’میرے شوہر نے زچگی کے دوران میری مدد کی‘

گھر پر بچے کی پیدائش کا احساس حیرت انگیز تھا، میں نے خود کو ایک دیوی کی طرح محسوس کیا: شارلٹ ڈیلے

تصویر: پوپی مارڈیل

آج کے ترقیاتی دور میں گھر پر بچے کی پیدائش کا خیال کچھ عجیب سا لگے گا مگر مغربی معاشرے سے تعلق رکھنے والی خواتین اس کی حمایت میں دلائل دیتی بھی نظر آتی ہیں۔

ان خواتین کا خیال ہے کہ گھر کسی کے لیے بھی سب سے زیادہ آرام دہ جگہ ہوتی ہے اور ہسپتال کے وارڈ سے زیادہ نجی بھی، جہاں پیدائش کے چند گھنٹوں بعد آپ مشروب کے ایک جام سے لطف اندوز بھی ہوسکتی ہیں۔

تاہم زچگی کا عمل غیر متوقع بھی ہو سکتا ہے۔ بعض خواتین کے لیے یہ تکلیف کے بغیر صرف گھنٹوں کی بات ہے تو بعض کے لیے ناقابل برداشت درد اور طویل دورانیے کا ازیت ناک مرحلہ جس کا اختتام ہسپتال کے بستر پر ہی ہوتا ہے۔

جدید دور میں بچوں کی ہسپتالوں میں پیدائش روایت بن چکی ہے لیکن حالیہ برسوں میں گھر پر زچگی کا عمل بھی مقبول ہو رہا ہے۔

بعض واقعات اس کی ترویج کا بھی باعث بنتے ہیں جیسا کہ جب سے بکینگھم محل نے اعلان کیا ہے کہ شہزادہ ہیلری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل اپنے پہلے بچے کی پیدائش کی تفصیلات کو خفیہ رکھیں گے تب سے اس بارے میں چہ مہ گویوں میں اضافہ ہوا ہے کہ شاہی جوڑا گھر پر بچے کی پیدائش کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

لیکن گھر پر پیدائش کے کیا فائدے ہو سکتے ہیں یا ہسپتال میں پیدائش کے مقابلے میں اس میں کیا خطرات ہیں؟ کیا آپ واقعی 20 منٹ بعد سیدھے بیٹھ کر شیمپین کے ایک جام سے لطف اندوز ہو سکتی ہیں اور سب سے اہم کیا آپ کا شوہر بچے کی پیدائش میں آپ کی مدد کر سکتا ہے؟

ان سوالوں کے جوابات کے لیے اولیویا پیٹر نے چند معروف خواتین سے اس بارے میں بات کی۔

’گھر پر بچے کی پیدائش سے ہمیں طاقت، اعتماد اور ناقابلِ بیان خوشی ملی‘

پوپی فیونرل کی بانی اور ڈائریکٹر پوپی مارڈیل نے گھر پر بچے کی پیدائش کے حوالے سے اپنے تجربات کے بارے میں بتایا کہ کیسے ایک دائی نے ان کو گھر میں زچگی کے حوالے سے قائل کیا۔

پوپی کہتی ہیں کہ دائی کے مشورے کے بعد وہ اور ان کے شوہر گھر میں بچے کی پیدائش کے حوالے سے پُرجوش تھے۔

’ہم نے اس سے پہلے گھر میں بچے کی پیدائش کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا لیکن دائی کے مشورے کے بعد ہمارے خیالات یکسر تبدیل ہو گئے اور میں نے سوچا مجھ سے سب سے زیادہ پیار کرنے والے شخص سے زیادہ کوئی اور میری یا میرے بچے کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا۔ ہماری بیٹی کی زچگی میں میرے شوہر نے اہم کردار ادا کیا، پیدائش کے بعد وہ اپنے والد کے ہاتھوں میں تھی۔ اُس رات ہماری بیٹی بستر پر ہمارے ساتھ لیٹی تھی۔  بطور والدین شروع کے چند ہفتے ہمارے لیے شاندار بھی تھے اور مشکل بھی تاہم میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ گھر پر پیدائش سے ہمیں طاقت، اعتماد اور ناقابلِ بیان خوشی ملی جو ایک اچھا آغاز تھا۔‘

