درزی سے تنگ ہو تو ’سٹچ کراؤ‘

سٹچ کراؤ ایک آن لائن سروس ہے جسے استعمال کرنے سے خواتین کی درزیوں سے جان چھٹ سکتی ہے۔

یہ کہانی ہے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن کی دو بہنوں بسمہ مجید اور فاطمہ مجید کی۔ ایک سافٹ ویئر انجینئیر ہیں تو دوسری سرجن۔

دونوں بہنیں ملازمت کرتی تھیں لہذا انہیں کپڑے سلوانے کا وقت مشکل سے ملتا تھا۔ انہیں بیک وقت گھر اور باہر کام کرنے والی خواتین کی اس تکلیف کا بھی بخوبی احساس تھا کہ ان کے لیے کپڑے سلوانے کی خاطر درزیوں کے چکر لگانا کتنا اذیت ناک ہو سکتا ہے۔

بس پھر کیا تھا دونوں بہنوں نے سوچا کہ ایسی مصروف خواتین کے لیے آسانی پیدا کی جائے اور اپنی آمدن کا ایک اور ذریعہ بھی بنایا جائے۔

23 سالہ بسمہ اور 27 سالہ فاطمہ نے چھ ماہ پہلے ’سٹچ کراؤ‘ کے نام سے کپڑے سلوانے کی آن لائن سٹچنگ سروس شروع کی، ایک فیس بک پیج بنایا اور آن لائن آرڈر لینے شروع کر دیے۔ ان کے کام میں دوست، رشتہ داروں نے مدد کی اور یوں ایک سلسلہ چل نکلا۔

دونوں بہنوں نے اپنے کام کا آغاز پہلے گھر میں درزی بٹھا کر کیا، مگر اب چار درزی اور تین سٹچنگ یونٹس ان کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں۔

فیس بک اور واٹس ایپ پر آرڈر لینے کے بعد، رائیڈر کلائنٹس کے گھر سے جا کر کپڑے اٹھاتے ہیں اور پھر واٹس ایپ اور فیس بک پر کپڑوں کے ڈیزائن اور کٹس کی بات پکی کی جاتی ہے۔

ڈیزائن فائنل ہونے پر بسمہ اور فاطمہ کپڑوں پر لگنے والے لوازمات اکٹھے کرتی ہیں اور اسے درزی کو دے دیتی ہیں، جب سوٹ تیار ہو جائے تو اسے رائیڈر کے ہاتھ واپس کلائنٹ کو بھیج دیا جاتا ہے اور کپڑے گھر پہنچانے کے کوئی پیسے نہیں ہیں۔

سادہ سوٹ سلوانے کا معاوضہ ایک ہزار روپے، جبکہ ڈیزائن والے سوٹ کا معاوضہ اس کے ڈیزائن اور کٹس کی مناسبت سے طے ہوتا ہے۔

فی الحال ’سٹچ کراؤ‘ سروس پاکستان تک محدود ہے مگر اب بسمہ اور فاطمہ کو بیرون ملک سے بھی کئی لوگ رابطہ کر رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا وغیرہ میں سوٹ کی سلائی بہت مہنگی ہے لہذا بسمہ اور فاطمہ چاہتی ہیں کہ بیرون ملک خواتین کو کم قیمت میں یہ سہولت دی جائے۔

اس کام کے لیے انہوں نے ایک ویب سائٹ بنائی ہے، جہاں مختلف برینڈز کے کپڑے موجود ہیں اور خواتین وہاں سے جوڑا منتخب یا ان جیسے ڈیزائن کے کپڑے آرڈر کر سکتی ہیں۔

آرڈر کے بعد سٹچ کراؤ کا نمائندہ ان سے وٹس ایپ اور فیس بک پر ڈیزائن، کپڑے کی قسم اور سائز وغیرہ کی تفصیلات اکٹھی کرے گا اور کپڑے سلنے کے بعد تیار سوٹ انہیں ارسال کر دیا جائے گا۔

کپڑوں کی سلائی ایک ایسا کام ہے جس پر خواتین کئی مرتبہ درزی کے پاس جاتی ہیں، خاص طور پر جب سوٹ سائز یا ڈیزائن کے مطابق نہ سلا ہو۔

بسمہ کہتی ہیں کہ ان سے بھی شروع میں یہ غلطیاں ہوئیں اور اس کا حل انہوں نے خواتین کو فری آلٹریشن سروس اور اگلے آرڈر پر ڈسکاؤنٹ دینے کی صورت میں نکالا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ سروس رواں برس مارچ میں جب شروع ہوئی تو پہلے ہی ہفتے میں انہیں 12 آرڈر ملے، کام معیاری تھا لہذا فیس بک پر اب تک ان کے 500 جبکہ انسٹا گرام پر700 رکن ہیں۔

بسمہ کے خیال میں ان کا کام اچھا چل پڑا ہے کیونکہ لوگوں کو آسانی مل رہی ہے، ان کا وقت بچ رہا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا معاوضہ دوسروں کی نسبت کم اور کوالٹی اچھی ہے۔

دونوں بہنیں ایک ہفتے میں اندازہ پچاس سے سو آرڈر مکمل کر لیتی ہیں۔ چونکہ عید الضحی قریب ہے لہذا ان کا کام اور بھی بڑھ گیا ہے۔ ان کے خیال میں عید پر درزیوں سے سبھی تنگ ہوتے ہیں، مگر ان کی کوشش ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ دیں۔

بسمہ نے بتایا انہیں ملنے والے آرڈرز میں زیادہ تر خواتین انگرکھا اور سوٹ پر گوٹے کے کام کو پسند کر رہی ہیں۔

بسمہ اور فاطمہ کی سٹچ کراؤ سروس کا انتخاب لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے انکیوبیشن سینٹر میں بھی ہوا، جس کے بعد اب اگلے چھ ماہ کے لیے لمز ان کے سٹارٹ اپ کو مارکیٹنگ میں تعاون کے علاوہ 24 گھنٹے آفس سپیس اور دیگر برانڈز کے ساتھ  رابطوں میں مدد دے گا۔

بسمہ چاہتی ہیں کہ مختلف ڈیزائنر برانڈز سے ان کے رابطے ہوں اور انہیں بڑے آرڈرز ملیں۔

سٹچ کراؤ سروس شروع کرنا بسمہ اور فاطمہ کے لیے آسان نہیں تھا۔ بسمہ کے خیال میں اگر کچھ لوگ آپ کی تعریف کرتے ہیں تو کچھ آپ کو گرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں، جس کا جواب صرف اور صرف محنت ہے۔

’جب آپ کوئی کاروبار شروع کرتے ہیں تو پہلے پانچ، چھ ماہ یا ایک سال تک کوئی آمدنی نظر نہیں آتی، مگر آپ محنت کرتے رہیں اور اپنے کاروبار کو آگے لے کر جائیں کیونکہ اگر آپ کا کام معیاری ہے تو کوئی اسے آگے جانے سے نہیں روک سکتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا