موت اور اتنی سریلی موت!

حالیہ دور میں موت کو بھی کاروبار بنا دیا گیا ہے۔ جانیے کہ مرنے کے بعد لواحقین کے پاس کیا کیا آپشنز ہیں۔

ایک کمپنی ایسی نکلی ہے جو مرنے والے کی راکھ کو گراموفون کے ریکارڈ کی شکل میں ڈھال لیتی ہے۔ تصویر: بشکریہ پکسا بے

آپ نے وہ مثل تو سنی ہو گی، زندہ ہاتھی لاکھ کا، مرا ہوا سوا لاکھ کا۔ یہی حال حضرتِ انسان کا بھی ہے کہ زندگی میں تو خرچے چلتے رہتے ہیں، موت کو بھی کاروبار بنا دیا گیا ہے۔

کفن دفن اور فاتحہ اور چہلم وغیرہ پر تو لواحقین کا بھاری خرچ اٹھتا ہی ہے، مغرب کے تیز دماغوں نے دوسرے میدانوں کی طرح اس میدان میں بھی ایسی ایجادات کی ہیں کہ موت کو یوں باقاعدہ کاروبار بنا کر رکھ دیا ہے کہ اگر ہمارے چچا غالب زندہ ہوتے تو یقیناً اپنے مصرعے پر نظرِ ثانی کرتے کہ ’مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا۔‘

ایک خبر تو آپ نے سنی ہو گی۔ ایک کمپنی ایسی نکلی ہے جو مرنے والے کی راکھ کو گراموفون کے ریکارڈ کی شکل میں ڈھال لیتی ہے۔ یہی نہیں، یہ کمپنی اس ریکارڈ پر مرحوم کی آواز بھی ریکارڈ کر لیتی ہے، چنانچہ آپ اپنے گراموفون پر یہ ریکارڈ بجائیں تو ایسا لگے گا جیسے آنجہانی خود بول رہے ہیں۔ بلکہ لگے گا کیا، خود ہی تو بول رہے ہیں، منہ سے نہ سہی، بدن سے سہی۔

  یہیں کہیں ہیں وہ آنکھیں، وہ بال گال وہ ہونٹ
وہ میرے پاس سے اُٹھ کر کہیں گیا ہی نہیں

خریدار چاہے تو اُس کی خواہش اور خرچے پر اِس یادگاری ریکارڈ میں مزید خاص فیچروں کا اضافہ ممکن ہے۔ مثال کے طور پر متعلقہ ریکارڈ کے لیبل یعنی پیشانی پر مرحوم کی تصویر تو بنوائی جاسکتی ہے۔ پھر اس تصویر کشی میں برُوئے کار آنے والے پینٹ میں انہی کی راکھ حسبِ ذائقہ شامل کی جا سکتی ہے۔ اس طرح جہاں آنجہانی اپنے پسندہدہ نغموں کے ذریعے اور ان کے مابین اپنی موجودگی ظاہر کرسکتے ہیں، وہیں ان کے تار و پود البم کے رنگ و روغن کا جزو بن کے آپ کی آنکھوں میں جھانک سکتے ہیں۔ یوں آپ جینے کے تو وہ مرنے کے مزے لُوٹ سکتے ہیں۔

ایک اور کمپنی نے سوچا کہ کیوں نہ اس اختراع کو آگے لے جایا جائے۔ وہ یہ کرتے ہیں کہ آپ اپنے عزیز کی راکھ مرتبان میں ڈال کر ان کے پاس لے جائیے تو وہ اسے کسی خصوصی عمل سے گزار کر ہیرا بنا دیں گے۔ آپ چاہیں تو اس ہیرے کا ہار بنا کر گلے میں پہن لیں اور یوں اپنے عزیز سے ہمہ وقت محوِ لمس رہیں۔

تاج محل کی اہمیت سے انکار نہیں، لیکن آج کی ہُوئی دنیا میں ایک محبت کا اس سے زیادہ شاعرانہ کیا انجام ہو گا کہ کوئی اپنے لیے قیمتی شخص کی راکھ کو ہیرے میں ڈھلوانے کے بعد، دل کی شکل کے طلائی لاکٹ میں پرو کر ہمیشہ کے لیے سینے سے لگا لے۔

کاش میں تیرے بنِ گوش کا بندا ہوتا

کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا

جے میں ہوندی ڈھولنا سونے دی تویتڑی

اگر آپ یا آپ کے مرحوم عزیز ماحولیات میں دلچسپی رکھتے تھے تو ایک اور کمپنی میدان میں آ گئی ہے، جو راکھ کو مرجان میں منتقل کرکے اسے کسی قریبی سمندر کی تہہ میں نصب کر دیتی ہے اور یوں آنجہانی کی ابدیت کے ساتھ ساتھ  آبی حیات کے تحفظ کی بھی ضانت دی جا سکتی ہے۔

مردوں کی راکھ کو مختلف جگہوں پر بکھیرنا تو پرانی بات ہوئی، اگر مرحوم سے بچھڑ کر آپ کا جی بہت بھاری ہو تو جیب ذرا ہلکی کرکے آپ اپنے پیاروں کو ستاروں کے جھرمٹ تک بھی پہنچا سکتے ہیں۔ یہ کوئی  دور از کار خیال نہیں بلکہ اس ہائی فائی شعبے میں مناسب مہارت اور دست گاہ رکھنے والے ایسے ادارے موجود ہیں جو خلا کے اس ابدی سفر پر مرحوم کی روانگی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔


لائف جیم نامی کمپنی مرنے والوں کی راکھ کو معقول معاوضے کے عوض اس قسم کے ہیروں میں منتقل کر سکتی ہے (تصویر بشکریہ لائف جیم)

چنگاری اور خاکستر کے حوالے سے ریکارڈ پہ لانا مناسب ہو گا کہ آگ ہی مردہ جسموں کو ٹھکانے لگانے کا واحد ذریعہ نہیں۔ ابراہیمی مذاہب میں یہی کام مٹی سے لیا جاتا رہا ہے۔ بعض قبائل مُردوں کو زندوں سے کہیں زیادہ پروٹوکول دیے بغیر نہیں مانتے جبکہ بعض گروہ لاشوں کو پرندوں درندوں کی ضیافت کے لیے کھُلی چھوڑنے کے حق میں ہیں۔

اکیلی آگ ہی کو لیں تو جو بعض کے نزدیک انتہائی اُخروی سزا ہے، وہی دیگر بہت سوں کے ہاں روحانی تطہیر کا سامان۔ کوئی عذاب سے بچنے کے لیے آگ سے پناہ مانگتا ہے، تو کوئی ثواب کی نیت سے اسے گھر میں دائم آباد رکھتا ہے۔

سوچا جائے تو آخر کو یہ ساری موجودگی، یہ تمہاری، ہماری موجودگی ایک احساس کے سوا ہے بھی کیا۔ ہے ہی کیا۔ موت اور زندگی کا کھیل ابھی جاری ہے اور یہ میچ برابر نہیں ہونے والا- موضوع کی مناسبت سے بطور خاص لکھے گئے اداس اور پُرآس عشرے پر بات ختم کرتے ہیں جو اس انشائیے کا ہم نام ہے اور جُڑواں بھائی بھی۔ دیکھیے، دونوں میں سے کون بچ رہے۔

آپ کے ریکارڈ کے لیے

یہ کوئی عجیب بات تو نہیں
دوستوں کو یاد آ رہا ہوں میں
آپ کے ریکارڈ کے لیے
مان لیں کہ میں ہی گا رہا ہوں، میں
جان لیں، کہیں بہاؤ جب رُکے
بھولتا ہوں کچھ، اٹک رہا ہوں میں
یاد وادیوں میں آپ سب کے ساتھ
مل رہا ہوں، اور بھٹک رہا ہوں میں
ایک دوسرے کا احساس ہیں
دور جانے والے پاس پاس ہیں

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین