13 اکتوبر، 2025 کو پاکستان اور افغان کی سرحد طورخم کے قریب ایک سڑک پر لگے سائن بورڈ کی تصویر (اے ایف پی)
پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ عسکری و سیاسی کشیدگی محض حالیہ واقعات کا نتیجہ نہیں، بلکہ ان سیاسی، عسکری اور سفارتی پالیسیوں کا تسلسل ہے جو گذشتہ آٹھ دہائیوں سے دونوں جانب اختیار کی جاتی رہی ہیں۔
پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے اگست 1947 میں دستور ساز اسمبلی سے خطاب میں ہمسایہ ممالک، خصوصاً افغانستان، ایران اور ہندوستان کے ساتھ دوستانہ اور پرامن تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس رہے۔
تاریخی سیاق اور تنازعے کی جڑیں
موجودہ تعطل کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کا سامنا کرنا ہو گا۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں تقسیم ہند کے فوراً بعد ہی تناؤ نمایاں ہونے لگا تھا۔
ستمبر 1947 میں افغانستان اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دینے والا واحد ملک تھا، جو مستقبل کے اختلافات کا واضح اشارہ ثابت ہوا۔
بنیادی تنازع ڈیورنڈ لائن پر چلا آ رہا تھا، جسے کابل نے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کے اندر ’پختونستان‘ کی تحریکوں کی حمایت شروع کر دی۔
1949 میں افغان لوئے جرگہ کا ڈیورنڈ لائن کو غیر قانونی قرار دینا اور 1960 میں وزیر اعظم داؤد خان کی قیادت میں باجوڑ پر افغان فوج کا حملہ اسی پالیسی کا تسلسل تھا۔
جنرل ضیا الحق کے دور میں سوویت - افغان جنگ (1979–1989) کے دوران پاکستان نے امریکی حمایت سے افغان مجاہدین کو منظم کیا۔
یہ پالیسی ایک طرف سوویت یونین کے خلاف پراکسی جنگ تھی تو دوسری جانب ضیا حکومت کے لیے مذہبی بنیادوں پر داخلی جواز کا ذریعہ بھی جس کے نتیجے میں پاکستان میں اسلحہ، عسکریت پسندی، منشیات اور مذہبی انتہاپسندی نے جڑیں مضبوط کیں، جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
طالبان، سٹریٹجک گہرائی اور دوغلی پالیسیاں
1990 کی دہائی میں افغانستان میں خانہ جنگی کے دوران یہی حکمت عملی دہرائی گئی۔
پاکستان نے 1994 کے آس پاس طالبان کی تشکیل اور سرپرستی میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کا مقصد تزویراتی گہرائی (strategic depth) اور کابل میں ایک تابع حکومت کا قیام تھا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان طالبان امارت (1992-2001) کی پہلی حکومت کو تسلیم کرنے والے تین ممالک میں سے ایک بنا۔
11 ستمبر، 2001 کے بعد جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں شمولیت اختیار کی، مگر ساتھ ہی بعض طالبان گروہوں سے خفیہ روابط بھی برقرار رکھے۔
یہ دوغلی پالیسی وقتی سیاسی بقا کے لیے تو مفید رہی مگر طویل المدتی طور پر پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔
انسانی و معاشی قیمت
پاکستانی عوام نے ان پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کی۔ وزارت خزانہ کے مطابق 2001 سے 2009 کے دوران پاکستان کو تقریباً 67 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔
2001 سے 2021 کے درمیان آٹھ سے 10 ہزار فوجی اہلکار اور 22 سے 25 ہزار شہری جان سے گئے جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔
اسی دور میں 2007 میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا قیام عمل میں آیا، جو آج کی کشیدگی کی بنیاد بنا۔
طالبان کی واپسی اور موجودہ بحران
2021 میں امریکی انخلا کے بعد طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی پر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ابتدا میں اطمینان کا اظہار کیا، مگر یہ گرم جوشی جلد دم توڑ گئی جب افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے انکار کر دیا۔
تعلقات اس حد تک بگڑ گئے کہ اکتوبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فوجی تصادم ہوا، جس میں درجنوں فوجی جان سے گئے۔
پاکستان بورڈ آ ف انویسٹمنٹ کے اعدادوشمار کے مطابق سرحدی بندشوں کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان ہر ماہ تقریباً 7.71 کروڑ ڈالرز کا نقصان اٹھا رہے ہیں جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق سرحد پر تعینات ایک لاکھ سے زائد فوجیوں پر سالانہ اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔
مجموعی تجزیہ
دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ بتاتی ہے کہ خفیہ آپریشن، پراکسی جنگیں اور اصولوں سے عاری وقتی مفاد پر مبنی پالیسیاں کبھی پائیدار امن نہیں لا سکتیں۔
یہ بحران بالخصوص ان فوجی ادوار کی پیداوار ہے جن میں ’افغان کارڈ‘ کو داخلی سیاسی جواز کے لیے استعمال کیا گیا۔
ضیا الحق کی ’جہاد پالیسی‘ سے لے کر پرویز مشرف کی ’فرنٹ لائن‘ پارٹنرشپ تک،آمرانہ نظام نے بار بار افغان پالیسی کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا اور ایک مختصر المدتی نقطہ نظر کو مسلط کیا جو آج بھی ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔
سیاسی و سفارتی بحران کا دیرپا حل
