آپ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہوں اور جس پروگرام میں شرکت کے لیے آپ کراچی سے اڑ کر وہاں پہنچے ہوں وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہو رہا ہو۔ اوپر سے آپ صحافی بھی ہوں اور تاریخ سے واقف بھی، تو کیا کیا کچھ دل پر گزر جاتا ہے۔ یہ ہم جانیں یا ہمارا اللہ!
ہم نومبر 2025 میں بنگلہ دیش ایک کانفرنس میں گئے اور وہاں سے بہت مثبت تاثر لے کر لوٹے۔ ہمارا زیادہ تر وقت ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہی گزرا، لہٰذا وہاں کی بہت سی چیزیں مشاہدے میں آئیں۔ وہاں کی فضا نئی اور مختلف محسوس ہوئی۔
سیاسی ماحول ہی نہیں بلکہ طلبہ و طالبات پرجوش تھے اور کچھ کر گزرنے کا اعتماد ان کے ہر انداز میں نمایاں تھا۔
سب سے اچھی چیز ڈھاکہ یونیورسٹی کا ماحول تھا۔ میرے خیال سے آپ بھی اس بات سے اتفاق کریں گے کہ طالب علمی کا زمانہ صرف رنگین نہیں ہوتا بلکہ دلکش بھی ہوتا ہے اور آج بھی ہم میں سے بہت سے لوگ یونیورسٹی کے بےفکری کے دن یاد کرتے ہیں۔
ہم ٹھہرے جامعہ کراچی کے باسی جہاں ہر طرف چہل پہل تو رہتی ہے لیکن ڈھاکہ یونیورسٹی والی گہما گہمی نہیں۔
جامعہ ڈھاکہ کے تعمیری ڈھانچے کی بات کریں تو ہمیں قدامت کے ساتھ نئے تعمیراتی ماڈل بھی نظر آئے۔
پورے ماحول میں سے دو چیزوں نے ہمیں سب سے زیادہ متاثر کیا، ان میں سب سے پہلے قدیم تناور درخت تھے، ایک دو نہیں بلکہ ہر چوتھا پانچواں درخت اپنی بزرگی ظاہر کر رہا تھا، جس کی وجہ سے فضا ہی نہیں پورا ماحول تازہ اور خوشگوار تھا۔
ہم نے خاص طور پر ان کے قریب جا کر دیکھا کہ شاید ہمارے کراچی کی طرح ان پر قدیم درخت یعنی ’ہیریٹیج ٹری‘ کا نشان ہو، کیونکہ 2023 میں کراچی میں ایسے کئی قدیم درختوں کو بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ’ہیریٹیج ٹری‘ کا نام دیا تھا۔
ڈھاکہ کے سابقہ طالب علم احتشام نظامی صاحب سے جب ہم نے اس بات کا ذکر کیا تو ان کا کہنا تھا کہ جامعہ کے درختوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم رہی ہے۔
’یہاں ایک قدیم بڑ کا درخت ہے جس کے ساتھ بڑا سا چبوترا بھی ہے، ہم اسے بڈ کلا کہتے تھے۔‘
انہیں یاد ہے کہ جب وہ ڈھاکہ کالج میں تھے، جو ڈھاکہ یونیورسٹی کے ساتھ ہی ہے، وہاں لندن سے مظہر علی خان کے بیٹے طارق علی آئے تھے اور انہوں نے اس درخت کے نیچے کھڑے ہو کر طلبہ سے خطاب کیا تھا۔
اسی کے نیچے طلبہ جلسے کرتے تھے، یعنی ڈھاکہ یونیورسٹی کے یہ درخت کئی حوالوں سے تاریخی بھی ہیں اور سیاسی گہما گہمی کا مرکز بھی۔
دوسرا اہم ترین پہلو ڈھاکہ یونیورسٹی کا ایکٹوزم تھا۔ ہر دیوار بنگلہ زبان سے رنگین اور کہیں کہیں انگریزی زبان کا استعمال بھی نظر آیا۔
کئی جگہ گرافیٹی آرٹس نے اپنی طرف کھینچ ہی لیا۔ بنگلہ زبان سے شد بد نہ ہونے پر بھی مضمون اور نعرے کا مطلب سمجھ آنے لگا۔
