جین زی یہ مفروضہ جتنا اب سننے میں آتا ہے اتنا ہمارے بچپن میں تو نہ تھا کبھی ہم بھی جین زی تھے لیکن ہمیں پتہ نہ تھا یا جین زی ابھی کی پیداوار ہے۔ کچھ اس نسل کو 1997 سے 2012 کے درمیان مانتے ہیں تو کچھ اسے 2005 سے 2014 کے درمیاں والی جینریشن کو کہتے ہیں۔
ان کے ساتھ ہم والدین اور اساتذہ کی سوچ اور عمر کا لمبا فاصلہ ہے۔ نہ ہم اس کو عبور کرنے کی دانستہ کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی یہ خوشدلی سے ہم تک پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن کوئی درمیانی رستہ تو نکالنا ہی پڑتا ہے۔
واہ انجینیئرنگ یونیورسٹی کے پروفیسر عدنان نے اس کو کچھ یوں بیان کیا ’ہماری نسل والدین کے آگے صرف سر تسلیم خم یا سر جھکانے والی تھی۔ اور یہی ہمارے والدین ہم سے توقع رکھا کرتے۔ لیکن اس کے برعکس ہماری اولاد اپنے جذبات کے بارے میں کافی کھلا مزاج رکھتی ہے اور ہم سے بحیثیت والدین ان کے جذبات کو سمجھنے اور ان کی حدود کو برقرار رکھنے کی خواہاں نظر آتی ہے۔‘
’ہم اپنی رائے کے اظہار یا گفتگو کے لیے آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں لیکن یہ جین زی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اظہار رائے یا بات چیت کے لیے موثر سمجھتی ہے اور انہی پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی کو اہم سمجھتی ہے۔‘
تو دوسری طرف جین زی ہیں کون؟
نسٹ یونیورسٹی کی طالبہ ایمن نے اس پہ روشنی ڈالتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ’ہم وہ جینیریشن ہیں جن کو ٹیکنالوجی گھٹی میں ملی اور ہمارے والدین وہ نسل ہیں جنہیں قدروں سے جوڑ کے رکھا گیا۔
’میرا ور میرے والدین کا ایک بڑا عمر کا فاصلہ ہے، ایسے میں کسی ایک بات پہ اتفاق سے زیادہ اختلاف رہتا ہے۔ میں جس انداز سے زندگی کے مختلف فیصلوں کو ترتیب دینے کی کوشش کرتی ہوں وہ قدروں سے زیادہ حقائق پہ مبنی ہوتے ہیں جب کہ والدین کچھ روائتی سمجھوتوں کو ہی اگلی نسل تک منتقل کرتے ہیں یا کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔‘
ایمن کہتی ہیں کہ ’ہم نے ٹیکنالوجی اور مشینی دور میں آنکھ کھولی ہے، تعلیم حاصل کی ہے اور اسی سے جڑے سماج کا حصہ ہیں لیکن والدین کو سجھانا یا ان کی منطق کو سمجھنا ایک چیلنج ضرور ہے۔‘
ان کا خیال ہے کہ ضرور ان کے والدین یا دیگر والدین اپنے زمانے میں ترقی پسند اور کھلا زہن رکھتے ہوں گے لیکن اب گیجٹس کے دور میں آج کی نسل کو جو آزادی حاصل ہے وہ پہلے خواب و خیال تھی۔
چند اور نوجوانوں کا بھی یہی خیال تھا کہ والدین یا اساتذہ ان کو اپنی عینک سے ہی دنیا کو پرکھنے پہ مجبور کرتے ہیں اور وہ اپنے نظریات میں لچک نہیں لانا چاہتے لیکن اب یہ ممکن نہیں ہم سامنے ہوں یا نہ ہوں یہ ویڈیو کالز اور یو ایس بی کا دور ہے۔ سب کچھ سمٹ چکا ہے تو اس کو اتنا وسیع کرنے کی ضرورت نہیں سوچ کو وسعت دی جانے کی بات ہونی چاہیے تاکہ یہ فاصلے کم کیے جا سکیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگر ہم پروفیشنل نظر سے بھی ان دونوں نسلوں کا جائزہ لیں تو بھی یہ ایک صفحے پہ نہیں ملتے۔
جی آئی کے یونیورسٹی کے رہے طالب علم اور اب ملازمت سے منسلک رضوان خان مانتے ہیں کہ ’والدین اور جینریشن زی کے درمیان سب کھیل قدروں اور توقعات پہ عمل کا ہے۔
’پہلے لوگ ملازمتوں کے حوالے سے ایک تسلسل اور ربط پہ یقین رکھتے تھے لیکن آج کی نسل، کام اور زندگی کے مابین توازن پہ یقین رکھتی ہے۔ وہ ایک ہی ملازمت برسوں نہیں کرنا چاہتے بلکہ ورک فرام ہوم کے فارمولے پہ بھی یقین رکھتے ہیں اور ٹیکنالوجی کی اس ریس میں کسی سے پیچھے رہ کر نہِیں جینا چاہتے۔‘
رضوان خان کہتے ہیں کہ ’پہلے لوگ پروفیشنل طور پہ انتھک محنت اور صبر پہ یقین رکھتے تھے لیکن اب ذاتی سکون اور زہنی صحت کو ترجیح حاصل ہے۔‘
دوسری جانب جین زی کا یہ بھی ماننا تھا کہ، جس طرح پہلے لوگ برسوں ایک ہی نوعیت کی جاب پہ معمور رہتے تھے اب ایسا نہیں ہے مختلف فراہم کردہ مواقعوں کے مطابق بھی نوجوان اپنی ترجیحات بدل لیا کرتے ہیں، اور اس کی اہم وجہ گرتی ہوئی معاشی صورتحال ہے۔
اکثر طلبا نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے، اپنے حوالے سے کچھ چیلنجز کی بھی بات کی۔
مصطفیٰ الطاف کا ماننا تھا کہ ’جس طوفانی تکنیکی سیلابی دور سے ہم گزر رہے یں، ہماری سوچ کے دھارے کو وہ رفتار مل چکی ہے جو ہمارے والدین سے ہمارا فاصلہ بڑھا رہی ہے، ہم اے آئی اور ایلگوردھم میں جکڑی نسل ہیں، اور اس کے اپنے نقصانات بھی رونما ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔‘
تاریخ کے طالب علم دانیال خورشید مانتے ہیں کہ ’اب جس طرح عالمی معیشت اتار چڑھاؤ کا شکار ہے تو ہماری جین زی اپنے مستقبل کے حوالے سے شاید زیادہ فکر مند ہے، اور ہم اپنے ارد گرد کے ماحول سے بھی جس طرح جڑے ہیں، ہم سماجی انصاف، موسمی تبدیلیوں اور نسل کشی کی بات کرتے ہیں، ہم ان حوالوں سے شاید زیادہ جہاں دیدہ اور ٹیکنالوجی کے سیلاب سے بھی خوفزدہ ہیں کہ اے آئی کے اس تیزی سے بڑھتے رجحان میں ہمارے لیے کام کے مواقع کم ہوتے جائیں گے۔‘
مسز ذوالفقار جن کے بچے جین الفا اور جین زی دونوں کے درمیان ہیں، ان کے بقول یہ نسلی تفریق ہے بھی اور نہیں بھی، ہم نے والدین کے طور پہ بہت سی جدید قدروں کو اپنایا بھی ہے اور بہت سی کو ہم نہیں اپنانا چاہتے۔ ہمارے برعکس جین زی اپنی سوچ اور عمل میں کافی کشادگی رکھتی ہے۔ اور یہی جینریشن گیپ کا اصل زائقہ ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