوئی ٹیکس نہیں بنتا؟(سوشل میڈیا)

یہ ایک فلیٹ کی کہانی ہے۔ لاہور میں واقع ایک عام سے فلیٹ کی۔ یا یوں کہہ لیں اس عام فلیٹ سے متعلق کچھ خاص باتوں کی۔ فلیٹ کو فلیٹ، محاورے زیادہ روز مرہ کے طور پر اور اصطلاح سے زیادہ رواروی میں کہہ دیا گیا ہے۔ دراصل تو یہ ایک تین منزلہ گھر کا ایک حصہ ہے۔ دس مرلے کے اس گھرکی تینوں منزلیں، مالکان  نے کرائے پر چڑھا رکھی ہیں۔ انہیں کرائے کی مد میں لگ بھگ لاکھ روپے سالانہ وصول ہوتے ہیں۔ ثروت حسین کی نظم کی طرح، کہانی کا کیا ہے، کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے۔ ایک تو یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ شاید ایک سے زیادہ۔

یہ رقم، بھلے  یا بُرے لینڈ لارڈ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہ ہو، 19ویں گریڈ کے سرکاری افسر کی تنخواہ کے تقریباً جتنی ہے۔  نجی شعبے سے مثال لائیں تو یہ ملک کے کسی بڑے شہرمیں چھوٹے درجے کے کسی کاروبار کی آمدن کے لگ بھگ نکلے گی۔ اس حساب کتاب میں دو چار متعلقہ گوشوارے اور جوڑ لیں تو بیلینس شیٹ مزید واضح ہو جائے گی۔

مثال کے طور پر سرکاری یا نیم سرکاری ملازم بچارے کو تو تنخواہ ملتی ہی ٹیکس کاٹ کر ہے۔  ایک کاروباری کو ہر مہینے اتنا کمانے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، اس کا کچھ اندازہ حالات کو دیکھتے ہوئے باآسانی لگایا جا سکتا ہے، یا شاید بمشکل۔

اس طرح کے فلیٹ، ہاسٹل، گھروں کے پورشن حتیٰ کہ پورے کے پورے گھر، صرف ماڈل ٹاؤن کی اس گلی میں ہی نہیں، لاہور کے ہرعلاقے میں پائے جاتے ہیں۔ ان سب، بہ باطن بےنامی جائیدادوں کے بظاہر گمنام مالکان صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ یہ حضرات و خواتین، عموماً ایک تھرڈ پارٹی کی وساطت سے ڈیل کرتے ہیں۔ اس تھرڈ پارٹی کو، جنہیں پنجابی میں وچولڑے کہنا نامناسب نہ ہو گا، مارکیٹ میں پراپرٹی ڈیلر کہا جاتا ہے۔ فریقین میں ڈیل ہونے سے پہلے شدید مبالغے کی کسر یہ فنکار کمیشن کی وصولی کے بعد مکمل گریز سے پوری کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  کسی چھوٹے موٹے علاقائی مافیا سے جڑت بھی کامیاب پراپرٹی ڈیلر کی پہچان ہے۔

واپس فلیٹ کی طرف چلتے ہیں۔ اس ایک نہیں ایسے سب فلیٹوں، مکانوں، پورشنوں، ہوسٹلوں، گیسٹ ہاؤسوں وغیرہ کی طرف۔

تو سین یہ ہے کہ انہیں کرائے پر اٹھانے کے بعد  مالکانان عالیشان تو وہی روایتی چین کی بنسی بجاتے رہتے ہیں۔ داستانوں کے آسمانوں میں بیٹھے دیوتاوں کی طرح۔ خود ان مکانوں کے مکین جییں یا مریں، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ غرض ہوتی ہے تو صرف کرائے کی وصولی اور اس میں اضافے سے یا عدم ادائیگی کی صورت میں کرائے دار کی بیدخلی سے۔ غرض ہو بھی کیوں، ان کی جائداد نہ صرف آباد یعنی بہ ہرحال محفوظ تو رہتی ہی ہے، اس کی قیمت بھی بیٹھے بٹھائے بڑھتی رہتی ہے۔ سب سے مزے کی بات کہ انہیں اس کنکریٹ دودھ کی  بالائی کے طور پر، معقول آمدن بھی موصول ہوتی رہتی ہے، بغیر ہاتھ پیر ہلائے۔  یہاں ہاتھ پیر نہ ہلانے پر خاصا زورہے۔ 

