ابنِ صفی کی عمران سیریز اور مظہر کلیم کی عمران سیریز: فرق کیا ہے؟

مظہر کلیم کے مطابق: ’ابن صفی کے ہاں عمران کا کردار ایک مسخرے کا تھا جو اپنی الٹی سیدھی حرکتوں سے مزاح پیدا کرتا ہے، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے عمران کے کردار کو اس کے ایک معیار تک پہنچایا۔‘

مظہر کلیم نے چھ سو سے زیادہ ناول لکھے (فیئر یوز)

چھ سو سے زائد عمران سیریز کے ناول اور بچوں کے لیے پانچ ہزار سے زائد چھوٹی کہانیاں لکھ کر ناول نگاری کی دنیا میں افسانوی شہرت رکھنے والے نامور ادیب، صحافی، کالم نگار، ممتاز براڈ کاسٹر اور معروف قانون دان ہم سب کے محبوب و مقبول مصنف جناب مظہر کلیم (ایم اے) کی آج 26 مئی کو تیسری برسی منائی جا رہی ہے۔

عہد گم گشتہ کے وہ بھی کیسے سنہرے سجیلے دن تھے۔ ہم گرمیوں کی طویل نہ ختم ہونے والی شاموں میں اپنے نصاب کی کتابوں کے علاوہ دنیا جہاں کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ ان کتابوں میں مظہر کلیم (ایم اے) کے عمران سیریز کے ناول بھی ہوتے تھے۔ مظہر کلیم صاحب ہر مہینے ایک تازہ ناول لکھتے جس کے انتظار میں ان کے چاہنے والے دیدہ و دل فرش راہ کیے ہوتے۔

ہمارے بچپن اور لڑکپن میں مظہر کلیم صاحب کے ناولوں کا حصول ہماری زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوا کرتا تھا۔ بعض اوقات کسی ناول کا ایک حصہ تو ہمارے پاس موجود ہوتا تو دوسرے حصے کا حصول ہی مقصدِ حیات بن جاتا۔ اس سلسلے میں اوچ شریف میں ہسپتال روڈ پر ملت صاحب کی لائبریری، درگاہ محبوب سبحانی کے قریب واقع خورشید صاحب کی ’عمران دی گریٹ لائبریری،‘ گرلز ہائی سکول کے ساتھ ماسٹر عبدالواحد صدیقی صاحب کی جاسوسی لائبریری کی خاک چھاننے اور پانچ روپے فی کرایہ پر عمران سیریز کے ناولوں کے حصول میں سرگرداں رہنے میں جو نشہ تھا اس کی کیفیت آج بھی دل کو گدگداتی ہے، حتیٰ کہ ہم نے بورڈنگ سکول کے قریب اپنے والد گرامی نسیم صاحب سے منسوب عمران سیریز کے ناولوں کی ایک لائبریری ہی قائم کر لی۔

پاک گیٹ ملتان کے مقام پر واقع ’یوسف برادرز‘ کے شو روم میں مظہر کلیم صاحب روزانہ سرشام اپنی موٹر سائیکل پر تشریف لاتے اور وہیں براجمان ہو کر بچوں کا ادب تخلیق کیا کرتے تھے۔ ان سے ہماری پہلی اور آخری ملاقات بھی اسی مقام پر ہوئی تھی۔ مصافحہ کے دوران ان کے گداز ہاتھوں کا لمس ابھی تک روح میں ہمکتا ہے۔ ان کو ناول لکھتے دیکھ کر ہمیں ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا تھا۔ ہماری آٹو گراف ڈائری میں ان کا آٹو گراف بیت جانے والے اسی خوبصورت لمحوں کی بازآفرینی ہے۔ یقیناً نسل نو میں کتب بینی اور کتب دوستی کو فروغ دینے میں مظہر کلیم صاحب کا بہت بڑا کردار ہے۔

مظہر کلیم صاحب ہمارے سرائیکی وسیب کے ایک ایسے لیجنڈ تھے جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ادب کی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ آپ عالمی شہرت یافتہ شخصیت اور اپنی ذات میں مکمل ادارہ تھے، پوری دنیا میں اپنے کمال فن سے نہ صرف اپنے خطے بلکہ اپنے ملک کا نام روشن کرنے والے اس عظیم تخلیق کار نے گذشتہ پانچ دہائیوں سے ایک زمانے کو اپنے سحر میں مبتلا رکھا، ان کی ہر تخلیق جذب و اسرار کا مجسمہ ہے جس کی ہر سطر میں منطق، مشاہدہ، تحقیق، تفتیش، تجسس و دیگر ذائقے ملتے ہیں جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں، جاسوی ناول نگاری میں ان کا منفرد اسلوب ایک ایسی ابدی شہرت کا باعث بنا جس کی ابتدا بھی وہ خود رہے اور انتہا بھی۔

