ٹرمپ کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ: ملی بھگت نہیں مگر مکمل بریت بھی نہیں

2016 میں ہونے والے امریکی انتخابات میں روسی تعاون اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزامات کے معاملے پر تحقیقاتی رپورٹ کا خلاصہ منظرعام پر آ گیا۔

فوٹو کریڈٹ: اے پی

2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے بارے میں تحقیقات کرنے والے خصوصی امریکی تفتیش کار رابرٹ ملر کی رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ملی بھگت نہیں کی، تاہم کئی سوالات ابھی باقی ہیں۔

22 مہینوں کی محنت کے بعد تحریر کردہ اس رپورٹ کا چار صفحات پر مبنی خلاصہ اٹارنی جنرل ولیم بار نے جاری کیا ہے جنہیں صدر ٹرمپ نے خود اس عہدے کے لیے منتخب کیا تھا۔ انہوں نے کانگریس کو بھیجے گئے خلاصے میں لکھا ہے کہ ٹرمپ ملی بھگت میں ملوث نہیں تھے، تاہم انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’اگرچہ اس رپورٹ اس نتیجے پر نہیں پہنچی کی صدر نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے، تاہم یہ انہیں بری بھی نہیں کرتی۔‘

خلاصے کے مطابق ملر نے تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا مسئلہ اٹھاتے ہیں۔ 

ملر کی رپورٹ ہے کیا؟

رابرٹ ملر ایف بی آئی کے خصوصی تفتیش کار ہیں جنہیں 2016 کے انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے پاس خصوصی اختیارات تھے کہ وہ امریکی حکومت کے کسی بھی ادارے بشمول صدر کے خلاف شواہد اکٹھے کر سکتے تھے۔ انہوں نے یہی کیا اور دو برس کی محنت کے بعد سینکڑوں صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کی۔ اٹارنی جنرل بل بار نے کانگریس کو اسی رپورٹ کا چار صفحات پر مبنی خلاصہ بھیجا ہے جس کے اہم نکات کچھ یہ ہیں:

روس کے ساتھ ملی بھگت

بار نے لکھا ہے کہ رابرٹ ملر کی رپورٹ میں صدر ٹرمپ کو روس کے ساتھ سازباز کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا، نہ ہی 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والے افراد میں سے کوئی بھی کسی مشکوک شخص کے ساتھ رابطے میں پایا گیا۔

تاہم ملر کی تحقیقات کے مطابق اس امر کے بینہ ثبوت موجود ہیں کہ روس امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی سازش میں ملوث تھا، چاہے وہ ہلیری کلنٹن کا ای میل اکاؤنٹ ہیک کرنے کا معاملہ ہو یا پھر غلط خبروں پر مشتمل پروپیگنڈے کی سازش ہو، ان معاملات میں روس ملوث پایا گیا۔

قانون دانوں کے نام ایک خط میں بل بار کی جانب سے انکشاف کیا گیا کہ رابرٹ ملر نے دوران تحقیق ایسے بہت سے افراد کا سراغ لگایا جو روس کے ساتھ رابطوں میں تھے اور امریکی انتخابات کے نتائج کو بدلنے کے لیے انہوں نے بار بار ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والوں سے رابطہ کیا۔

انصاف کی راہ میں رکاوٹ

ٹرمپ کو سب سے بڑا خطرہ اس بات سے تھا کہ انہیں انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے کا مرتکب قرار دیا جاتا، خاص طور پر اس صورت میں جب انہوں نے 2017 میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو برطرف کیا تھا اور وہ اسی رپورٹ سے متعلق تحقیقاتی ٹیم میں بھی شامل تھے، لیکن ان کے جانشین رابرٹ ملر کی جانب سے تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق اس چیز کے ثبوت بھی ناکافی ہیں کہ صدر ٹرمپ تحقیقاتی نتائج پر اثر انداز ہوئے ہوں یا انہوں نے انصاف کی فراہمی کے راستے میں کوئی رکاوٹ ڈالی ہو۔

مکمل بری الذمہ نہیں

 دوسری طرف امریکی اٹارنی جنرل بل بار کی جانب سے اس رپورٹ میں یہ موقف بھی سامنے آیا: ’اگرچہ اس رپورٹ میں ایسا کچھ نتیجہ نہیں نکل سکتا جو صدر ٹرمپ کو قصوروار ٹھہراتا ہو لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ ان پر موجود تمام الزامات اس رپورٹ سے دُھل جاتے ہوں۔ رپورٹ انہیں مکمل طور پر بری الذمہ بھی قرار نہیں دیتی۔‘

اس رپورٹ کے مطابق نہ ہی خصوصی کونسل نے کسی قسم کی مزید تحقیقات کی سفارش کی اور نہ ہی کوئی ایسے حقائق باقی ہیں جنہیں عوام سے چھپایا گیا ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اٹارنی جنرل بل بار کون ہیں؟

ولیم بار اس سے قبل بش سینیئر کی حکومت میں بھی اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں اور انہیں صدر ٹرمپ نے دسمبر 2018 میں سابق اٹارنی جنرل جیف سیشن کے استعفے کے بعد اٹارنی جنرل تعینات کیا تھا۔ حالیہ تقرری سے قبل بار نے ملر کی ٹیم کے بعض ارکان پر یہ کہہ کر تنقید کی تھی کہ ان کے ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک تحریر بھی لکھی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملر کے پاس صدر ٹرمپ کی جانب سے قانون کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔ 

حزبِ اختلاف کیا کہتی ہے؟

امریکی کانگریس کی سپیکر اور ڈیموکریٹ پارٹی کی رہنما نینسی پیلوسی اور سینیٹ میں ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے بل بار کے خط کے بعد ایک مشترکہ بیان میں لکھا: ’اٹارنی جنرل بل بار کے خط میں جتنے سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں، اس سے اتنے ہی نئے سوال اٹھتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید لکھا کہ کہ رپورٹ میں چونکہ ٹرمپ کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دیا گیا اس لیے مکمل رپورٹ فوری طور پر منظرِ عام پر لائی جائے۔  

ٹرمپ کی سیاسی فتح؟

ملر کی رپورٹ کے نتائج کو ٹرمپ کی سیاسی فتح قرار دیا جا رہا ہے کہ کیوں کہ یہ ان کی صدارت کو لاحق سب سے بڑا خطرہ تھا۔ رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں ’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائے رکھیں‘ کا نعرہ لگایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا: ’یہ (مجھے) غیرقانونی طور پر نیچا دکھانے کی کوشش تھی جو ناکام رہی۔‘

 

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا