پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے بدھ کو کہا ہے کہ گذشتہ شب کراچی کے قریب لاپتہ ہونے والے کارگو طیارے کا ملبہ 12 گھنٹے کے سرچ آپریشن کے بعد تلاش کر لیا گیا ہے۔
ایئرپورٹس اتھارٹی کے بیان کے مطابق: ’پاکستان نیوی اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے گہرے سمندر میں 12 گھنٹے پر محیط سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے بعد گذشتہ رات لاپتہ قرار دیے گئے K2 Airways Cargo Boeing 737 کے ملبے کو کامیابی سے تلاش اور شناخت کر لیا ہے۔‘
بیان کے مطابق: ’طیارے کا ملبہ اورماڑہ کے جنوب میں 53 ناٹیکل میل کے فاصلے پر دریافت ہوا۔‘
مزید بتایا گیا کہ ’ملبے کی تلاش کے لیے پاکستان نیوی اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مختلف فضائی اور بحری ذرائع استعمال کیے گئے، جن کی بدولت طیارے کے مقام کا تعین ممکن ہوا۔ لاپتہ عملے کے ارکان کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔‘
ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق ’سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں پیش رفت کے ساتھ مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔’
اس سے قبل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ شارجہ سے پاکستان آنے والا ایک کارگو طیارہ کراچی سے تقریباً 155 کلومیٹر دور لاپتہ ہو گیا جس کے بعد سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
اتھارٹی کے بیان کے مطابق کے ٹو ایئرویز کا ایک بوئنگ 737 کارگو طیارہ، جو شارجہ سے کراچی جا رہا تھا، نے رات 9 بجکر 18 منٹ (پاکستانی وقت) پر اپنی نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق بوئنگ 737-4MO طیارے میں عملے کے پانچ ارکان سوار تھے۔
اتھارٹی کے مطابق کراچی ایریا کنٹرول سینٹر (اے سی سی) نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی شروع کی، تاہم 9 بجکر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارے کو تیزی سے نیچے آتے اور اچانک سمت تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
بیان کے مطابق اس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہوا۔
کے ٹو ایئرویز پاکستان کی ایک نجی فضائی کمپنی ہے جس کا صدر دفتر کراچی میں واقع ہے۔ یہ مئی 2018 میں پاکستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایئرلائن چارٹر لائسنس کے تحت قائم کی گئی تھی اور اس کے سربراہ طارق مجید راجہ ہیں۔
ایئرپورٹس ارٹھارٹی نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا اور لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے مختلف اداروں کے تعاون سے سمندر میں مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس حوالے سے پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کے ٹو ایئرویز کے لاپتہ کارگو طیارے کے لیے جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن وسیع کر دیا گیا ہے اور پاکستانی بحریہ، فضائیہ اور دیگر ادارے بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان بحریہ کا جہاز پی این ایس ذوالفقار متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی فضائیہ کے اثاثے بھی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق پاکستانی بحریہ کا اے ٹی آر طیارہ تربت سے پرواز کر چکا ہے، جبکہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کا تجارتی جہاز لاہور بھی جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہا ہے۔
کے ٹو ایئرویز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لاپتہ طیارے میں سوار عملے کے پانچ ارکان میں پائلٹ ان کمانڈ محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان، انجینیئر عارف صدیقی اور انجینیئر محمد حامد شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان ایئر لائنز (پی آئی اے) نے ایک بیان میں کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کے بحیرہ عرب میں گرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
کے ٹو ایئرویز کی کارگو سروسز کا آغاز بوئنگ 737-4MO طیارے سے کیا گیا، جو فضائی مال برداری کے شعبے میں لاگت کے اعتبار سے انتہائی مؤثر طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس طیارے کی خصوصی وزن برداری اور پرواز کی حدود ایسی ہیں، جو صارفین کے ایندھن سے متعلق اخراجات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
حادثے کا شکار ہونے والا یہ جہاز ایک ایسا طیارہ تھا جس نے طویل عرصہ مختلف ایئرلائنز میں خدمات انجام دیں۔
رجسٹری کے ریکارڈ کے مطابق یہ بوئنگ 737-4 طیارہ اپریل 1999 میں تیار ہوا اور ابتدا میں اسے مسافر بردار طیارے کے طور پر فراہم کیا گیا۔
پھر یہ انڈونیشیا کے بیڑے میں شامل رہا اور 2012 میں اسےکارگو طیارے میں تبدیل کیا گیا۔ اس کے بعد یہ مختلف کمپنیوں کے زیر استعمال رہا اور اکتوبر2024 میں اسے لیز پر کے ٹو ایئرویز کے حوالے کیا گیا۔