22 جولائی 1942 کو ملتان کے ایک پولیس آفیسر حامد یار خان کے ہاں پیدا ہونے والے مظہر کلیم صاحب جب تک زندہ رہے بھرپور زندگی جیے۔ ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول دولت گیٹ سے حاصل کی، 1957 میں یہاں سے میٹرک کیا اور اس کے ایک سال بعد تک اسی سکول میں پڑھاتے رہے، بعد ازاں ایمرسن کالج ملتان سے ایف اے اور بی اے کیا، اس دوران ملتان میں پنجاب یونیورسٹی کا کیمپس شروع ہوا تو اس کے پہلے ہی سیشن میں ایم اے اردو کیا، ایم اے اردو کے بعد مختلف انشورنس کمپنیوں میں کام کرتے رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1965 میں مظہر کلیم صاحب کی زندگی میں دو اہم موڑ آئے، ایک تو اسی سال ان کی شادی برصغیر کے معروف شاعر اور صحافی اسد ملتانی کی صاحبزادی سے ہوئی، دوسرا یہ کہ انہوں نے اپنے ایک پبلشر دوست بی اے جمال کی فرمائش پر اپنی زندگی کا پہلا جاسوسی ناول ’ماکازونگا‘ لکھا۔ ان کے پہلے ناول نے جہاں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے وہیں یہ مستقبل میں جاسوسی ادب کے ایک بڑے ادیب کی راہ بھی ہموار کر گیا۔

1973 میں آپ بطور زرعی فیچر رائٹر ریڈیو پاکستان ملتان سے وابستہ ہوئے، سرائیکی وسیب کے مقبول ترین ثقافتی ریڈیو پروگرام ’جمہور دی آواز‘ کے لیے سرائیکی ڈرامے اور فیچرز لکھے، ان میں ایک ڈراما ’ادھی رات دا سجھ‘ بہت مقبول ہوا جو بعد میں ریڈیو بہاول پور سے بھی نشر ہوا، ’اتم کھیتی‘ سے کمپیئرنگ کا آغاز کیا، کئی عشروں تک ’جمہور دی آواز‘ میں کمپیئرنگ کے فرائض سرانجام دیتے رہے، وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے کیے جانے والے ایک سروے میں بطور براڈکاسٹر ان کی آواز کو ریڈیو ملتان کی سب سے پسندیدہ آواز قرار دیا گیا۔

1976 میں ملتان کے موقر روزنامہ ’آفتاب‘ میں نیوز ایڈیٹر اور بعدازاں میگزین ایڈیٹر کے طور پر صحافت کا شعبہ اپنایا، ’آفتاب‘ میں ان کالم ’تماشا میرے آگے‘ مسلسل تین سال شائع ہوتا رہا، تحقیقی فیچرز، کالم، ایڈیٹوریل، سماجی موضوعات پر مضامین غرض ہر کام میں ہاتھ ڈالا۔ 1978 میں وکالت کے شعبے میں باقاعدگی سے قدم رکھا اور آخر دم تک اس شعبے سے وابستہ رہے۔

اس میں شک نہیں کہ عمران سیریز کے خالق ابنِ صفی ہیں اور انہی نے اس سیریز کو بامِ عروج تک پہنچا دیا تھا، مگر ان کے بعد مظہر کلیم کی عمران سیریز کو بھی بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اپنے ایک انٹرویو میں مظہر کلیم صاحب نے عمران سیریز شروع کرنے کے خیال پر یوں روشنی ڈالی تھی:

’میرے ایک دوست بی اے جمال ہیں، انہوں نے بوہڑ گیٹ میں اپنی ایک لائبریری اور ایک پبلشنگ ہاؤس بنا رکھا تھا۔ وہ اپنے ادارے کی طرف سے جاسوسی ادب شائع کرتے رہتے تھے لیکن ان کے پاس اچھے لکھاری نہیں تھے جن کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ بک جائیں۔ سو وہ کبھی کہیں سے مسودہ منگواتے‘ کبھی کسی سے کہانی لیتے‘ کبھی کوئی انڈیا کا مسودہ چھاپ دیتے لیکن ان کی کتاب بک نہیں رہی تھی۔ اس دوران ابن صفی صاحب کا انتقال ہو گیا تو مختلف لوگ جعلی ناموں سے ابن صفی بننے کی کوشش کر رہے تھے، کوئی این صفی تھا، کوئی نجمہ صفی تو کوئی کسی اور نام سے سامنے آ گیا، میرے یہ دوست بھی ان دنوں ایسی ہی کہانیاں چھاپ رہے تھے۔ ایک دن وہ پریشانی کے عالم میں میرے پاس آئے اور اپنے مسائل کا اظہار کیا تو میں نے کہا میں آپ کو ناول لکھ دیتا ہوں شرط صرف اتنی ہے کہ آپ میرے نام سے شائع کریں۔

