جین زی کے مسائل کو اجاگر کرنے والا محض پانچ دن پرانا ایک گروپ انڈیا میں وائرل ہو گیا ہے، جس نے انسٹاگرام پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے فالوورز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور سیاست، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے موضوعات کو مزاح کے انداز میں زیر بحث لا رہا ہے۔
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں انسٹاگرام پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ فالوورز حاصل کر لیے ہیں۔ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دیتی ہے، کے فالوورز 90 لاکھ سے بھی کم ہیں۔
سی جے پی، جس کا لوگو ایک لال بیگ (کاکروچ) کی تصویر ہے، کا نعرہ ہے ’ نوجوانوں کا سیاسی محاذ، نوجوانوں کے ذریعے، نوجوانوں کے لیے۔‘
گروپ کے 30 سالہ بانی ابھیجیت دپکے نے روئٹرز کو بتایا کہ سی جے پی کا نام چیف جسٹس سوریہ کانت کے گذشتہ ہفتے کے اس بیان کے بعد رکھا گیا، جس میں انہوں نے کچھ بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دی تھی۔
بعد ازاں جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد نوجوانوں پر تنقید کرنا نہیں تھا بلکہ وہ ان افراد کی طرف اشارہ کر رہے تھے، جن کے پاس ’جعلی اور بوگس ڈگریاں ہیں اور جو پیراسائٹس (طفیلیوں) کی طرح‘ ہیں۔
دپکے نے گروپ کے بارے میں کہا: ’یہ انڈیا کے سیاسی بیانیے کو بدلنے کی ایک تحریک ہے۔ انڈیا کے نوجوان بڑی حد تک مرکزی سیاسی گفتگو سے غائب ہو چکے ہیں۔ کوئی ہمارے بارے میں بات نہیں کر رہا، نہ ہی ہمارے مسائل کو سن رہا ہے یا ہمارے وجود کو تسلیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
سی جے پی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ارکان کی جانب سے تیار کردہ گرافکس اور ویڈیوز موجود ہیں، جن میں میڈیا کی آزادی سے لے کر پارلیمنٹ اور کابینہ کی نصف نشستیں خواتین کے لیے مختص کرنے تک مختلف موضوعات پر بات کی جاتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے علاوہ حال ہی میں قومی میڈیکل کالج کے داخلہ ٹیسٹ کی منسوخی کو بھی اجاگر کیا گیا، جو سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے باعث منسوخ ہوا اور جس سے تقریباً 23 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے۔
انڈیا کے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی رواں ہفتے ہونے والے ایک عالمی سروے میں بھی ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ انڈیا کی جین زی، یعنی 1995 سے 2007 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد، روزگار کی کمی اور بڑھتی قیمتوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
سروے کے مطابق جین زی میں مالی دباؤ زیادہ پایا جاتا ہے اور بڑی تعداد نے گھروں کی استطاعت اور مالی عدم تحفظ جیسے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔
انڈیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور یہاں نوجوانوں کی تعداد بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جہاں تقریباً 65 فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 15 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 3.1 فیصد تھی، تاہم 15 سے 29 سال کے افراد میں یہ شرح کہیں زیادہ، یعنی 9.9 فیصد رہی، جس میں شہری علاقوں میں 13.6 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.3 فیصد شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے نوجوان اس بات پر تشویش رکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے باعث ابتدائی سطح کی ملازمتوں میں کمی سے یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
سروے کے مطابق 54 فیصد جین زی اور 44 فیصد ملینئیلز (1983 سے 1994 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) نے معاشی خدشات کے باعث گھروں کی خریداری جیسے بڑے زندگی کے فیصلے مؤخر کر دیے ہیں۔ اس سروے میں 14 ہزار سے زائد افراد شامل تھے اور اس میں بے روزگاری کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا۔
دپکے نے پڑوسی ممالک بنگلہ دیش اور نیپال میں جین زی کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے موازنہ کرنے سے گریز کیا، جنہوں نے حکومتوں کو ہٹانے میں کردار ادا کیا اور اس بات پر بھی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا وہ کی کوئی سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ ہے یا نہیں۔
تاہم انہوں نے کہا: ’یہ ایک بڑی سیاسی تحریک میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور انڈیا کی سیاست کو بدل سکتی ہے۔ اور ہم جو کچھ بھی کریں گے، آئین کے دائرے میں رہ کر کریں گے۔ ہم یہ سب کچھ جمہوری اور پرامن انداز میں کریں گے، یہ نیپال یا بنگلہ دیش جیسا نہیں ہوگا۔‘
دپکے کے مطابق چار لاکھ سے زائد افراد گوگل فارم کے ذریعے سی جے پی کے رکن بننے کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں سے 70 فیصد سے زیادہ کی عمر 19 سے 25 سال کے درمیان ہے۔
سی جے پی کے مطابق اس کی رکنیت کے لیے چار شرائط ہیں: بے روزگار ہونا، سست ہونا، مسلسل آن لائن رہنا اور پیشہ ورانہ انداز میں شکایت کرنے کی صلاحیت رکھنا۔
لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ سدھارتھ کناوجیا، جنہوں نے سی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے، نے کہا: ’مجھے کاکروچ جنتا پارٹی واقعی پسند ہے کیونکہ اس ملک میں کوئی نوجوانوں کی آواز نہیں سنتا اور نوجوانوں کے لیے ملازمتیں بھی کافی نہیں ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’یہ پارٹی نوجوانوں کے مفاد میں بات کرتی ہے اور درست مسائل اٹھاتی ہے۔ کاکروچ مزاحمت کی علامت ہے، جو ہر مشکل کے بعد دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے۔‘