اس بنیادی تعطل کا حل مزید عسکری کشیدگی میں نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مکالمے میں مضمر ہے۔ پاکستان میں یہ اختیار اور جمہوری قانونی حیثیت صرف ایک ادارے یعنی پارلیمان کو حاصل ہے۔
خارجہ اور سلامتی پالیسیوں کو شخصی یا ادارہ جاتی دائرے تک محدود رکھنے کی بجائے، انہیں پارلیمانی نگرانی کے تحت لانا ہی پائیدار فیصلوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔
دنیا کی پختہ جمہوریتوں میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر پارلیمان کا کردار فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکی کانگریس نے 2011 میں افغانستان سے فوجی انخلا پر دباؤ ڈالا اور پھر انخلا کے پورے عمل میں کانگریسی کمیٹیوں نے باقاعدہ سماعتوں کے ذریعے پالیسی پر اثر ڈالا۔
برطانیہ میں ہاؤس آف کامنز کی دفاعی کمیٹی نے عراق اور افغانستان میں فوجی تعیناتیوں کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کے نتیجے میں حکمت عملی میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔
اسی طرح کینیڈا کی پارلیمان نے 2002 میں افغانستان میں فوجی مشن پر کھلا مباحثہ کیا اور اس کی توسیع کو واضح شرائط سے مشروط کیا۔
یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ مضبوط پارلیمانی نگرانی ناصرف قومی سلامتی کو آئینی و قانونی جواز فراہم کرتی ہے بلکہ پالیسی سازی میں شفافیت، احتساب اور عوامی حمایت کو بھی یقینی بناتی ہے۔ یہی کسی بھی دیرپا اور قابلِ قبول حل کی اصل بنیاد ہے۔
پارلیمان : آئینی راستہ اور واحد امید
آئین پاکستان پارلیمان کو حاکمیت اعلیٰ کا مرکز قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 70 کے تحت قومی سلامتی سمیت تمام معاملات پر قانون سازی کا اختیار پارلیمان کے پاس ہے، جبکہ آرٹیکل 73 کے مطابق قومی خزانے سے دفاعی اخراجات اور فوجی آپریشنز کی منظوری بھی اسی کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
یوں خارجہ اور سلامتی پالیسی پر پارلیمانی نگرانی محض اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری بھی ہے۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں اس اختیار کے عملی استعمال کی اہم مثالیں موجود ہیں۔ اکتوبر 2008 میں صدر آصف علی زرداری کی تجویز پر پارلیمان کا مشترکہ ان کیمرہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی سلامتی کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف فوجی حکمت عملی پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس عمل کے نتیجے میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی قائم ہوئی، جس نے نومبر 2008 سے مارچ 2012 تک امریکہ اور نیٹو کے ساتھ فوجی تعاون سمیت خارجہ پالیسی کے لیے 16 رہنما اصول مرتب کیے، جو 20 مارچ، 2012 کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔
پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ خارجہ اور سلامتی پالیسی پارلیمانی بالادستی کے تحت تشکیل دی جائے، اداروں کے درمیان آئینی توازن قائم رکھا جائے اور مسلح افواج و سول سروس کو مشاورتی فریق مانتے ہوئے حتمی فیصلہ سازی منتخب نمائندوں کے سپرد ہو۔
افغانستان کے حوالے سے بھی واضح کیا گیا کہ اس تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں اور سیاسی مفاہمت ہی واحد راستہ ہے۔
اسی سیاسی اتفاق رائے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے نتیجے میں بعد ازاں دہشت گردی کے خلاف موثر فوجی آپریشنز ممکن ہوئے، جیسا کہ 2009 کا آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ نجات، 2014 کا آپریشن ضرب عزب اور آپریشن ردالفساد۔
یہ روایت دسمبر 2017 میں مزید مستحکم ہوئی، جب چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی صدارت میں پارلیمان کا ایک اور ان کیمرہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پہلی بار چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے براہ راست منتخب نمائندوں کو سلامتی کی صورت حال پر جامع بریفنگ دی۔
یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ وہ فورم ہو سکتا ہے جہاں ایک پائیدار اور طویل المدت پالیسی تشکیل دی جا سکتی ہے۔
داخلی سطح پر پارلیمان سیاسی اتفاق رائے، بین الادارہ جاتی مکالمے اور شفاف فیصلہ سازی کا موثر پلیٹ فارم فراہم کر سکتی ہے، جہاں تمام سٹیک ہولڈرز یعنی حکومت، اپوزیشن، اور فوج کو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ایک ہی میز پر بٹھایا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے علاقائی پارلیمانی اداروں سے براہ راست روابط استوار کیے جا سکتے ہیں تاکہ تاریخی حقائق اور مشترکہ مفادات پر مبنی ایک متبادل بیانیہ تشکیل دیا جائے۔
ایسی ’ٹریک ٹو‘ سفارت کاری اعتماد سازی میں مدد دے سکتی ہے اور مکالمے کے وہ دروازے کھول سکتی ہے جو وقتی سیاسی اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہیں کیوں کہ دیرپا استحکام اور تناعات کے حل کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
ڈاکٹر دلاور حسین مصنف اور آئینی و پارلیمانی امور کے ماہر ہیں۔ ([email protected]) - (https://x.com/DilawarSaidhen)