انہوں نے فوراً ہامی بھر لی تو میں نے اپنا پہلا جاسوسی ناول ’ماکا زونگا‘ لکھا جو افریقی قبائل کے پس منظر میں تھا۔ وہ پہلا ناول چھپا تو اسے اتنی پذیرائی ملی کہ وہ دن ہے اور آج کا دن میری مقبولیت اسی طرح برقرار ہے۔ اس دوران میں نے جتنی بھی کوشش کی کہ میں جاسوسی ادب سے بھاگ جاؤں لیکن پبلشرز اور قاری مجھے نہیں چھوڑتے۔‘

مظہر کلیم صاحب نے عمران سیریز میں مزید توسیع کی اور اس میں کئی نئے کرداروں کو متعارف کروایا۔ ان کے تخلیق کردہ کرداروں کی جامعیت اور ہمہ جہتی ہمارے لیے بڑی متاثر کن ہوا کرتی تھی۔ بلکہ ہماری شخصیت سازی میں ان کے کرداروں کا کلیدی کردار ہے۔ علی عمران، ٹارزن، ہرکولیس، آنگلو بانگلو، چلوسک ملوسک، چھن چھنگلو اور عمرو عیار کے کرداروں پر مشتمل کہانیاں ہمارے تخیل کی سنہری دنیا کو آباد رکھتی تھیں۔

یوں تو عمران سیریز دوسرے ادیبوں نے بھی لکھی مگر جو شہرت اور مقبولیت مظہر کلیم کے حصے میں آئی، وہ دوسروں کو نصیب نہیں ہو سکی۔ 

مظہر کلیم اور ابنِ صفی کے عمران میں کیا فرق ہے؟ اس کی وضاحت انہوں نے کچھ یوں کی: ’جب میں نے عمران سیریز لکھنا شروع کی تو ابن صفی صاحب کا انتقال ہو چکا تھا اور عمران کا کردار ان دنوں نقلی ابن صفیوں کے ہاتھ میں تھا، لیکن اس کو میں نے لکھنا شروع کیا تو یہ کردار آہستہ آہستہ ڈویلپ ہوتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ عمران کا کردار ابن صفی کے ہاں اور میرے ہاں بالکل مختلف ہے، بلکہ میں نے پہلی کہانی سے ہی عمران کی انفرادیت قائم کر دی تھی۔

’ابن صفی کے ہاں عمران کا کردار ایک مسخرے کا تھا جو اپنی الٹی سیدھی حرکتوں سے مزاح پیدا کرتا ہے، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے عمران کے کردار کو اس کے ایک معیار تک پہنچایا اور معیار بھی ایسا جو لوگوں نے پسند کیا، یوں میں لکھتا چلا گیا۔‘

مظہر کلیم صاحب نے ابن صفی کے انتقال کے بعد تقریباً 40 سال تک باقاعدگی سے عمران سیریز کو جاری رکھا، جس دوران انہوں نے 600 سے زیادہ ناول لکھے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے اس سیریز میں نئے کردار بھی متعارف کروائے، جن میں ٹائیگر، جوانا اور کیپٹن شکیل شامل ہیں۔ 

26  مئی 2018 کو آسمان ادب کا یہ درخشاں ستارہ تین نسلوں پر محیط اپنے لاکھوں قارئین کو سوگوار کر کے دور کہیں افق میں ڈوب گیا۔ ان کی وفات پر ہمیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے ہمارے بچپن کا ایک دروازہ بند ہو گیا۔ ایک عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی مظہر کلیم صاحب کے لکھے ہوئے ناولز ذہن سے محو نہیں ہوئے۔ گاہے گاہے جب ہمارا دل کھوئے ہوئوں کی جستجو میں مچلتا ہے اور دوبارہ اسی طلسماتی دنیا کی دنیا میں پہنچنے کو بے قرار ہوتا ہے تو ہم اپنی لائبریری میں سے عمران سیریز کا ناول اٹھا کر پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ادب