آسٹریلیا کرکٹ کی بگ بیش لیگ (بی بی ایل) اپنی فرنچائزز کی نجکاری کے منصوبے میں تعطل کے بعد مستقبل کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ ٹوڈ گرینبرگ بضد ہیں کہ بی بی ایل کے مالی مستقبل کو محفوظ بنانے اور اسی دورانیے (ٹائم سلاٹ) میں کھیلے جانے والی دیگر خطیر سرمائے کی لیگز کے عروج کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
ان لیگز میں متحدہ عرب امارات کی ILT20، جنوبی افریقہ کی SA20 اور نیوزی لینڈ کی نجی تعاون سے دسمبر 2027 سے شروع ہونے والی NZ20 شامل ہیں۔
یہ تمام لیگز بہترین مقامی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
گرینبرگ نے مقامی میڈیا کو بتایا ’اگر آنے والے برسوں میں (دیگر لیگز کے) سیلری کیپ (کھلاڑیوں کے معاوضوں کی حد) ہمارے مقابلے میں زیادہ ہوں گے اور کھلاڑی وہاں زیادہ کما سکیں گے تو ظاہر ہے کھلاڑی اسی طرف جائیں گے۔ یہ ہمارے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’آسٹریلوی کرکٹ کے لیے ہمارا عزم ایک ایسی لیگ کا انعقاد ہے جو سال کے اہم ترین حصے، یعنی دسمبر اور جنوری کے دوران کھیلی جائے، اور اس مخصوص وقت میں وہ دنیا کی بہترین T20 لیگ ہو۔
’ایسا کرنے کے لیے ہمیں اپنے سیلری کیپس میں خطیر رقم رکھنا ہوگی تاکہ نہ صرف دنیا بھر سے بہترین کھلاڑیوں کو راغب کیا جا سکے بلکہ اپنے بہترین کھلاڑیوں کو بھی برقرار رکھا جا سکے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’کرکٹ میں نجی سرمائے کو لانے کا تصور کسی نہ کسی موڑ پر ناگزیر ہے۔‘
اگرچہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ایک مختلف دورانیے میں منعقد ہونے کی وجہ سے بی بی ایل کی براہ راست مدمقابل نہیں، تاہم اس نے فرنچائزز کے امیر مالکان کی بدولت بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے۔
انگلینڈ کی ’دی ہنڈریڈ‘ بھی نجی سرمائے کی آمد کے بعد کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔
لیکن آسٹریلیا میں یہ ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جہاں بگ بیش لیگ کی آٹھ ٹیموں میں سے ہر ایک کے حصص (سٹیکس) بیچنے کی ابتدائی تجویز پچھلے مہینے اس تشویش کے باعث رک گئی کہ کھیل کے مقامی حکام کا کنٹرول ختم ہو جائے گا۔
جہاں وکٹوریہ، ویسٹرن آسٹریلیا اور تسمانیا کی کرکٹ ایسوسی ایشنز نے اس اقدام کی حمایت کی اور ساؤتھ آسٹریلیا نے کہا کہ وہ اس خیال پر غور کے لیے تیار ہے، وہیں نیو ساؤتھ ویلز اور کوئینزلینڈ نے اس اقدام کو یکسر مسترد کر دیا۔
کوئینزلینڈ کرکٹ نے، جو برسبین ہیٹ کا انتظام سنبھالتی ہے، تشویش ظاہر کی کہ اس سے کھلاڑیوں کے معاوضے ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائیں گے اور ممکن ہے نجی مالکان نچلی سطح پر کھیل کی ترقی میں اتنی دلچسپی نہ لیں۔
سڈنی سکسرز اور سڈنی تھنڈر کو چلانے والی کرکٹ نیو ساؤتھ ویلز کو بھی اسی طرح کی تشویش ہے کہ یہ اقدام کھیل کی گورننس اور مقامی کھلاڑیوں کو تیار کرنے کے عمل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
’عارضی فائدہ‘
اس حوالے سے بی بی ایل کے انڈین سرمایہ کاروں کے قبضے میں جانے کا خوف بھی پایا جاتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ ممکنہ خریداروں کے طور پر آئی پی ایل کے امیر ترین مالکان کو دیکھا جا رہا ہے، جنہوں نے دنیا بھر میں دیگر مختصر فارمیٹ کے مقابلوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
آسٹریلیا کے سابق کپتان گریگ چیپل اس اقدام کے مخالفین میں شامل ہیں۔
ان کا استدلال ہے کہ بی بی ایل ان ریاستوں اور کمیونٹیز کی ملکیت ہے جنہوں نے اسے ایک کامیاب اور مقبول ترین برانڈ بنایا۔
تجارتی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے بھی انہوں نے کہا کہ لیگ کو بیچ دینا اس کا حل نہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے سڈنی مارننگ ہیرالڈ میں لکھا ’جس لمحے آپ بڑے پیمانے پر نجی ملکیت متعارف کرواتے ہیں تو آپ ایسی ترجیحات کو شامل کر دیتے ہیں جو کھیل کی طویل مدتی بہتری کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔
’نجی سرمایہ کار، چاہے وہ کتنی ہی اچھی نیت کیوں نہ رکھتے ہوں، آسٹریلوی کرکٹ کی بجائے اپنے شیئر ہولڈرز کو جواب دہ ہوتے ہیں۔‘
کرکٹ آسٹریلیا میں حکمت عملی کے سابق سربراہ اینڈریو جونز، جنہوں نے بی بی ایل کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا، وہ بھی اس سے مطمئن نظر نہیں آتے۔
انہوں نے ’دی آسٹریلین‘ اخبار کو بتایا ’ایک بار کی یہ فروخت صرف عارضی فائدہ (شوگر ہٹ) ہے، کوئی مستقل حل نہیں۔‘
انہوں نے دلیل دی کہ سپانسرشپ، بیٹنگ (شرط بازی)، ٹکٹنگ اور خواتین کے کھیل کو کمرشل بنانے پر زیادہ توجہ دے کر آمدنی کو بہتر طریقے سے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ان شکوک و شبہات کے باوجود گرینبرگ پرامید ہیں اور اب وہ ایک ’ملا جلا ملکیتی ماڈل‘ (ہائبرڈ اونرشپ ماڈل) لانے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ ماڈل ان بی بی ایل فرنچائزز کو اپنے حصص بیچنے کی اجازت دے گا جو ایسا کرنے کی خواہش مند ہیں جبکہ مخالفت کرنے والی فرنچائزز کو مکمل ملکیت برقرار رکھنے کا حق حاصل رہے گا۔
انہوں نے کہا ’اگر ہم سب ایک ہی وقت میں ایک ساتھ آگے نہیں بڑھتے تو کیا ہم اب بھی اسی سطح کی آمدنی اور مالیت حاصل کر سکتے ہیں؟
’میرا خیال ہے ہم ایسا کر سکتے ہیں لیکن مجھے ایک ایسی تجویز تیار کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا جو بالآخر ممبران اور ہمارے بورڈ کے سامنے پیش کی جا سکے۔‘