80 فیصد طلبہ و طالبات اردو زبان سے واقف تھے اور سمجھ کر بول بھی رہے تھے، کیونکہ ہمارے ڈرامے اپنی ایک علیحدہ پہچان رکھتے ہیں۔
یونیورسٹی میں صنفی توازن بھی نظر آ رہا تھا اور لڑکیاں رات گئے تک یونیورسٹی میں پھرتی بھی نظر آئیں۔ ماس کمیونی کیشن کی طالبہ صالحہ نے ہمیں بتایا کہ وہ اولڈ ڈھاکہ کی رہائشی ہیں لیکن وہ ہاسٹل میں ہی رہتی ہیں اور ہفتے کے ہفتے اپنے گھر جاتی ہیں۔
کیونکہ اکثر ٹریفک جام ہوتا ہے، جس کی وجہ سے گھر والوں نے ہاسٹل کی اجازت دی ہوئی ہے۔
1921 میں قائم ہونے والی یہ جامعہ خطے کی تاریخ کی کہانی سناتی ہوئی لگی۔
ڈاکٹر مونس احمر کے بقول: ’ڈھاکہ یونیورسٹی قیام پاکستان سے پہلے بھی اور بعد میں بھی عوام کی آواز رہی ہے۔ یہاں سے کئی عوامی تحریکیں چلیں۔‘
بنگلہ دیش میں اس جامعہ کی الگ اہمیت ہے۔ 2024 کا انقلاب ہو یا اس سے پہلے کے واقعات، مرکز ڈھاکہ یونیورسٹی ہی رہتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حقوق کے لیے آواز بلند کرنا اور اس کے لیے اٹھ کھڑے ہونا یہاں کا دستور رہا ہے۔ طلبہ تنظیمیں بھی فعال ہیں اور نیشنلزم بھی عروج پر رہتا ہے۔
ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ہمیشہ سے ہی مشرقی بنگال سیاسی طور پر فعال رہا ہے، اس لیے بھی یہاں ایکٹوزم زیادہ نظر آتا ہے۔
آج کی ’جین زی‘ نسل واضح طور پر قوتِ اظہار کرنا پسند کرتی ہے۔ اس لیے بھی آپ کو پاکستانی جامعات کے مقابلے میں اتنے مختلف رنگ نظر آئے۔
سینیئر صحافی منزہ صدیقی کہتی ہیں کہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان طلبہ و طالبات کو تحریک کہاں سے ملتی ہے۔
’ان کی بنگلہ زبان کی تحریک ہو، یا 1971، پھر جنرل محمد ارشاد کے خلاف احتجاج ہی نہیں بلکہ جمہوری حکومتوں کے بڑے مسائل پر یہاں کے طلبہ متحرک رہے ہیں۔ چونکہ یہ طلبہ و طالبات معاشرے سے الگ نہیں رہے لہذا عوامی سیاست کا رنگ یہاں نظر آتا ہے۔‘
ان کے مطابق جب ڈھاکہ یونیورسٹی سے احتجاج شروع ہوتا ہے تو یہ پھیل کر پورے بنگلہ دیش پر اثر انداز ہوتا ہے۔
شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے بھی کئی بار کوشش کی کہ جامعہ سے طلبہ سیاست کو ختم کیا جائے، کریک ڈاؤن بھی ہوئے اور کئی طلبہ جان سے بھی گئے لیکن عوامی لیگ کی حکومت کامیاب نہیں ہوئی۔
2024 میں ’جولائی انقلاب‘ میں بھی طلبہ ہی سامنے آئے اور یہ حقیقت ہے کہ ہر انقلابی تحریک میں نوجوان ہی سامنے آتے ہیں۔
2018 میں ہونے والے ’روڈ سیفٹی‘ کے عوامی احتجاج میں سڑکوں پر آنے والے بچے اب 2024 کے انقلاب کا حصہ بنے ہوں گے۔
ان کے ہاں کم عمری سے ہی ایک سیاسی شعور ڈالا جاتا ہے، یا حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ ان میں سیاسی بالیدگی نظر آتی ہے۔ وہاں کی زمین میں سماجی اور سیاسی سوچ کا واضح اظہار بھی ہے۔
ہم منزہ اور ڈاکٹر مونس کی باتوں سے 100 فیصد متفق ہیں۔ ہمیں ڈھاکہ یونیورسٹی میں یہی سب کچھ نظر آیا اور محسوس بھی ہوا۔
