پاکستان اٹلی سے کیا سبق سیکھ سکتا ہے؟

عالیہ صلاح الدین کے مطابق کرونا وائرس کے حوالے سے اٹلی کی بہتر ہوتی ہوئی صورت حال میں پاکستان کے لیے کچھ سبق ہیں۔

اٹلی میں مقیم صحافی عالیہ صلاح الدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرونا (کورونا) وائرس کے حوالے سے بگڑتے حالات دیکھتے ہوئے وہ سمجھتی ہیں کہ اٹلی کی بہتر ہوتی ہوئی صورت حال میں پاکستان کے لیے کچھ سبق ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اٹلی نے سب سے پہلا سبق یہ سیکھا کہ لاک ڈاؤن کام کرتا ہے۔ 'لاک ڈاؤن جتنا جلدی ہوگا اور جتنا سخت ہوگا، اتنا ہی مختصر اور کامیاب ہوگا۔'

انہوں نے مزید کہا: 'ہم نے یہ بھی جانا کہ لاک ڈاؤن غریب لوگوں کے لیے بہت مشکل پیدا کر دیتا ہے، مگر ہم نے یہ سیکھا کہ ان کو کھانا کھلانا اور ان کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اٹلی نے سیکھا ہے کہ کرونا وائرس ایک فلو نہیں ہے اور تین دن کے نزلے زکام کے بعد 90 فیصد لوگ ٹھیک نہیں ہوجاتے۔ اٹلی میں جتنے لوگوں کو یہ وائرس ہوا ہے ان میں سے 14 فیصد کا انتقال ہوچکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عالیہ کے مطابق: 'ہم نے یہ سیکھا کہ ایسٹر چرچ جائے بغیر بھی ہو سکتا ہے اور عید شاپنگ کیے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔'

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اٹلی میں عید سے ایک ہفتہ پہلے مساجد کھول دینے کی اجازت تھی لیکن اسلامک سینٹرز نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ عید کے بعد مساجد کھولیں گے۔  

ان کے بقول: 'ہم نے یہ سیکھا کہ جب ڈاکٹرز التجا کرتے ہیں کہ آپ اپنے گھروں میں رہیں، سماجی فاصلہ رکھیں تو وہ صرف لوگوں سے بات نہیں کر رہے ہوتے، وہ حکومت سے التجا کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی التجا میں کوئی دم نہیں اگر اس کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازی نہ ہو۔'

عالیہ کے مطابق: 'ہم نے یہ سیکھا کہ فیز ٹو صرف کہہ دینے سے نہیں ہوتا، اس کے لیے وائرس کے اعدادوشمار میں کمی ضروری ہے۔ سمارٹ لاک ڈاؤن ممکن نہیں ہے اور ایس او پیز صرف کاغذ پر لکھ کر نہیں بن جاتے۔'

ان کے مطابق اطالوی لوگوں نے ایک اہم سبق لیڈرشپ کے بارے میں سیکھا۔

ان کا کہنا تھا: 'یہاں کے وزیر اعظم بہت کمزور تھے۔ بہت سے لوگ ان کا نام بھی نہیں جانتے تھے، لیکن اس بحران نے انہیں ایک لیڈر بنا دیا۔ پہلے دن سے لے کر آج تک وہ اس سنجیدگی سے اس بحران سے نمٹ رہے ہیں کہ ان کے غلط فیصلوں پر بھی لوگ ان کی نیت پر شک نہیں کرتے۔'

انہوں نے کہا کہ اطالوی لوگ بڑے حیران ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے پاس تو کوئی مثال نہیں تھی لیکن باقی ممالک نے ہمیں دیکھ کر کچھ کیوں نہیں سیکھا؟

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا