ایک نیوز روم چلانے کے میرے اپنے تجربے میں بھی ڈیٹا یہ ہی ظاہر کرتا ہے کہ جب بھی کوئی خونی واردات یا قتل و غارت سے بھرپور کہانی پیش کی جائے، تو عوامی انگیجمنٹ آسمان کو چھونے لگتی ہے۔
’سیکس ٹورشن‘ کے تحت مجرم کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو اپنی نامناسب یا برہنہ تصاویر شیئر کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور پھر ان ہی تصاویر کی بنیاد پر انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