پاکستان اور ’کمزور‘ آسٹریلوی ٹیم کے درمیان تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سیریز کا پہلا میچ آج ہفتے کو راولپنڈی سٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے۔
آسٹریلیا اور پاکستان اگلے سال کے ورلڈ کپ کے لیے مضبوط کمبی نیشن بنانے کے ہدف کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
آسٹریلیا اپنے باقاعدہ کپتان پیٹ کمنز کے ساتھ ساتھ ان کے فاسٹ بولنگ پارٹنرز مچل سٹارک اور جوش ہیزل ووڈ اور اوپنر ٹریوس ہیڈ کے بغیر میدان میں اترے گا۔
ان سب کو انڈیا کی آئی پی ایل میں شرکت کے بعد ان کے ورک لوڈ کو سنبھالنے کے لیے آرام دیا گیا ہے۔
دورے کے لیے ابتدائی طور پر کپتان مقرر کیے گئے مچل مارش بھی ٹخنے کی چوٹ کے باعث باہر ہو گئے، جس کے بعد اب جوش انگلس سیریز میں قیادت کریں گے جس کے آخری دو میچ دو اور چار جون کو لاہور میں ہوں گے۔
اہم کھلاڑیوں کی کمی کے باوجود، انگلس نے سکواڈ کو اتنا باصلاحیت قرار دیا کہ وہ ایک اچھا مقابلہ کر سکے۔
انگلس نے جمعے کو کہا کہ 'ظاہر ہے، مچ سے محروم ہونا مایوس کن ہے اور بدقسمتی سے ہم کچھ اور کھلاڑیوں کی بھی کمی محسوس کر رہے ہیں لیکن ہمارے سکواڈ میں کچھ شاندار کھلاڑی موجود ہیں۔‘
آسٹریلیا 19 سالہ بلے باز اولی پیک اور فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر لیام سکاٹ کو شامل کرنے پر غور کرے گا جبکہ دراز قد فاسٹ بالر بلی سٹین لیک کی سات سال کے وقفے کے بعد واپسی ہو رہی ہے۔
انگلس نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو ہلکا نہیں لیا جائے گا۔
قائم مقام کپتان نے کہا: ’پاکستان کرکٹ کی ایک انتہائی بہترین ٹیم ہے اور انہیں ہلکا نہیں لیا جا سکتا اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔‘
پاکستان کو بھی باقاعدہ اوپنرز فخر زمان اور صائم ایوب کی کمی محسوس ہوگی جو دونوں انجری کے باعث سیریز کا حصہ نہیں ہیں جبکہ تجربہ کار وکٹ کیپر محمد رضوان کو ڈراپ کر دیا گیا ہے۔
دو سال قبل، رضوان نے 2002 کے بعد آسٹریلیا میں پاکستان کو پہلی ون ڈے سیریز جتوائی تھی۔
دو ماہ قبل بنگلہ دیش میں پاکستان کی 1-2 کی ون ڈے سیریز میں شکست کے دوران غیر حاضر رہنے والے تجربہ کار بلے باز بابر اعظم، فاسٹ بالر نسیم شاہ اور آل راؤنڈر شاداب خان واپس آ رہے ہیں۔
کپتان شاہین شاہ آفریدی نے امید ظاہر کی کہ ان کی ٹیم بہتری دکھائے گی اور اپنا ایک ہزارواں ون ڈے یادگار بنائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم ورلڈ کپ کے اسی ہدف کی طرف کام کر رہے ہیں اور جب آپ اس ایونٹ کے لیے ٹیم تیار کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کو کچھ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا پڑتا ہے اور ہم وہی کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ہزارویں میچ کا خاص موقع ہے اس لیے ہم اسے یادگار بنانا چاہتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آسٹریلیا (1019) اور انڈیا (1075) وہ دو دیگر ٹیمیں ہیں جنہوں نے ایک ہزار ون ڈے میچ کھیلے ہیں۔
موسم گرما میں پاکستان ہیٹ ویو کی زد میں ہے اور شدید گرم موسم کے اثرات کو کم کرنے کے لیے میچز تاخیر سے مقامی وقت کے مطابق شام 4:30 بجے (11:30 جی ایم ٹی) شروع ہوں گے۔
انگلس نے اعتراف کیا کہ آسٹریلیا میں سردیوں کے موسم سے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے گرم موسم ایک چیلنج ہوگا۔
دو سال قبل ایک ون ڈے میں آسٹریلیا کی قیادت کرنے والے انگلس نے کہا کہ ’بہت زیادہ گرمی اور مشکل رہی ہے، لیکن شکر ہے کہ یہ تاخیر سے شروع ہو رہا ہے اس لیے جب ہم شروع کریں گے تو موسم ٹھنڈا ہو جائے گا۔‘