کیا پاکستان - انڈیا مذاکرات ممکن ہیں؟

پاکستان اور انڈیا شاید آج اسی مقام پر کھڑے ہیں۔ دونوں دوست نہیں اور شاید مستقبل قریب میں دوست بنیں بھی نہیں۔ مگر جغرافیہ دوستی کا محتاج نہیں ہوتا۔

مودی کی ہندوتوا سیاست نے انڈیا میں انتخابی کامیابیاں ضرور حاصل کی ہیں مگر اس نے پاکستان کے ساتھ مکالمے کی سیاسی قیمت بھی بڑھا دی ہے (تصویر: کو پائلٹ اے آئی)

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کی تاریخ میں جنگ اور مذاکرات کبھی ایک دوسرے کی مکمل ضد نہیں رہے۔ دونوں ملک لڑتے بھی رہے اور بات بھی کرتے رہے۔

سرحدوں پر گولیاں چلتی رہیں مگر سفارتی راستے مکمل بند نہیں ہوئے۔ حکومتیں ایک دوسرے پر الزامات لگاتی رہیں لیکن کہیں نہ کہیں کوئی بیک چینل، خفیہ رابطہ یا تیسرے ملک کے ذریعے پیغام رسانی کا سلسلہ موجود رہا۔ شاید دونوں ریاستوں کو ہمیشہ یہ احساس تھا کہ دشمنی کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، دو جوہری ہمسائے ہمیشہ ایک دوسرے سے منہ موڑ کر نہیں رہ سکتے۔

لیکن آج صورت حال مختلف ہے۔ گذشتہ ایک دہائی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان صرف مذاکرات نہیں رکے بلکہ بات چیت کی سیاسی گنجائش بھی مسلسل سکڑی ہے۔ مسئلہ اب محض کشمیر، دہشت گردی یا سرحدی تنازعات تک محدود نہیں۔ انڈیا کے اندر سیاست، قومی شناخت اور ریاست کے تصور میں آنے والی تبدیلی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بھی بدل دی ہے۔

آج سوال یہ نہیں کہ مذاکرات کب شروع ہوں گے۔ زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا بامعنی مذاکرات کے لیے سیاسی جگہ اب بھی باقی ہے؟

ماضی میں اختلافات شاید آج سے کم نہیں تھے۔ جنگیں ہوئیں، سیاچن کا تنازع پیدا ہوا، کشمیر میں مسلح تحریک اٹھی، کارگل ہوا اور ممبئی حملوں نے دونوں ممالک کو شدید بحران سے دوچار کیا۔ اس سب کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی شملہ میں بیٹھے۔ جنرل ضیا الحق کرکٹ دیکھنے دہلی پہنچ گئے۔ نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی نے لاہور میں مصافحہ کیا۔

جنرل پرویز مشرف اور من موہن سنگھ کے دور میں بیک چینل مذاکرات اس مقام تک پہنچے جہاں کشمیر کے حل کے لیے سرحدوں کو تبدیل کیے بغیر انہیں غیر متعلق بنانے جیسے تصورات پر سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ شاید اس وقت ایک بنیادی سیاسی اتفاق موجود تھا کہ بالآخر بات کرنا پڑے گی۔ آج یہی اتفاق ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس تبدیلی کو نریندر مودی اور ہندوتوا کی سیاست سے الگ کر کے سمجھنا مشکل ہے۔ گذشتہ ایک دہائی میں انڈیا میں ہندوتوا محض انتخابی نعرہ نہیں رہا بلکہ قومی شناخت کے ایک نئے تصور کے طور پر ابھرا ہے۔ اس تصور میں انڈیا بنیادی طور پر ایک ہندو تہذیبی ریاست ہے اور تاریخ کو ہندو عروج، مسلم اقتدار اور نوآبادیاتی غلامی کی باہمی کشمکش سے دیکھا جاتا ہے۔ جب ریاست اپنی موجودہ سیاست کو صدیوں پر محیط تہذیبی کشمکش کے تسلسل کے طور پر دیکھنا شروع کرے تو خارجہ پالیسی بھی اس تصور سے متاثر ہوتی ہے۔

