کوئٹہ: عالمی مقابلے میں سلور میڈل جیتنے والی ارپنگا بریال حکومت سے کیا چاہتی ہیں؟

سائنس کے شوق نے 13 سالہ ارپنگا بریال کو کوئٹہ سے امریکہ تک پہنچایا، جہاں انہوں نے کوپرنیکس اولمپیاڈ کے نیچرل سائنس مقابلے میں صرف دو ماہ کی تیاری کے بعد چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی ساتویں جماعت کی طالبہ ارپنگا بریال نے امریکہ میں ہونے والے سائنس کے عالمی مقابلے میں سلور میڈل جیت کر قوم کا نام روشن کر دیا۔

سائنس کے شوق نے 13 سالہ ارپنگا بریال کو کوئٹہ سے امریکہ تک پہنچایا، جہاں انہوں نے کوپرنیکس اولمپیاڈ کے نیچرل سائنس مقابلے میں صرف دو ماہ کی تیاری کے بعد چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا۔

16 ممالک کے چار سو طلبہ کے درمیان انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی اور بلوچستان کا نام روشن کیا۔ اس سے قبل وہ قومی سطح کے مقابلے میں کانسی کا تمغہ بھی جیت چکی ہیں۔

عالمی سلور میڈلسٹ ارپنگا بریال نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’جب میرے نام کا اعلان کیا گیا اورمیں قومی پرچم کے ساتھ سٹیج پر پہنچی تو وہ لمحہ میری زندگی کا ناقابلِ فراموش لمحہ تھا۔‘

بقول ارپنگا بریال: ’امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں ہونے والے اس مقابلے میں حصہ لینا آسان نہیں تھا۔ ایک ہفتے کے دوران ہمیں روزانہ تین سے چار سرگرمیوں میں حصہ لینا پڑتا تھا۔ ہمیں ناسا جانسن سپیس سینٹر اور ہیوسٹن نیچرل سائنس میوزیم کا دورہ بھی کروایا گیا، جہاں میں نے چاند کے پتھر کو چھوا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ’پہلی بار عالمی سطح پر چین، امریکہ، برازیل، منگولیا اور آذربائیجان سمیت مختلف ممالک سے آئے بچوں سے ملاقات ہوئی۔ میں نے انہیں اپنی ثقافت کے بارے میں بتایا اور ان سے بھی بہت کچھ سیکھا۔‘

ارپنگا بریال کے والد غالب بریال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جب میری بیٹی نے فون کر کے اپنی کامیابی کے بارے میں بتایا تو وہ لمحہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ ارپنگا جیسی اور بھی باصلاحیت لڑکیاں ہیں جنہیں صرف سپورٹ کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے اس کامیابی کو صرف اپنی فیملی کی نہیں بلکہ ’پورے صوبے اور قوم کی کامیابی‘ قرار دیا۔

ارپنگا بریال کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بچیوں کی تعلیم عدم توجہ کا شکار ہے۔ انہوں نے والدین اور حکومت سے گزارش ہے کہ ’خاص طور پر بچیوں کی تعلیم پر توجہ دی جائے اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل