انڈین دارالحکومت نئی دہلی کے مرکزی علاقے میں منگل کو سینکڑوں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے، جبکہ الیکشن کمیشن کے دفتر جانے والے راستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔
انڈیا میں اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے متنازع عمل کے خلاف چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی مخالف جماعتوں اور نوجوانوں کی مقبول تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ احتجاج گذشتہ ماہ اخبار انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ کے بعد کیا جا رہا ہے، جس میں انتخابی ادارے کے اندر اختلافات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
رپورٹ میں ووٹر فہرستوں اور ووٹرز کے اندراج کے طریقہ کار پر اختلافات کا ذکر کیا گیا تھا، جس کے بعد الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی فوٹیج میں پارلیمنٹ اور سرکاری دفاتر کے قریب واقع الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر سینکڑوں سکیورٹی اہلکار تعینات دکھائی دیے۔ ان میں سے بعض اہلکاروں کے ہاتھوں میں ڈنڈے بھی تھے، جبکہ دفتر کے اطراف میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔
انڈیا کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مخالف جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ کا مارچ صبح 11 بجے پارلیمنٹ سے شروع ہو کر الیکشن کمیشن کے دفتر تک جانا تھا۔
کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل سے نریندر مودی اور ان کی جماعت کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم الیکشن کمیشن اور مودی کی جماعت بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
حکام نے شہریوں کو احتجاج کے متوقع مقامات کے آس پاس سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا، جبکہ بعض راستے بھی بند کر دیے گئے۔
منگل کو ہونے والا یہ احتجاج ان مظاہروں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے جو گذشتہ ہفتے نوجوانوں کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی شروع ہونے کے بعد سے طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور اس تحریک کی جانب سے تقریباً روزانہ کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب انڈیا کی سپریم کورٹ نے پیر کو انتخابی ادارے کی جانب سے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کی مہم اور چیف الیکشن کمشنر کے طرزِ عمل سے متعلق الزامات پر مداخلت کی درخواستوں کی سماعت پر اتفاق کیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ’اگر قانون کے خلاف فیصلے کیے گئے ہیں تو ہم اس معاملے کو دیکھیں گے۔‘