پاکستان اس سیاست میں محض ایک ہمسایہ ملک نہیں۔ وہ تقسیم ہند، مسلم سیاسی شناخت اور دو قومی نظریے کی زندہ علامت بھی ہے۔ ہندوتوا کی سیاست کے لیے پاکستان سے اختلاف صرف سرحد یا کشمیر کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ تاریخ اور شناخت کی ایک بڑی بحث کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے خلاف سخت رویہ انڈیا کی داخلی سیاست میں سیاسی سرمایہ پیدا کر سکتا ہے جبکہ مذاکرات یا مصالحت کی بات کو کمزوری کے طور پر پیش کرنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔

یہاں اٹل بہاری واجپائی اور مودی کا فرق اہم ہے۔ واجپائی بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور ہندو قوم پرستی کی روایت سے وابستہ تھے مگر ان کی سیاست میں حقیقت پسندی کی گنجائش موجود تھی۔ ان کا بس کے ذریعے لاہور آنا اور مینار پاکستان جانا محض سفارتی علامت نہیں تھی۔ ایک ہندو قوم پرست انڈین وزیر اعظم کا مینار پاکستان پر کھڑا ہونا دراصل اس سیاسی حقیقت کا اعتراف تھا کہ تقسیم ہو چکی، پاکستان موجود ہے اور تاریخ کو واپس نہیں موڑا جا سکتا۔ واجپائی شاید سمجھتے تھے کہ تاریخ سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر جغرافیے سے انکار ممکن نہیں۔

مودی کی سیاست نے اس حقیقت پسندی کی جگہ بڑی حد تک نظریاتی سیاست کو دی ہے۔ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ، شہریت کے قوانین پر تنازع، مسلمانوں کے بارے میں سیاسی بیان بازی، مذہبی علامات کا بڑھتا ہوا ریاستی استعمال اور تاریخ کو ایک نئے نظریاتی زاویے سے بیان کرنے کی کوششیں اسی تبدیلی کے مختلف مظاہر ہیں۔ اس ماحول میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات صرف خارجہ پالیسی کا فیصلہ نہیں رہتے بلکہ اس داخلی بیانیے سے ٹکراتے ہیں جس پر موجودہ انڈین حکومت نے اپنی مقبولیت کا ایک حصہ تعمیر کیا ہے۔

یہ شاید مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی ساختی رکاوٹ ہے۔

جب کسی ملک کو مسلسل قومی شناخت کے لیے خطرے کے طور پر پیش کیا جائے تو اس کے ساتھ بات کرنا بھی سیاسی طور پر مشکوک عمل بن سکتا ہے۔

پاکستان سے مذاکرات کی حمایت کرنے والا سیاست دان، صحافی یا دانشور آسانی سے اس سوال کی زد میں آ سکتا ہے کہ وہ قومی مفاد کے ساتھ کھڑا ہے یا پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ نتیجتاً مکالمے کی سیاسی قیمت بڑھتی اور خاموشی زیادہ محفوظ راستہ بنتی جاتی ہے۔

لیکن مسئلہ صرف ہندوتوا نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد اب تقریباً ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کشمیر بنیادی تنازع ہے اور اس کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ انڈیا دہشت گردی کو بنیادی مسئلہ قرار دیتا ہے اور پاکستان سے ایسے اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے جنہیں وہ مذاکرات سے پہلے ضروری سمجھتا ہے۔ دونوں نے بات چیت کے لیے ایسی پیشگی شرائط قائم کر دی ہیں جن کا پورا ہونا شاید خود مذاکرات کے بغیر ممکن نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے ساتھ انڈیا میں ایک نئی سوچ بھی مضبوط ہوئی ہے۔ نئی دہلی کے پالیسی حلقوں کا ایک حصہ سمجھتا ہے کہ انڈیا کو اب پاکستان کے ساتھ مستقل مذاکرات کی ضرورت نہیں۔ انڈین معیشت کہیں بڑی ہے، عالمی اثر و رسوخ بڑھا ہے اور امریکہ اسے چین کے مقابل ایک اہم تزویراتی شراکت دار سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ اس تناظر میں یہ تصور پیدا ہوا کہ وقت انڈیا کے حق میں ہے۔ پاکستان کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت نہیں، اسے صرف محدود اور قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

یہ سوچ بظاہر منطقی معلوم ہوتی ہے مگر اس میں ایک بنیادی خامی ہے۔ جغرافیہ معاشی اعداد و شمار سے تبدیل نہیں ہوتا۔ پاکستان انڈیا کا ہمسایہ ہے، دونوں جوہری طاقتیں ہیں، کشمیر کا تنازع موجود ہے اور دونوں جدید میزائل اور ڈرون صلاحیتیں حاصل کر رہے ہیں۔ انڈیا عالمی سفارت کاری میں پاکستان کو نظر انداز کر سکتا ہے مگر اپنی مغربی سرحد سے اسے غائب نہیں کر سکتا۔

بلکہ طاقت کا بڑھتا ہوا عدم توازن بعض اوقات امن کے بجائے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔ بڑی طاقت یہ سمجھ سکتی ہے کہ وہ محدود فوجی کارروائی کر کے بحران کو اپنی مرضی کے مطابق قابو میں رکھ سکتی ہے۔ نسبتاً کمزور ریاست اپنی بازدار قوت ثابت کرنے کے لیے زیادہ تیز ردعمل دے سکتی ہے۔ ایسے حالات میں اصل خطرہ دانستہ جنگ سے زیادہ غلط اندازے کا ہوتا ہے۔ ایک فریق سمجھتا ہے کہ دوسرا جواب نہیں دے گا، دوسرا جواب دیتا ہے اور پھر دونوں ایک ایسی سیڑھی پر چڑھنا شروع کر دیتے ہیں جہاں ہر اگلا قدم پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

حالیہ فوجی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر یہی دکھایا ہے۔ جدید جنگ میں فیصلہ کرنے کا وقت مختصر ہو چکا ہے۔ ڈرون، میزائل اور فوری جوابی کارروائی کے عسکری نظریات سیاسی قیادت کو سوچنے کے لیے وہ مہلت نہیں دیتے جو ماضی میں شاید دستیاب تھی۔ اسی لیے مذاکرات کو دوستی کی خواہش سمجھنا غلط ہے۔ مذاکرات بحران کو قابو میں رکھنے کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔ امریکہ اور سوویت یونین سرد جنگ کے عروج پر ایک دوسرے کو بنیادی دشمن سمجھتے تھے مگر رابطے کے راستے کھلے رکھتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ جنگ صرف ارادے سے نہیں، غلط فہمی سے بھی شروع ہو سکتی ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان آج یہی خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ہائی کمشنرز کی سطح کے تعلقات مکمل طور پر بحال نہیں، تجارت تقریباً ختم ہے، کھیل، ثقافت اور عوامی روابط سکڑ چکے ہیں اور ویزا کا نظام انتہائی مشکل ہے۔ دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ میں بھی ایک دوسرے کے بارے میں سنجیدہ گفتگو کی جگہ کم ہوئی ہے۔ جب ریاستی رابطے محدود ہوں، عوام ایک دوسرے سے نہ ملیں اور میڈیا دشمنی کے بیانیے کو مضبوط کرے تو بحران میں غلط فہمی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدے کا مستقبل صورت حال کو مزید خطرناک بناتا ہے۔ پانی پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور انسانی سلامتی کا سوال ہے۔ دریائے سندھ کے نظام سے کروڑوں لوگوں کی زندگی اور زرعی معیشت وابستہ ہے۔ اگر پانی کو سیاسی یا عسکری دباؤ کے آلے کے طور پر دیکھا جانے لگے تو تنازع ایک نئی سطح میں داخل ہو جائے گا۔ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی گلیشیئرز، بارشوں اور پانی کی دستیابی کو متاثر کر رہی ہے۔ جس مسئلے پر دونوں ممالک کو سب سے زیادہ تعاون کی ضرورت تھی، وہی نئی کشیدگی کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

تو کیا مذاکرات ممکن ہیں؟ شاید ہاں، مگر کسی بڑے امن عمل کی فوری توقع حقیقت پسندانہ نہیں۔ موجودہ انڈین سیاست، ہندوتوا کے بڑھتے اثر اور اعتماد کی شدید کمی کو دیکھتے ہوئے کسی نئے لاہور عمل یا مشرف، من موہن بیک چینل کی فوری واپسی مشکل ہے۔ مگر شاید ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم مذاکرات کو ہمیشہ کشمیر کے حتمی حل یا کسی تاریخی امن معاہدے سے جوڑ دیتے ہیں۔

اس وقت مذاکرات کا پہلا مقصد امن قائم کرنا نہیں بلکہ اگلی جنگ کو روکنا ہونا چاہیے۔ دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان مستقل غیر اعلانیہ رابطہ ہو سکتا ہے۔ فوجی سطح پر رابطے کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ ہائی کمشنرز واپس آ سکتے ہیں۔ پانی پر الگ تکنیکی مکالمہ شروع ہو سکتا ہے اور مذہبی زائرین، منقسم خاندانوں اور طبی بنیادوں پر ویزا میں نرمی کی جا سکتی ہے۔ یہ اقدامات کشمیر حل نہیں کریں گے اور نہ ہی دونوں ممالک کو دوست بنا دیں گے۔ مگر اگلے بحران میں سیاسی قیادت کو چند اضافی گھنٹے اور رابطے کا راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔ دو جوہری ہمسایوں کے درمیان کبھی کبھی یہی چند گھنٹے سب سے قیمتی ہوتے ہیں۔

پاکستان کو بھی سمجھنا ہوگا کہ سفارتی قوت صرف مؤقف کی اخلاقی یا قانونی صداقت سے پیدا نہیں ہوتی۔ ریاستوں کی آواز ان کی معاشی طاقت، سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی صلاحیت سے بھی جڑی ہوتی ہے۔

انڈیا کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے مگر پاکستان کو اپنی داخلی کمزوریوں سے بھی آنکھیں نہیں چرانی چاہییں۔ مسلسل سیاسی بحران اور معاشی انحصار کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی کے امکانات محدود کر دیتے ہیں۔

مگر زیادہ ذمہ داری انڈیا پر عائد ہوتی ہے۔ بڑی طاقت ہونا صرف بڑی معیشت، بڑی فوج اور عالمی اجلاسوں میں نمایاں نشست کا نام نہیں۔ بڑی طاقت اپنے جغرافیے کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اگر انڈیا واقعی عالمی قیادت کا خواہش مند ہے تو اسے سوچنا ہوگا کہ وہ جنوبی ایشیا کو مستقل بحران میں رکھ کر دنیا میں استحکام کی قوت ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے۔ پاکستان کو نظر انداز کرنا وقتی پالیسی ہو سکتی ہے، پاکستان کے ساتھ موجود مسائل کو ہمیشہ نظر انداز کرنا حکمت عملی نہیں۔

مودی کی ہندوتوا سیاست نے انڈیا میں انتخابی کامیابیاں ضرور حاصل کی ہیں مگر اس نے پاکستان کے ساتھ مکالمے کی سیاسی قیمت بھی بڑھا دی ہے۔ نظریاتی سیاست کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ ساتھ خود ریاست کے راستے بھی محدود کرتی ہے۔ اگر برسوں تک عوام کو بتایا جائے کہ دوسرا ملک مستقل دشمن، تہذیبی خطرہ اور قومی شناخت کی ضد ہے تو ایک دن اس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ریاست اپنے ہی بنائے ہوئے بیانیے کی قیدی بننے لگتی ہے۔

پاکستان اور انڈیا شاید آج اسی مقام پر کھڑے ہیں۔ دونوں دوست نہیں اور شاید مستقبل قریب میں دوست بنیں بھی نہیں۔ مگر جغرافیہ دوستی کا محتاج نہیں ہوتا۔ دریاؤں کو ویزا نہیں چاہیے، سرحدیں نقشوں سے غائب نہیں ہوتیں اور جوہری ہتھیار ٹیلی ویژن کی بحثوں میں استعمال ہونے والے نعروں کی پروا نہیں کرتے۔

شاید پاکستان اور انڈیا کے درمیان امن ابھی بہت دور ہے۔ مگر امن اور جنگ کے درمیان بھی ایک جگہ ہوتی ہے۔ وہاں ریاستیں اختلاف کے باوجود بات کرتی ہیں، دشمنی کے باوجود رابطہ رکھتی ہیں اور کم از کم اتنی عقل مندی دکھاتی ہیں کہ ایک غلط اندازے کو لاکھوں انسانوں کا مقدر نہ بننے دیں۔

پاکستان اور انڈیا کو شاید ابھی امن کرنا نہیں آتا۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا وہ جنگ سے پہلے بات کرنا سیکھ سکتے ہیں؟

ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سینٹر برائے اافریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا صروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