وہ خطاب جس کی امید وزیراعظم پاکستان سے تھی

وزیراعظم عمران خان نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے تناظر میں گذشتہ رات اپنے خطاب میں قوم پر زور دیا تھا کہ گھبرانا نہیں ہے بلکہ احتیاط کرنی ہے۔

(تصویر: عمران خان آفیشل فیس بک  پیج)

عزیز ہم وطنو!

آپ پر سلامتی ہو۔ جیسا کہ آپ سبھی جانتے ہیں کہ دنیا سمیت پاکستان بھی عالمی وبا کرونا کی لپیٹ میں آ چکا ہے اور اس وقت ہمارے پاس ڈھائی سو سے زائد تصدیق شدہ کیس آ چکے ہیں۔

یہ وائرس پاکستان میں ایران کے راستے آیا ہے۔ سب سے پہلے میری حکومت آپ سے معافی کی خواست گار ہے کہ تفتان بارڈر پر سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب یہ وبا پورے ملک میں پھیل گئی۔اگر اسے تفتان میں ہی کنٹرول کر لیا جاتا تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔ جو غلطی ہم سے ہوگئی اس سے سبق سیکھتے ہوئے اب ہمیں آگے کی جانب دیکھنا ہے۔

اس وائرس پر کیسے قابو پانا ہے اس حوالے سے میری وائرل بیماریوں کے ماہرین سے جو گفتگو ہوئی ہے وہ بڑی حوصلہ افزا ہے، مگر اس کے لیے ایک ہی شرط ہے کہ پہلے ہم اس موذی وبا کے خطرے کو سمجھیں اور وہ احتیاطی تدابیر اپنائیں جس سے ہم خود کو، اپنے گھر والوں کو اور اپنے ارد گرد کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ 

مجھے بتایا گیا ہے اور آپ سب بھی یہ جانتے ہیں کہ یہ وائرس ایک دوسرے سے پھیلتا ہے، اس لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی حرکت کو روک دینا ہے، ماسوائے ہنگامی صورت میں ہم گھر سے باہر نہ نکلیں۔ تعلیمی ادارے بھی بند کرنے کا یہی مقصد ہے۔ میں بچوں اور نوجوانوں سے کہوں گا کہ وہ گھروں میں رہیں اور باہر نکلنے اور مل کر کھیلنے سے پرہیز کریں۔

مجھے معلوم ہے کہ امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں ہم ایک غریب ملک ہیں۔ لاک ڈاؤن کامطلب ہو گا کہ ہم کرونا سے بھی بڑے بحران کا شکار ہو جائیں اس لیے ہم فی الحال پورے ملک کو لاک ڈاؤن نہیں کر رہے اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جن علاقوں اور محلوں سے کرونا رپورٹ ہو رہا ہے ہم ان کو دو ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن کر دیں۔

ہم پبلک ٹرانسپورٹ کو فوری طور پر دو ہفتوں کے لیے معطل کر رہے ہیں جبکہ ذاتی سواری رکھنے والوں کو بھی سکریننگ کے بعد شہروں سے باہر جانے یا شہروں میں داخلے کی اجازت ہو گی۔ لیکن لاک ڈاؤن قرار دیے گئے علاقوں میں کسی کو داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، تاہم لاک ڈاؤن قرار پانے والے علاقوں میں پرچون کی دکانیں اور میڈیکل سٹور کھلے رہیں گے۔

مجھے معلوم ہے کہ کرونا کے اقدامات کے نتیجے میں ہمارا وہ طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا جس کا انحصار محنت مزدوری پر ہے۔ ان حالات میں میری حکومت ان کے ساتھ ہے اور فوری طور پر ایک ارب ڈالر یعنی ڈیڑھ سو ارب روپے سے ایک فنڈ قائم کر دیا گیا ہے۔ جن لوگوں کے گھروں میں کھانے پینے کا سامان نہیں ہے اور وہ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ ہیلپ لائن پر کال کریں گے تو ایک مہینے کا راشن ان کے گھروں پر پہنچا دیا جائے گا۔ اس حوالے سے رفاعی تنظیموں اور دوسرے ممالک سے بھی تعاون کی اپیل کی جاتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ متمول پاکستانی بھی ضرورت کی اس گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کو یاد رکھیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میں فیکٹری مالکان سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اپنے مزدوروں کے لیے فیکٹریوں میں ہی رہائش اور کھانے کا انتظام کریں تاکہ ان کی فیکٹریاں بھی چلتی رہیں اور مزدوروں کے چولہے بھی۔ جب تک حالات قابو میں نہیں آ جاتے، جو مزدور گھروں میں کام کرتے ہیں ان کو یا تو اپنے گھروں میں ہی رکھیں یا پھر انہیں تنخواہ کے ساتھ چھٹی دے دیں۔

میرے ہم وطنو ہم کرونا کے علاج معالجے کے لیے بھی ایک منصوبے کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں تعلیمی اداروں اور ریلوے سٹیشنوں کو قرنطینہ مراکز میں بدلنے جا رہے ہیں۔ ہم ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے شانہ بشانہ ہیں۔ میں از خود ہسپتالوں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے ملنے ایک ایک ہسپتال اور قرنطینہ سینٹر جاؤں گا۔

ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ فوج کو کرونا سے نمٹنے کی ان سرگرمیوں سے دور رکھیں گے تاکہ وہ سرحدوں کی حفاظت کر سکیں۔ فوج نے اپنے اداروں میں کرونا سے نمٹنے کی ایک سخت حکمت عملی مرتب کر لی ہے، حکومت فوج کو بھی ہر ممکن سہولت بہم پہنچائے گی۔

پرائیویٹ اداروں کی انتظامیہ سے بھی میری درخواست ہے کہ وہ گھروں سے کام کی روایت اپنائیں تاکہ یہ مرض پھیلنے سے روکا جا سکے۔

کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں گی تاہم منڈیوں اور ہول سیل مارکیٹوں میں رش سے اجتناب کیا جائے۔

میں فوری طور پر سرکاری اداروں سے کہتا ہوں کہ وہ معمول کی سرگرمیاں معطل کر دیں اور خود کو غیر معمولی حالات کے مطابق ڈھالیں۔ ہر ادارہ اپنا اپنا طریقۂ کار بنالے کہ اس غیر معمولی صورت حال میں وہ اپنے کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے کیسے خود کو فعال رکھ سکتا ہے۔

اس وبا کو کنٹرول کرنے میں چین نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ فی الحال ہمارے پاس چین کا ہی ماڈل ہے جس کے ذریعے ہم اس وبا پر کنٹرول کرسکتے ہیں۔میں تمام میڈیا کو کہتا ہوں کہ وہ اپنے معمول کے سیاسی ٹاک شوز کو کرونا شوز میں بدل دیں۔ قوم کی رہنمائی کریں کہ اسے اس صورت حال میں کیا کرنا ہے۔ کرونا سے نبرد آزما ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی حوصلہ افزائی کریں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ جہاں پر انہیں اپنی فورس کو اس موذی وبا سے بچانا ہے، وہیں ذخیرہ اندوزوں اور جرائم پیشہ افراد سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہے، کیونکہ اگر ان کے اپنے لوگ ہی اس موذی وبا کا شکار ہو گئے تو پھر انتشار پھیلنے کا خطرہ ہوگا، اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں دن رات ایک کر دیں۔

میں ایک اور اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے کھانے پینے کی اشیاء کی یا ادویات کی ذخیرہ اندوزی کی، انہیں بحق سرکار ضبط کر کے متاثرین میں مفت تقسیم کر دیا جائے گا اس لیے ضرورت کی اس گھڑی میں سماج دشمن بننے کی بجائے سماج دوست بننے کی روایت اپنائیں۔

ہمارے جو لوگ ملک سے باہر کام کر رہے ہیں ان کے لیے سفارت خانوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ ان حکومتوں سے رابطے میں رہیں۔یقیناً وہ جہاں جہاں ہیں ان ممالک میں علاج معالجے کی سہولیات بھی پاکستان سے بہت بہتر ہیں۔

میں صوبائی حکومتوں سے کہتا ہوں کہ وہ ہنگامی اقدامات کریں اور اپنے بجٹ کو کرونا سے نمٹنے کے لیے وقف کر دیں، بالخصوص سندھ جو سب سے زیادہ متاثرہ ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ سندھ حکومت نے اس بحران سے نمٹنے میں غیر معمولی سرگرمی دکھائی ہے۔

میں علما اور آئمہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مساجد میں اجتماعات کو معطل کر دیں اور لوگوں کو کہیں کہ وہ ہنگامی صورت حال میں گھروں میں ہی نماز ادا کریں۔ بلکہ گھروں میں ہی جماعت کروائی جائے تاکہ ہمارے بچے بھی نماز پنجگانہ کے عادی ہو سکیں۔ میں اس جمعہ کو یوم دعا منانے کا اعلان کرتا ہوں، تمام قوم گھروں میں رہتے ہوئے توبہ استغفار کرے اور اس موذی مرض سے نجات کے لیے دعا کرے۔

میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں روزانہ کی بنیاد پر آپ سے مخاطب ہوا کروں گا اور روزانہ کی اپ ڈیٹ اور حکومتی اقدامات آپ سے شیئر کروں گا۔

اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو


عمران خان
وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