سیاسی گہما گہمی کا یہ عالم تھا کہ رات 10 بجے کے بعد جامعہ کا ایک حصہ روشن تھا اور ضیا الرحمان کی برسی کے موقعے پر ان کی تصاویر کی نمائش جاری تھی۔
ایک طرف مختلف مردوں کے مجسمے تھے تو دوسری طرف خواتین اور بچوں کی یادگاروں نے ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔
ہم نے ساتھ چلتے طالب علم عمر سے پوچھا یہ کس لیے لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1971 کے حوالے سے یہ مجسمے بنائے گئے ہیں تاکہ ہم اپنی تاریخ سے آگاہ رہیں۔
اردو ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ سوہانہ اختر نے ایک گراؤنڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ رمنا ریس کورس ہے جہاں سے شیخ مجیب الرحمٰن نے اپنا پہلا قومی خطاب کیا تھا۔
یہی نہیں 1971 کو تو ڈھاکہ یونیورسٹی میں مجسم کر دیا گیا ہے۔ داخلی دروازے پر ان اساتذہ کے نام کندہ ہیں جنہوں نے اپنی جان ملک کی آزادی کے لیے نچھاور کر دی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آخری دن تو ہماری آنکھ صبح صبح عوامی لیگ کے نعروں سے کھلی۔ پہلا جلوس ڈھاکہ یونیورسٹی کے سامنے سے صبح سات بجے سے پہلے نکل گیا اس کے بعد ایک دوسرا قافلہ بھی نعرے لگانے لگا۔
یعنی سیاسی ہلچل جو صبح خیز بھی ہے۔ ہماری نظر سے اس سے پہلے یہ نہیں گزری تھی۔ ہم کراچی والے جہاں کارنر میٹنگ بھی شام سات بجے سے پہلے نہیں ہوتی اور کسی جلسے کا رات گئے تک چلنا سیاسی کلچر کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
پانچ دنوں میں جامعہ میں گھومتے پھرتے احساس ہوا کہ نوجوان طلبہ پرجوش اور پر اعتماد ہیں۔ 2024 میں آنے والے طلبہ انقلاب پر فیچر لکھنا الگ بات ہے اور اپنی نظروں سے ان مناظر کے آفٹر شاکس دیکھنا الگ۔
ہمیں کئی موڑ کاٹتے ہوئے یہ جامعہ کم اور کسی سیاسی جماعت کا اکھاڑا ضرور لگی۔
یہ سب اس لیے بھی الگ لگا کیونکہ ہمارے ہاں طلبہ سیاست کا کوئی کردار ہی نہیں رہنے دیا گیا۔
جامعہ کراچی کی یونین 1983 کے بعد فعال نہیں ہو سکی۔ جامعہ کراچی کی آخری طلبہ یونین کے منتخب سربراہ شعبہ جینیٹکس کے شکیل فاروقی تھے۔
اس کے بعد کوئی طلبہ یونین کا انتخاب عمل میں نہیں آیا کیونکہ نو فروری 1984 کو طلبہ یونین پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی۔
2025 میں سپریم کورٹ تک طلبہ یونین کی بحالی کا مقدمہ بھی پہنچا لیکن یونین پولیٹکس کے مردہ جسم میں کوئی جان نہیں پڑی۔
اگر یہ بحال ہو جاتی تو یقین ہے کہ ہم جو اپنی والدہ اور بڑی بہنوں سے جامعہ کے الیکشن اور یونین کے پروگراموں کے قصے سنتے آئے تھے، ہمارے پاس بھی ’سٹوڈنٹ ویک‘ کی رنگین کہانیوں کے سوا بھی بہت کچھ ہوتا۔
اب تو بس سیاسی جماعتوں کے طلبہ ونگز فساد برپا کرنے میں تو آگے آگے ہوتے ہیں لیکن کسی مثبت پہلو کے لیے کھڑے ہونا کم ہی نظر آیا۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