یہ زور اس لیے دیا گیا ہے کہ اس پُر تضاد صورت حال اور اس میں موجود استحصال کو نمایاں کیا جا سکے۔ اس استحصال کا نمایاں ترین پہلو اقتصادی ہے۔ جہاں ایسے اصطلاحی فلیٹوں کے مکین محنت مشقت کر کے کماتے کھاتے ہیں۔ وہ ایک متوسط خاندان کے افراد ہو سکتے ہیں۔ وہ  نئی نویلی نوکری کے ناز اور گاؤں بیٹھے ماں باپ بیوی بچوں کے خرچے اٹھانے والے تنخواہ دار نوجوان ہو سکتے ہیں۔ وہ  پینشن وغیرہ پر گزر بسر کرنے والے سینیئر سیٹیزن ہو سکتے ہیں۔ وہ اس میٹروپول کے ان گنت ڈگری فروش اداروں میں زیرِ تعلیم  سٹوڈنٹ ہو سکتے ہیں۔ جو خود  قصباتی والدین کے زیرِکفالت ہوں۔ 

اب سین یہ ہے کہ بیشتر صورتوں میں خاندان یا مجرد افراد،  باہمی اشتراک کے بغیران مسائلِ تصوف کا سامنا کرنے کا بوتا نہیں رکھتے۔ یہ بیش بہا کرائے، یہ ہوشربا بل، یہ روز افزوں اخراجات! فلیٹوں کے زیادہ تر مکین ان سب دشواریوں پر قابو آپس میں شئیرنگ کر کے ہی پا سکتے ہیں۔ مزید مصیبت یہ کہ اس معاشی سُلجھاؤ میں بھی معاشرتی الجھاؤ چھپا رہتا ہے۔ جس کا ایک ظاہر باہر ثبوت یہ کہ عام طور پہ ان افراد کا سماجی سٹیٹس خاصا کم گنا جاتا ہے۔ لینڈ لارڈ کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر۔ تجھے تب آئیں گے سستے کرایہ دار سمجھ، ہراک کو ان میں سے تقسیم ِ تین، چارسمجھ۔ 

یہ استحصال کرایہ دار پرختم نہیں ہوتا۔ اس نقصان میں سرکار خود برابر کی ذمہ دار ہے۔ وہ اس طرح کہ بہت مالکان اس آمدن کا درست اندراج کروانے سے قاصر رہتے ہیں۔ کیوں رہتے ہیں، اس کی وجہ صاف سمجھ آتی ہے۔ ٹیکس چوری اور وہ بھی دوہری تہری چوری۔ حق ناحق کے مقدمے سے الگ، یہ عین ممکن ہے کہ جائیداد ہو کسی کے نام  پر جبکہ کام کوئی اور چلا رہا ہو۔ مالک اے، مختار بی، منتظم سی۔ اس ابجدی گھمسان میں کسے خبر، پراپرٹی ٹیکس کہاں مارا گیا۔ کرایے کی آمدن کس مد میں کسے بخشی گئی۔ اتنا البتہ طے ہے کہ متعلقہ جائداد اور اُس پر حاصل ہونے والی اضافی آمدن کی مد میں جو ٹیکس حکومت کو جانا چاہیے، علاقے اورعوام کے کام آنا چاہئے۔ تو سین یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔

اگر ایسی صرف ایک بلڈنگ سے، جیسی کہ یہ ہے  جہاں وہ فلیٹ ہے جہاں سے کہانی شروع ہوئی تھی، ایک ملین سالانہ کی، کم و بیش  خود کار کمائی ہوتی ہے تو کیا اس پر کوئی ٹیکس نہیں بنتا؟

یقیناً بنتا ہو گا کیوں کہ کوئی دیتا جو نہیں، نہ دینا چاہتا ہے۔ اکیلی اس گلی  میں ایسی ثمر دارعمارتوں کی تعداد نصف درجن ہو گی۔ محلے میں بیسیوں ایسی عمارتیں موجود ہیں۔ علاقے میں سینکڑوں ہوں گی اور شہر میں ہزاروں۔ اب یہ کتنے کروڑ یا ارب وغیرہ کا معاملہ ہے، یہ حساب لگانا تو اس کالم کے بس کی بات نہیں۔ نہ ایک شاعر کے بس کی بات ہے۔

لیکن آخر کسی کے بس کی بات تو ہو گی۔ کسی نہ کسی کے بس کی بات لازمی ہو گی۔ جس کے یا جن کے بس کی بات ہے انہیں سننا چاہیے۔ دیکھنا چاہیے کہ کیا سین ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