’میرے شوہر کو زچگی کے فرائض انجام دینا پڑے‘

کِڈز انٹرٹینمنٹ بزنس ’ونڈر اڈوینچر‘ کی شریک بانی 40 سالہ ہیلین نرس بتاتی ہیں کہ کیسے ان کے شوہر کو زچگی کے فرائض انجام دینے پڑے۔

’2007 میں میں نے اپنے پہلے بچے کو گھر پر جنم دیا، میں نے اس کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ مجھے حمل کے دوران کم خطرہ کا سامنا تھا اور مجھے محسوس ہوا کہ ہسپتال بیمار لوگوں کی جگہ ہے اور میں خود کو بیمار تصور نہیں کرتی تھی۔‘

ہیلین اپنی مقامی دائی کی قابلیت کی معترف تھیں جن کے مشورے ان کے لیے معاون ثابت ہوئے تھے۔

 ’میری دائی نے یقین دہانی کرائی تھی کہ زچگی کے دوران پیچیدگی کی صورت میں انہیں جلد ہسپتال پہنچایا جا سکے گا۔ گھر پر رہنے سے میں زیادہ آرام دہ اور زیادہ مثبت محسوس کرتی ہوں۔ گھر پر بچے کی پیدائش کا تجربہ بہت اچھا تھا۔ میرے کمرے میں برتھ پول رکھ دیا گیا تھا جس میں، میں نے جارج کو جنم دیا۔ غسل کے بعد براہ راست اپنے بستر پر ہونے کا احساس شاندار تھا، کچھ دیر بعد میری دائی نے مجھے چائے کا ایک کپ اور ٹوسٹ پیش کیا۔‘

’مجھے لگتا ہے کہ سب سے اچھی بات یہ تھی کہ 24 گھنٹوں کے اندر ہمارا خاندان ننھے مہمان کے ساتھ ایک ہی بستر پر موجود تھا۔ جارج کے بعد میں نے دوسرے بچے کی پیدائش بھی گھر پر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاہم یہ اس سے بالکل الگ تجربہ تھا۔ حمل کے آخری مراحل میں دائی کا کہنا تھا کہ بچے کی حرکت آہستہ ہے، زچگی سے چھ گھنٹے قبل دائی ہسپتال جانے کا مشورہ دے کر گھر سے روانہ ہو گئی۔ کچھ دیر بعد مجھے درد شدید شروع ہو گیا اور مجھے لگا کہ بچہ ابھی باہر آنے لگا ہے۔ میرے شوہر نے ہسپتال فون کیا تاہم میں شدتِ درد سے چِلا رہی تھی۔ فون پر ہدایت لے کر میرے شوہر نے زچگی کے فرائض انجام دیے۔ تیسرے بچے کی ولادت بھی انہیں حالات میں ہوئی اس دوران بھی میرے شوہر میرے ہمراہ گھر پر موجود تھے جنہوں نے زچگی میں میری مدد کی۔‘

’مجھے یقین نہیں تھا کہ میرا بچہ بچ جائے گا‘

جینڈر کنسلٹنٹ مشیل گیما نے اپنے دونوں بچوں کی پیدائش کے لیے گھر کا انتخاب کیا تاہم سب کچھ منصوبہ بندی کے مطابق نہیں ہوتا۔

’میری ماں خود بھی بطور دائی لندن میں کام کرتی رہی ہیں اور میں ہمیشہ یہ سوچا کرتی تھی کہ ہسپتال بیماروں کے لیے ہوتے ہیں۔ اگر حمل کے دوران پیچیدگی نہ ہو تو گھر پر بچے کی پیدائش سے بہتر کوئی انتخاب ہو ہی نہیں سکتا۔‘

مشعل نے پہلے بچے کی پیدائش سے پہلے طویل عرصہ زچگی کے درد میں گزارا بلاآخر انہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا تاہم دوسرے بچے کی پیدائش گھر پر ہی ہوئی۔

’دوسرے بچے کی پیدائش نسبتاً مشکل تھی، زچگی کے دوران غیر متوقع صورتحال کے بعد دائی نے میرے ساتھی کو فوری ایمبولینس بُلانے کی درخواست کی۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی اور مجھے لگا شاید میرا بچہ بچ نہ پائے۔ تاہم ایمبولینس کی آمد سے پہلے ہی میں نے بچی کو جنم دے دیا تھا۔ تمام مشکلات کے باوجود میں خوش تھی کہ بچی کی پیدائش اپنے گھر پر ہی ہوئی تھی۔‘

’میرا شوہر برتھ پول کو گرم رکھنے کے لیے بھاگ رہا تھا‘

39 سالہ جو اوکونِل حمل اور زچگی کے دوران ہونے والی تکیف سے بچنے کے لیے دردکُش ادویات کے استعمال کے بارے میں سوچا کرتی تھیں تاہم بعد میں انہوں نے خود کو قدرتی عوامل کے سپرد کر دیا۔

’میرے خیالات اچانک بدل گئے جب میں نے برتھ پول کے بارے میں پڑھا، ایک ادارے سے چھ ہفتوں کے لیے برتھ پول کرائے پر حاصل کیا اور ایک مقامی دائی کی رہنمائی حاصل کی جنہوں نے گھر پر پیدائش کے خیال کی حوصلہ افزائی کی۔ زچگی کے دوران دو دائیوں کی موجودگی میں، میں برتھ پول میں موجود رہی جبکہ میرا شوہر اسے گرم رکھنے کے لیے ہنڈیا میں پانی اُبال رہا تھا اور اِدھر اُدھر بھاگ رہا تھا۔ میں اپنے گھر پر کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنی مرضی سے چیخ چلا سکتی تھی اور رات کو ہسپتال کے وارڈ کی بجائے اپنے بستر پر سو سکتی تھی۔‘

’دوسرے بچے کی پیدائش بھی گھر پر برتھ پول میں ہوئی جو کم تکیف دہ تھی اور صرف ایک روز بعد میں 15 میل تک سائیکل چلانے کے قابل ہو چکی تھی۔‘

’جب میں نے خود کو دیوی کی طرح محسوس کیا‘

35 سالہ شارلٹ ڈیلے کا ہسپتال میں اپنی پہلی بیٹی کی پیدائش کا تجربہ ناخوشگوار تھا لہٰذہ انہوں نے دوسرے بچے کی پیدائش گھر پر کرنے کا فیصلہ کیا۔

’میں نے ایک برتھ پول خرید کر اسے اپنے لیونگ روم میں رکھ دیا اور اس کے اوپر فینسی لائٹس نصب کرائیں جن کی روشنی کی چمک میں میری بیٹی نے جنم لیا۔ پیدائش کے کچھ دیر بعد میں اپنی بچی کے ساتھ اپنے لیونگ روم کے صوفہ پر بیٹھی تھی۔ میں نے اپنے بستر پر اخبار پڑھا اور پھر اپنے شوہر اور بیٹی کے ساتھ سونے چلی گئی۔‘

’گھر پر پیدائش کا احساس حیرت انگیز تھا، میں نے خود کو ایک دیوی کی طرح محسوس کیا۔ گھر پر پیدائش ایک محفوظ، خوبصورت اور بااختیار ہونے کا احساس ہے اور میں یہی چاہوں گی کہ تمام ماؤں کو اس کا تجربہ حاصل کرنا چاہے۔‘

     

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی گھر