مراکش کی ٹیم نہ صرف افریقہ اور عرب دنیا کی امیدوں کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ عالمی جنوب کے لیے بھی خود اعتمادی، شناخت اور کامیابی کی نئی علامت بن چکی ہے۔
بازار میں کتابوں کی دکانوں کی تعداد سمٹ کر محض دو رہ گئی ہے۔ ان کی جگہ کبابوں، بریانی اور دوسرے پکوانوں کی دکانیں لے چکی ہیں۔