’میرے لیے مذہب کبھی رکاوٹ نہیں بنا‘: پنجاب پولیس کے راجیندر مہیگوار

لاہور میں تعینات ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے اے ایس پی راجیندر کا کہنا ہے کہ محکمے میں کسی کی مذہبی شناخت نہیں دیکھی جاتی، پولیس فورس میں سب افسران یکساں ذمہ داری کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

پاکستان سول سروس کے امتحان میں کامیابی کے بعد اقلیتی کوٹے پر منتخب ہونے والے اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) راجیندر مہیگوار اس وقت پنجاب پولیس کے آپریشنز ونگ میں خدمات انجام دے رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ مذہب ان کے لیے کبھی رکاوٹ نہیں بنا۔

ان دنوں لاہور کے گلبرگ سرکل میں تعینات راجیندر کا تعلق سندھ کے ضلع بدین سے ہے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں پاکستان میں کبھی مذہبی تعصب کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید بتایا: ’فیصل آباد میں میری پہلی پوسٹنگ تھی۔ وہاں لوگ محض یہ دیکھنے آتے تھے کہ ہندو کیسے ہوتے ہیں، کیونکہ پنجاب میں ہندو آبادی بہت کم ہے۔ سندھ کے مقابلے میں یہاں لوگوں کے لیے یہ ایک انوکھی بات تھی، مگر مجھے ہمیشہ محبت اور احترام ملا۔‘

راجیندر نے ابتدائی تعلیم بدین میں حاصل کی اور انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا۔ بعد ازاں انہیں لیکچرار کی ملازمت بھی ملی، مگر انہوں نے سی ایس ایس کرنے کا فیصلہ کیا اور کامیابی کے بعد پنجاب پولیس میں تعینات ہو گئے۔

پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 27 اور 36 کے تحت اقلیتوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ موجود ہے۔ اگرچہ عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ غیر مسلم افراد زیادہ تر نچلے درجے کی ملازمتیں کرتے ہیں، لیکن مختلف ادوار میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر بھی متعدد غیر مسلم افسران خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

راجیندر کے مطابق پاکستان میں سرکاری اداروں کے اندر اور باہر انہیں کسی امتیازی رویے کا سامنا نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا: ’محکمہ پولیس میں ایسا کوئی تصور نہیں کہ افسر کا تعلق کس مذہب سے ہے۔ ہم سب ایک ہی فورس کا حصہ ہیں اور یکساں ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ نہ تو حکومتی سطح پر امتیاز برتا جاتا ہے اور نہ محکمے میں۔‘

راجیندر مہیگوار نے کہا کہ مذہبی انتہا پسندی دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان کا بھی مسئلہ رہی ہے لیکن ریاستی اداروں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’پنجاب میں ایک دہائی سے دہشت گردی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ جرائم میں بھی مجموعی طور پر کمی آئی ہے۔ بطور پولیس افسر میری ذمہ داری ہے کہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے اپنا حصہ ڈالوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل