پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ہفتے کو افغان طالبان ترجمان کے اس بیان کی تردید کی ہے جس میں انہوں نے پاکستانی فوجی اہلکاروں پر حملے اور چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ ’افغان طالبان حکومت کے ترجمان موجودہ صورت حال پر اپنے جھوٹے اور بے بنیاد بیانات کی وجہ سے شدید طور پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔
’ان سے متعدد جھوٹ منسوب کیے جا سکتے ہیں، جن میں ایک طیارہ مار گرانے کی جعلی خبر بھی شامل ہے جو بری طرح بے نقاب ہو گئی۔‘
افغان طالبان کی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیے گئے ’آپریشن میں قندھار، ننگرہار، کنڑ، خوست، پکتیا اور پکتیکا صوبوں میں نام نہاد ڈیورنڈ لائن کے ساتھ ساتھ پاکستان کی افواج کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے۔‘
طلوع نیوز نے 6 مارچ کو رپورٹ کیا کہ طالبان ترجمان عنایت اللہ خوارزمی کا کہنا ہے کہ ’یہ حملے 28 مختلف مقامات پر کیے گئے جن کے نتیجے میں پاکستان کی فوجی حکومت کی 14 فوجی چوکیوں پر قبضہ کیا گیا اور انہیں تباہ کر دیا گیا۔‘
اس حوالے سے پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ’افغان طالبان حکومت کے ترجمان اپنے جھوٹے اور بے بنیاد بیانات کی وجہ سے شدید طور پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون نظام کو درست اور مصدقہ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کسی قسم کا شہری نقصان نہ ہو۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عطا تارڑ نے کہا کہ ’افغان طالبان کی جانب سے مبینہ حملے، جو فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر کیے گئے، ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ افغان طالبان حکومت اور ان کی سرزمین سے سرگرم متعدد دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گہرا گٹھ جوڑ موجود ہے۔
’ایسی تمام کوششوں کا فوری اور مؤثر جواب دیا جاتا ہے اور سخت جوابی کارروائی کی جاتی ہے — تیز، درست اور مؤثر انداز میں۔ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے خیالی اعداد و شمار کسی سنجیدہ تبصرے کے قابل نہیں ہیں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے 6 مارچ 2026 تک کے کچھ اعداد و شمار بھی شیئر کیے۔
ان اعداد و شمار کے مطابق اب تک پاکستانی کارروائیوں میں ’کل 527 افغان اہلکار‘ مارے جا چکے ہیں جبکہ 755 کے قریب زخمی ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق ان حملوں میں طالبان کی 237 چیک پوسٹس تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ 38 پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب افغانستان کے وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد نے جمعے کو پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں کہا کہ ’اگر کابل محفوظ نہیں ہے تو اسلام آباد بھی محفوظ نہیں ہوگا۔ اگر کابل پر حملہ ہوا تو اسلام آباد پر بھی حملہ ہوگا۔‘
انہوں نے یہ بات طلوع نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ افغان حکومت، موجودہ نظام اور عوام پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتی۔