تصفیہ نہ ہونے کے باوجود پاکستانی وقار میں اضافہ

ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا، اور پاکستان پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے اپنا ثالثی کا کردار ادا کرنا جاری رکھے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امن برقرار رہے۔

پاکستانی رینجر اہلکار 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے لگے بل بورڈ کے پاس سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)

اگرچہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ-ایران مذاکرات 1979 کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والی پہلی براہِ راست بات چیت تھی اور یہ ایک خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئے، تاہم دونوں فریق مستقبل کے مذاکرات کے لیے کسی عمومی فریم ورک پر متفق ہونے میں ناکام رہے۔

ایران کے موقف میں تبدیلی لانے کی کوشش میں، امریکی مذاکراتی ٹیم نے ’مانو یا نہ مانو‘ کی بنیاد پر ایک حتمی پیشکش کی اور اسلام آباد سے روانہ ہوگئی۔

ایٹمی معاملے اور آبنائے ہرمز پر پائے جانے والے اختلافات واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی حتمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے۔ امریکہ چاہتا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی بند کرے اور اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

اسی طرح، جہاں امریکہ نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے پر اصرار کیا، وہیں ایران کا موقف تھا کہ یہ اہم آبی گزرگاہ صرف اسی صورت میں کھولی جائے گی جب کوئی مستقل تصفیہ ہو جائے گا۔

بہر حال، دو ہفتوں سے جاری جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، اور امریکی حتمی پیشکش پر ایران کا ردعمل ہی مستقبل کی پیش رفت کا رخ متعین کرے گا۔

جب تمام امیدیں دم توڑ چکی تھیں، اس وقت جنگ کو رکوانے اور ایران و امریکہ کی اعلیٰ ترین قیادت کو براہِ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد لانے کی صلاحیت بذاتِ خود ایک بڑی کامیابی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات، ریاض کے ساتھ قریبی مراسم، ایرانی قیادت کا اعتماد اور بیجنگ کے ساتھ دوستانہ تعلقات نے پاکستان کو اس قابل بنایا کہ وہ متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کر سکے۔

ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا، اور پاکستان پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے اپنا ثالثی کا کردار ادا کرنا جاری رکھے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امن برقرار رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کو برقرار رکھتے ہوئے، ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے مصر، قطر اور ترکی جیسی ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صلاحیت نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی قوت بنا دیا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

نائن الیون کے بعد سے خلیج میں پاکستان کا تاثر ایک ایسی ریاست کا تھا جو مالی امداد مانگتی تھی اور اپنے اندرونی سیاسی تنازعات کو حل کرنے کے لیے خطے کے دوستوں پر بھروسہ کرتی تھی۔

تاہم، پاکستان کی فعال سفارت کاری نے پانسہ پلٹ دیا ہے کیونکہ ملک نے خود کو نہ صرف ایک قابلِ اعتماد سکیورٹی پارٹنر بلکہ ایک بھروسہ مند ثالث کے طور پر بھی منوا لیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بعد کا علاقائی نظم و ضبط پاکستان کے لیے مزید سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی گنجائش پیدا کرے گا۔ خلیج کے مزید ممالک کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ امریکی سکیورٹی ڈھانچہ بظاہر اپنی افادیت کھو چکا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی اداروں سے دوست ممالک کی افواج کی تربیت، مشاورت اور معاونت کے لیے کہا جائے گا تاکہ ان کی آپریشنل سکیورٹی کی تیاریوں کو بہتر بنایا جا سکے۔

پاکستان کے لیے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے اور تنازع کسی زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوتا ہے، تو اس کے پاکستان کی معیشت، سکیورٹی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ امن و استحکام کے لیے پاکستان کو دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر اپنا فعال سفارتی کردار ادا کرنا جاری رکھنا ہوگا۔

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کے باوجود، پاکستان کو حاصل ہونے والے درج ذیل فوائد غیر متنازع ہیں۔

سب سے اہم پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کی نئی تشکیل ہے۔ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اپنے محدود وسائل، اثر و رسوخ اور بے شمار چیلنجز کے باوجود اپنے محدود پتے بہت دانشمندی سے کھیلے ہیں۔

اب پاکستان کو ایک ایسے امن ساز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو امریکہ اور ایران جیسے کٹر حریفوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے احترام، خیر سگالی اور مثبت تشخص میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ اس سے پاکستان کے بارے میں کئی غلط فہمیوں، من گھڑت قصوں اور فرسودہ خیالات کو ختم کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔

وہ غیر ملکی صحافی جو امریکہ-ایران مذاکرات کی کوریج کے لیے اسلام آباد آئے تھے، وہ پاکستان کی فراخدلانہ مہمان نوازی اور یہاں کے لوگوں کی امن پسند فطرت کے بارے میں بھی رپورٹ کریں گے۔

اسی طرح، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے باوجود ایران میں موجودہ نظام کا برقرار رہنا پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے۔ خامنہ ای کے صاحبزادے، مجتبیٰ خامنہ ای ان کے جانشین بنے ہیں، جو کہ پرانے نظام کی لچک اور تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔

اگر موجودہ حکومت کی جگہ کوئی اسرائیل نواز انتظامیہ آ جاتی، تو پاکستان اپنی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر دو معاندانہ قوتوں کے درمیان پس کر رہ جاتا۔ اس صورتحال سے بلوچستان میں نسلی علیحدگی پسند شورش کو بھی شہ ملتی۔

یہ پاکستان کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے بھی اچھی خبر ہے۔ اس خیر سگالی کے اشارے نے پاکستان کی غیر جانبداری کو مستحکم کیا ہے، جس سے ملک کی قیادت کو ملک میں نازک فرقہ وارانہ توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

اگرچہ توانائی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، لیکن ایرانی قیادت کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات اسے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل گزارنے کی اجازت دیں گے۔

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کی میزبانی نے نہ صرف انڈین پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، بلکہ اس سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ناکامی بھی نمایاں ہوئی۔

پاکستان نہ صرف عالمی منظرنامے پر اہمیت کا حامل ہے بلکہ دنیا کے اہم دارالحکومتوں کے ساتھ اچھے تعلقات بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کیے جانے کے بعد، سعودی عرب اور قطر نے اسے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس فراہم کیے ہیں، جس سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ملک کا بیل آؤٹ پیکیج پٹری پر رہے گا۔

اگلے ماہ، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان آنے والے بجٹ پر مذاکرات شروع ہوں گے۔ ریاض اور دوحہ کی جانب سے اس مالی فراخدلی سے اسلام آباد کو اپنی معیشت کو میکرو اکنامک بحالی کی راہ پر برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

مختصراً یہ کہ، اسلام آباد مذاکرات نے پاکستان کے بین الاقوامی وقار میں اضافہ کیا ہے، اس کے مثبت تشخص  کو بحال کیا ہے، ملک کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد دی ہے اور دنیا کے سامنے اس کی سفارتی صلاحیت اور بصیرت کو نمایاں کیا ہے۔

اگر ملک دہشت گردی کے چیلنج پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ علاقائی رابطوں اور توانائی کے بڑے منصوبوں میں بھی تیز رفتار ترقی کرے گا۔

مصنف سنگاپور کے ایس راجرتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