کراچی میں گرنے والا ائیر بس طیارہ کتنا پرانا اور محفوظ تھا؟

لاہور سے کراچی جانے والی پرواز ائیر بس کمپنی  A320-214 ماڈل کا جہاز تھا جو فرانس میں بنایا گیا تھا۔

(ٹوئٹر)

لاہور سے کراچی جانے والا بدقسمت مسافر طیارہ جو اترنے سے پہلے گر کر بتاہ ہوگیا وہ ائیر بس کمپنی کا بنا اے320 تھا۔

ایئر بس کمپنی کا یہ جہاز کتنا پرانا تھا، اس میں کتنے مسافروں کی گنجائش موجود ہوتی ہیں، ایئر بس کا طیارہ کتنی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے اور پاکستان نے کب سے ائیر بس کے اس جہاز کو ہوائی بیڑے میں شامل کیا، انڈپینڈنٹ اردو نے ان سارے سوالات  کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔

پی آئی کے ترجمان اطہر نے انڈپینڈںٹ اردو کو بتایا کہ پی آئی اے نے ایمرجنسی کال سینٹر فعال کر دیا ہے اور جیسے جیسے مزید معلومات آئیں گی تو میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی جائیں گی۔

ائربس 320-214 طیارہ کتنا پرانا تھا؟

لاہور سے کراچی جانے والی پرواز ائیر بس کمپنی A320-214 ماڈل کا یہ طیارہ فرانس میں بنایا گیا تھا۔ پی آئی اے نے اسے آئرلینڈ کی ایک کمپنی ایوی ایشن ہاؤس سے 2014 میں لیز پر لیا تھا۔

ائیر بس کے A320 ائیر کرافٹ میں 100 سے لے کر 240 مسافروں کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ سماجی فاصلے کی وجہ سے اس پرواز میں مسافروں کی تعداد کم تھی۔ اس کے علاوہ دوران پرواز اس طیارے کی وزن اٹھانے کی گنجائش77000  کلو گرام اور لینڈنگ کے وقت 64500  کلو گرام ہوتی ہے۔

ایوی ایشن معاملات کے ماہر صحافی طاہر عمران میاں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان ائیر بس کا بہت پرانا خریدار ہے اور اب تک پاکستان ائیر بس کے تقریباً سو جہاز استعمال کر چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 1980 میں ائیر بس سے جہاز لینے شروع کیے۔

طاہر عمران نے بتایا اب تک پاکستان ائیر بس کے 12 عدد A310 جہاز، 12 عدد A310 جب کہ 12 جو اب گیارہ رہ گئے ہیں A320  جہاز استعمال کر رہا ہے۔

طاہر عمران نے بتایا کہ A310  جہاز نواز شریف کے دور میں پی آئی اے نے فلیٹ سے نکال دیا تھا جب کہ 2014 سے A320 ائیر بس جہاز چلائے جا رہے ہیں۔

عمران طاہر نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارے کو پاکستان 2014  سے استعمال کر رہا تھا۔

یہ جہاز ڈرائی لیز یعنی عملے کے بغیر لیز پر لیا گیا تھا اور اس سے پہلے یہ جہاز چائنہ ایسٹرن ائیر لائن کے زیر استعمال تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ اس جہاز نے پہلی پرواز اگست 2004 میں کی تھی یعنی یہ جہاز محض 15 سال پرانا تھا۔

پی آئی اے کی اس طیارہ سے متعلق ویب سائٹ پر دستیاب تفصیلات کے مطابق یہ 47 ہزار سے زائد گھنٹوں کی پرواز مکمل کر چکا تھا۔ اسے نومبر 2019 میں سول ایویشن کے ڈائریکٹر جنرل ائر کموڈور نیئر ایچ فاروقی نے ایک سال کے لیے ائر ورتھینس کا سرٹیفیکٹ دیا تھا۔ 

اسی طرز کے ایک طیارے نے 2007 میں 60 ہزار گھنٹے پرواز کی حد بھی پار کی تھی۔ لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر طیارے کی باڈی اور انجن اچھی حالت میں رکھے گئے ہوں تو یہ جہاز کافی طویل عرصے تک چل سکتے ہیں۔ دنیا میں بعض فضائی کمپنی اسی ماڈل کے 30 اور 27 سال پرانے طیارے بھی چلا رہی ہیں۔

اے 320 کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ محفوظ ترین طیاروں میں سے ایک ہے اور اس میں سفر کرنے والا گاڑی میں سفر کرنے والے سے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

دنیا میں ان کی تعداد 24 سو کے قریب ہے جو زیر استعمال ہیں اور محض نو کو اب تک حادثے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایئر بس A300 کی کہانی

یہ 1960 کی دہائی تھی جب فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے محسوس کیا کہ امریکہ ہوا بازی کے میدان میں آگے جا رہا ہے اور اب یورپ کو ہوابازی کی جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنا پڑے گا۔

اسی سلسلے میں ان تینوں ممالک کے نمائندہ وزرا  نے جولائی 1967  میں ہوابازی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے اور اسی معاہدے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک ایسا جہاز بنایا جائے جو مسابقت کی فضا برقرار رکھے۔ اسی معاہدے کے مطابق انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایئر بس بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جایئں گے۔

اس وقت تک برطانیہ اور فرانس دنیا کا پہلا سپر سانک ایئر لائنر 'کنکارڈ' بھی بنا چکے تھے تاہم ایئر بس  کمپنی کے مطابق کنکارڈ طیارون کا بنایا جانا ایک مہنگا عمل تھا۔

ایئر بس کی تاریخ کے اوراق میں لکھا گیا ہے کہ جولائی 1967  میں فرانس اور برطانیہ پہلے سے کوشش کر رہے تھے کہ ایسے کمرشل طیارے بنائے جائیں جن میں مسافروں کی گنجائش مختلف ہو تاکہ مسافروں ہی کی تعداد کے لحاظ سے جہازوں کو کسی بھی روٹ پہ چلایا جا سکے۔ ان کا حتمی ہدف امریکہ سے مقابلہ تھا۔

تاہم انہوں نے بعد میں مشترکہ تعاون سے ایک بہتر اور عمدہ ٹیکنالوجی کا جہاز تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسی برس ایک فرانسیسی انجینئر روگر بیٹیلی کو ایئر بس300  پروگرام کا ٹیکنیکل ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا۔ ہنری زیگلر اس فرم (سڈ ایوی ایشن) کے صدر تھے جسے یہ جہاز بنانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

جرمن سیاستدان فرانز جوزیف اس طیارہ سازی کے لیے سپروائزری بورڈ کے سربراہ مقرر کیے گئے۔

یہ تین افراد 'ائیر بس کے باپ' کہلاتے ہیں۔

ایئر بس پروگرام شروع کرنے کے معاہدے پر 1969  میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے دستخط  کیے۔
اسی دوران ایئر بس کے انجن کے حوالے سے ماہرین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آ گئیں۔ کوئی کہتا تھا کہ ایئر بس جہاز دو انجن پر سفر کر سکے گا کسی کا خیال تھا کہ اس کے علاوہ تین طاقتور انجن مزید ہونے چاہئیں تاکہ امریکہ میں پہلے سے بننے والے تین انجنوں والے طیاروں کا مقابلہ کر سکے۔

ان سارے مراحل سے گزرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ 250  مسافروں کی گنجائش والا طیارہ بنایا جائے گا جو تین انجنوں پر 1200  ناٹیکل مائلز(تقریبا 2300  کلومیٹر) تک کا سفر مسلسل کر سکے گا اور اسی طیارے کو A300B  کا نام دیا گیا جو 1969  میں لانچ ہوا۔ اس طیارے سے ایئر بس کمپنی کا آغاز  ہوگیا۔

ایئر بس پروگرام اس وقت بحران کا شکار ہوگیا جب برطانیہ  نے ائیر بس پروگرام سے علیحدگی کا اعلان کیا۔

اس کی وجہ ایئر بس کمپنی کے مطابق یہ تھی کہ برطانیہ پہلے سے دو طیارے بنا رہا تھا۔

تاہم برطانیہ کے علیحدہ ہونے کے بعد جرمنی نے اس پروگرام کے 50  فیصد اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا اور شرط عائد کی کہ فرانس باقی 50  فیصد اخراجات برداشت کرے گا۔

اسی معاہدے میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ فرانس ایئر بس کے کاک پٹ(جہاز کا وہ حصہ جہاں پائلٹ بیٹھتا ہے)، کنٹرول سسٹم اور لوئیر سیکشن بنائے گا، جرمنی ایئر بس کا نچلا حصہ اور درمیان کے اوپر والا حصہ تیار کرے گا اور سپین کو جہاز کی دم بنانے کا ٹاسک دیا گیا۔

سال 1970 میں فرانس اور جرمنی کی چار کمپینوں کی باقاعدہ شراکت داری کے تحت فرانس میں ہیڈ کوارٹر بنانے پر اتفاق ہوا۔

250 مسافروں کی گنجائش والا پہلا جہاز  A300B   بنانے کے بعد ایئر بس نے مارکیٹ کی ڈیمانڈ دیکھتے ہوئے270  مسافروں کی گنجائش والا طیارہ بنانے کا فیصلہ کیا اوریوںA300B  اس کے بعد A300B2  میں تبدیل ہو گیا۔

ستمبر 1970  میں ہی ائیر بس کو چھ طیاروں کا پہلا آرڈر ائیر فرانس سے مل گیا۔

  جب ایئر بس نے ایشیا مارکیٹ میں قدم رکھا

ائیر بس A300B کے بعد ایئر بس نے محسوس کیا کہ اب زیادہ طویل سفر کرنے والے طیاروں کی طرف جانا چاہیے۔ انھوں نے کورین ایئر لایئنز کے ساتھ بات شروع اور یہ پہلی بار تھا کہ ایئر بس یورپ سے باہر کی مارکیٹ میں قدم جما پاتی۔

کورین ایئر لائن نے سال 1974  میں ائیر بس سے چار طیارے خریدنے کا معاہدہ کر لیا بعد میں اسی کمپنی کے بنائے گئے ایئر بس طیارے ایشیا کے دیگر ممالک نے استعمال کرنا شروع کر دیے۔

A320 تک کا سفر

ائیر بس نے1978  میں A310  ائیر کرافٹ کے بعد ڈیزائن اور ٹیکنالوجی مزید بہتر کر کے کم رینج کی 'فلائی بائی وائر' A320 بنانے کا فیصلہ کیا۔

اس ٹیکنالوجی میں جہاز کا وزن کو کم اور فلائٹ کے کنٹرول نظام کو مزید بہتر بنایا گیا۔

ایئر بس کے مطابق فلائی بائی وائر ٹیکنالوجی میں جہاز کو کمپیوٹر کے ذ یعے  چلایا جاتا ہے جس میں پائلٹ  اور جہاز کے عملے کو زیادہ ٹریننگ کی ضرورت نہیں پڑتی اور اسی سے ایئر لائنز کو بھی فائدہ ہوتا ہے کیوں کہ ان کو پائلٹس اور عملے کی ٹریننگ پر زیادہ اخراجات نہیں اٹھانے پڑتے۔

 اس ایئر بس میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کا کیبن بڑے سائز کا بنایا گیا ہے جس میں ائیر لائن ضرورت کے وقت مزید سیٹس لگا سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان