پاکستان کی پہلی چار سالہ حج پالیسی میں اہم کیا ہے؟

نئی حج پالیسی کے تحت حج کے خواہش مند افراد کو ہر سال رجسٹریشن نہیں کروانا پڑے گی بلکہ وہ 2030 تک کسی بھی سال کے حج کے لیے ایک مرتبہ رجسٹر ہو سکیں گے۔

مسجد الحرام میں 20 مئی 2026 کو دنیا بھر سے آئے حجاج کرام خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے منگل کو ملک کی پہلی چار سالہ حج پالیسی اور منصوبہ (2027 تا 2030) کی منظوری دے دی، جس کے تحت اب عازمین حج کو ہر سال نئی رجسٹریشن کروانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

کابینہ اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نئی حج پالیسی کے تحت حج کے خواہش مند افراد کو ہر سال رجسٹریشن نہیں کروانا پڑے گی بلکہ وہ 2030 تک کسی بھی سال کے حج کے لیے ایک مرتبہ رجسٹر ہو سکیں گے۔

وزارت مذہبی امور نے تمام خواہشمند عازمین حج سے جلد رجسٹریشن مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ آئندہ حج پالیسی کے تحت اپنی اہلیت برقرار رکھ سکیں۔

ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ حج مکمل طور پر ڈیجیٹل دور میں داخل، صرف 14 دن میں 2 لاکھ 32 ہزار سے زائد عازمین گھر بیٹھے خود کو رجسٹرڈ کروایا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے قبل صرف ایک سال کے لیے حج پالیسی جاری کی جاتی تھی لیکن نئی ’پالیسی کا مقصد طویل المدتی منصوبہ بندی کو ممکن بنانا، انتظامی کارکردگی بہتر کرنا اور عازمینِ حج کو زیادہ بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔‘

حج پالیسی 2027-2030: اہم نکات کا خلاصہ

پاکستان کی پہلی چار سالہ حج پالیسی 2027 سے 2030 تک نافذ رہے گی۔

عازمین کو ہر سال نئی رجسٹریشن کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی: ایک بار رجسٹریشن کے بعد 2030 تک کسی بھی سال حج کے لیے انتخاب ممکن ہوگا۔

رجسٹرڈ افراد کی بنیاد پر ترجیحی ویٹنگ لسٹ تیار کی جائے گی۔

حج کے اخراجات کے لیے شریعہ کے مطابق بچت سکیم متعارف کرائی جائے گی۔

حج کے پورے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا، جس میں:

  • ڈیجیٹل ادائیگیاں
  • ڈیجیٹل شکایات کا نظام
  • ڈیجیٹل نگرانی شامل ہوگی۔
  • سرکاری اور نجی حج سکیموں کے لیے الگ الگ کوٹہ برقرار رکھا گیا ہے۔
  • مختصر اور طویل مدت کے حج پیکیجز متعارف کرائے جائیں گے۔
  • عازمین کے لیے لازمی تربیت کا نظام ہوگا۔
  • تکافل (اسلامی انشورنس) کے انتظامات یقینی بنائے جائیں گے۔
  • ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی رسپانس اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
  • حج معاونین کی تقرری شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر ہوگی۔
  • پالیسی میں ضرورت کے مطابق سعودی قوانین کے مطابق ترمیم کی جا سکے گی۔

پالیسی کے نفاذ کا مرکز رجسٹریشن کے نئے نظام، ڈیجیٹلائزیشن، عازمین کی تربیت، مالی سہولتوں، شفاف انتظام اور بہتر منصوبہ بندی پر ہے تاکہ حج انتظامات زیادہ مؤثر اور سہل بنائے جا سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ نیشنل آئی ٹی بورڈ کے تعاون سے تیار کی گئی پاک حج موبائل ایپ اور آن لائن حج پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کا عمل انتہائی آسان، تیز، محفوظ اور شفاف بنایا گیا ہے۔

اس جدید نظام نے عازمین کو بینکوں اور دفاتر کے طویل چکروں سے نجات دلائی ہے اور چند منٹ میں رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 1 لاکھ 75 ہزار عازمین نے سرکاری حج سکیم جبکہ تقریباً 58 ہزار عازمین نے پرائیویٹ حج سکیم کے تحت رجسٹریشن کرائی۔

صوبہ وار اعداد و شمار کے مطابق پنجاب سے 1 لاکھ 8 ہزار، سندھ سے 71 ہزار، خیبر پختونخوا سے 33 ہزار، اسلام آباد سے 11 ہزار، بلوچستان سے 7 ہزار، پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے 1 ہزار 500 اور گلگت بلتستان سے 700 افراد رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔

رجسٹرڈ عازمین میں 1 لاکھ 36 ہزار مرد جبکہ 96 ہزار خواتین شامل ہیں، جو حج کی ادائیگی کے لیے اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔

ترجمان وزارت مذہبی امور نے واضح کیا کہ آئندہ مرحلے سے متعلق ہدایات موصول ہونے تک حج 2027 تا 2030 کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا عمل جاری رہے گا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان