نازیبا تصاویر بھیجنے والے شخص کو سخت ای میل کرنے پر خاتون گرفتار

نجی اور جنسی نوعیت کی تصاویر بھیجنے والے ایک شخص کو سخت الفاظ میں ای میل میں خبردار کرنے والی امریکی خاتون کو عرب امارات میں گرفتار کر لیا گیا۔

ملیسا کو ہتک عزت کے جرم میں دو سال قید کی سزا ہو سکتی ہے (ڈیٹینڈ ان دبئی)

نجی اور جنسی نوعیت کی تصاویر بھیجنے والے ایک شخص کو سخت الفاظ میں ای میل میں خبردار کرنے والی امریکی خاتون ملیسا مک برنی کو متحدہ عرب امارات میں گرفتار کر لیا گیا۔

امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے ’دی انڈپینڈنٹ‘ کو بتایا کہ ملیسا کو ہتک عزت کے الزام میں ابو ظہبی میں حراست میں لیا گیا۔

’ڈیٹینڈ ان دبئی‘ نامی کیمپین گروپ کا کہنا ہے کہ کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی ملیسا نے مذکورہ مصری  باشندے کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی برہنہ تصاویر اور نازیبا ایس ایم ایس بھیجنا بند کر دے۔

گروپ نے بتایا کہ خاتون نے مذکورہ شخص کو ’سخت پیغام‘ بھیجا کیونکہ وہ ماضی میں ملیسا کی ذاتی تصاویر اوروں کے ساتھ بھی شیئر کر چکا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گروپ کے مطابق مذکورہ شخص نے ملیسا کی ای میل پر حکام سے رابطہ کیا، جس کے بعد میلیسا کو حراست میں لے لیا۔

ڈیٹینڈ ان دبئی کی سی ای او رادھا سٹرلنگ نے کہا: ’ملیسا پچھلے چار سالوں سے سخت اذیت سے گزر رہی ہیں، انہیں مسلسل انتہائی جنسی نوعیت کے یوہین آمیز پیغامات بھیجے جاتے رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود، ملیسا کو ہی سائبر قوانین کی خلاف ورزی پر متحدہ عرب امارات میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘

سٹرلنگ نے مزید کہا کہ الزام ثابت ہونے پر ملیسا کو دو سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارت خانے نے ’دی انڈپینڈنٹ‘ کو بتایا کہ ملیسا کو ہتک عزت پر گرفتار کرنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق ملیسا کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ شخص نے ان کی ہتک عزت کی اور ان کے خلاف نازیبا تصاویر کا استعمال کیا۔

حکام نے ’دی انڈپینڈنٹ‘ کو بتایا کہ ملیسا سیاحتی ویزے پر نومبر سے یو اے ای میں موجود تھیں جبکہ مذکورہ مصری شخص 20 سالوں سے یہاں مقیم ہے۔

ڈیٹینڈ ان دبئی کے مطابق ملیسا اور مذکورہ شادی شدہ شخص کے درمیان تعلقات تھے اور جب ملیسا نے یہ تعلق ختم کیا تو تعلقات کشیدہ ہو گئے۔

گروپ کے مطابق ملیسا مئی میں کیس کی سماعت تک دبئی میں ہی موجود ہوں گی۔ ’دی انڈپینڈنٹ‘ نے امریکی محکمہ خارجہ سے واقعے پر ردعمل لینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا