کشمیر کے آغا کی سیاست

بعض حلقوں نے آغا روح اللہ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے طفیل متو کی موت کا سیاسی فائدہ اٹھا کر ان کے والد کے ہاتھوں میں استعفیٰ دیا تاکہ عوام کے جذبات کو ابھارا جاسکے حالانکہ وہ اس جرم میں برابر کے شریک رہے ہیں۔

آغا سید روح اللہ مہدی جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی بنیادی رکنیت اور سری نگر لوک سبھا پارلیمانی حلقے سے مستعفی ہو گئے ہیں (آغا سید روح اللہ مہدی انسٹاگرام اکاؤنٹ)

’نیشنل کانفرنس نے عوامی منڈیٹ کا مذاق اُڑایا ہے، عمر عبداللہ نہ صرف نا اہل ہیں بلکہ بے غیرت بھی، آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے انتخابی مہم میں مجھے استعمال کرکے ووٹ حاصل کیے، پھر بی جے پی کی زبان استعمال کرکے ووٹروں کے جذبات سے کھیلا گیا، جس کی عوام کو قطعا اُمید نہیں تھی، جب میں نے پارٹی میں رہ کر یا پارلیمان میں آئینی حقوق کی بحالی کی بات کی تو مجھے باغی قرار دیا، اگر کسی میں مرکزی سرکار کی پالیسی کے خلاف بات کرنے کی جرت ہے تو اس کو غداری کا لیبل دیا جاتا ہے۔‘

یہ تھے وہ کلمات جن کا آغا روح اللہ نے چند روز پہلے اپنے آبائی علاقے بڈگام میں ایک بڑا جلسہ بلا کر اظہار کیا اور خطاب کے دوران 2010 میں مارے جانے والے نوعمر طفیل متو کے والد کے ہاتھوں میں پرچہ تھما کر نیشنل کانفرنس اور پارلیمان سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

 اس روز روح اللہ اپنے والد کی برسی بھی منا رہے تھے، جنہیں دو دہائی قبل ایک حملے میں مار دیا گیا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

آپ کو یاد ہوگا 2010 میں نیشنل کانفرنس کی حکومت کے دوران 120 لڑکوں کو جان سے مارا گیا تھا، جب روح اللہ نیشنل کانفرنس میں وزیر کی حثیت سے شامل تھے۔

بعض حلقوں نے آغا روح اللہ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے طفیل متو کی موت کا سیاسی فائدہ اٹھا کر ان کے والد کے ہاتھوں میں استعفیٰ دیا تاکہ عوام کے جذبات کو ابھارا جاسکے، حالانکہ وہ اس جرم میں برابر کے شریک رہے ہیں۔

آغا روح اللہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طفیل متو یا دوسری اموات کا ذکر اپنی سرکار کے ساتھ اور پھر پارلیمان میں کیا ہے اور وہ کبھی کسی کی موت پر سیاست نہیں کرتے۔

آغا روح اللہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں اس وقت لیڈرشپ کا شدید خلا ہے اور نوجوانوں کی اکثریت ایک نئی قیادت کی تلاش میں ہے۔

 انڈیا میں کاکروچ پارٹی کے حالیہ مظاہروں نے دوسرے علاقوں کی طرح کشمیر کو بھی متحرک کردیا ہے۔

بی جے پی نے آزادی کے خواب کو دفنانے کی آہنی پالیسی اپنائی لیکن اندرونی خود مختاری چھین کر اس نے اس خطے کو جس طرح سیاسی طور پر بے اختیار کردیا ہے، اسے لوگ ماننے کے لیے تیار نہیں، بھلے ہی وہ خاموش نظر آ رہے ہوں۔

خطے میں اندرونی خودمختاری بحال کرنے کا مطالبہ تقریباً ہر شہری نے کیا ہے اور جس کو ایجنڈا بنا کر نیشنل کانفرنس نے دو سال قبل انتخابی کامیابی حاصل کی، جس میں روح اللہ نے بھرپور کردار نبھایا تھا مگر نیشنل کانفرنس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے پر زور دیا۔

اندرونی خود مختاری کی بحالی کی خواہش کے پیش نظر روح اللہ بڑی تعداد میں لوگ جلسے میں جمع کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

 اس نظریے کو لے کر بیشتر پڑھے لکھے نوجوان ان سے جڑ رہے ہیں۔

انہوں نے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے باضمیر، دیانت دار، باہمت اور پڑھے لکھے لوگوں کو اپنے کاروان میں شامل ہونے کی اپیل کی۔

روح اللہ کے ایک مداح کے بقول: ’آغا نے اپنی جنگ محض آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے ہی نہیں شروع کی بلکہ اس سے بھی تاریخ کو پیچھے لے رہے ہیں، جب جموں و کشمیر نے ہندوستان کے ساتھ چند شرائط کے تحت الحاق کیا تھا۔

 ’اس خطے کی سیاسی حثیت اور خواہشات کو مد نظر رکھ کر انہوں نے ایک نئی تحریک شروع کی ہے، جو دوسری سیاسی جماعتوں کی چاپلوسی کی پالیسی کو ضرور شکست دے گی۔‘

روح اللہ کے استعفے کے بعد نیشنل کانفرنس کا شدید ردعمل سامنے آیا لیکن اس کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے عوام نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

 پارٹی کے سینیئر لیڈروں نے روح اللہ کے استعفے کو ’آپریشن لوٹس‘ کا نام دیا جو بی جے پی کی جانب سے کئی ریاستوں میں حکومتیں گرانے یا علاقائی پارٹیاں توڑنے کے لیے جانا جاتا ہے۔

یہ بھی کیا اتفاق ہے کہ جس وقت روح اللہ بڈگام میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے، اسی وقت بی جے پی کے سینیئر رہنما رام مادھو جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے اور روح اللہ کے جلسے کو اپنا ہی بتا رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیشنل کانفرنس نے فورا روح اللہ پر الزام عائد کیا کہ وہ پارٹی کو توڑنے اور حکومت گرانے کے بی جے پی کے دیرینہ خواب کو پورا کر رہے ہیں، جس کا اشارہ رام مادھو نے دیا۔ البتہ بعض عوامی حلقوں میں یہ رائے قائم ہے کہ اصل میں بی جے پی، نیشنل کانفرنس کی حکومت کو بچانے کی سعی کر رہی ہے، جو اس وقت سے مزید بے چینی کا شکار ہے، جب سے اس کے 20 سے زائد اراکین اسمبلی پارٹی لیڈرشپ کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرکے پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے حال ہی میں جب اپنی کابینہ میں توسیع اور وزیروں کا ردوبدل کیا تو ان کے کئی اراکین ناراض ہوگئے اور رعایت برتنے کے الزام کے بعد پارٹی سے الگ ہونے کی دھمکی دے دی۔

کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کی حکومت پس پردہ سن 84 کے واقعے کو دہرانا چاہتی ہے جب اس وقت کی کانگریس کی مرکزی حکومت نے نیشنل کانفرنس میں پھوٹ ڈال کر حکومت گرائی تھی اور الگ ہونے والے دھڑے کی حمایت کر کے ریاستی حکومت تشکیل دی تھی۔

سوشل میڈیا کے ایکٹوسٹ علی جان نے کہا: ’بی جے پی خطے کو بے اختیار کرکے ایک نیا انتشار پیدا کرنا چاہتی ہے ورنہ اسے نہ عمر عبداللہ اور نہ روح اللہ سے کوئی محبت ہے۔‘

ایک جانب بی جے پی کی سخت گیر پالسیاں عمر عبداللہ کی سرکار کے لیے دشواریاں پیدا کر رہی ہیں، دوسری جانب پارٹی کا اندرونی خلفشار، پھر روح اللہ کا پارٹی سے نکل جانا شائد ہی این سی کو متحد رکھ سکتا ہے۔

 موجودہ حالات میں روح اللہ کا نئی پارٹی بنانا بھی اتنا آسان نہیں، نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی ایک اور مضبوط پارٹی کے وجود کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی، جو یہ مان کے چل رہی ہیں کہ اقتدار صرف ان دو جماعتوں کا حق ہے اور ان جماعتوں کو دو خاندان چلا رہے ہیں، جس کے لیے انہوں نے اپنی چوتھی نسل کو سیاسی اکھاڑے میں پہلے ہی اتارا ہے۔

انڈیا کی سول سوسائٹی کے بعض ادارے اور میڈیا ان خاندانوں کی نئی نسل کو متعارف کروانے اور عوام میں ان کا امیج بڑھانے میں خاصا کردار ادا کر رہے ہیں، جنہیں اس بات کا ادراک ہے کہ کشمیر جیسے تنازعے کو دبانے میں یہی دو خاندان کار آمد ثابت ہو رہے ہیں۔

گوکہ روح اللہ اپنے سیاسی حقوق کا مطالبہ ہمیشہ انڈیا کے آئین کے تحت کرتے آئے ہیں لیکن مرکزی سرکار کیا ان پر یا ان سے جڑے نوجوانوں پر بھروسہ کر سکتی ہے یا بھروسہ کرکے ایک اور سیاسی تجربہ کرنا چاہتی ہے، اس کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔

جموں و کشمیر جیسے متنازع خطے میں چونکہ سراغ رساں اداروں کا جال بچھا ہوا ہے اور تقریباً دو درجن سے زائد ایسے ادارے سرگرم عمل ہیں جو ہر ایک کے بارے میں جانتے ہیں لہذا کسی کا اپنے طور پر سامنے آنا، چلینج کرنا اور اجتماع کرنا بھی یہاں مشکوک سمجھا جاتا ہے۔

 دیانت داری پہلے ہی مفقود ہوچکی ہے، اے یا بی ٹیم کہلانے کی رسم ایک عرصے سے چلی آ رہی ہے اور سیاسی یا جاسوسی کے اداروں نے ایک دوسرے پر شک کرنے کی انڈسٹری پر کافی سرمایہ لگایا ہے۔

کون صحیح ہے یا غلط، اس کا احاطہ کرنا عوام کے لیے نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن بھی کیونکہ جہاں ہر ایک شخص کی سانسوں کو گننے کا فرمان جاری ہے وہاں کوئی سر اُٹھا کر چلنے، اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے اور پھر ایک منظم تحریک شروع کرنے کی ہمت اگر کرے گا بھی تو کوئی بھی لیبل لگا کر اسے تذلیل کرنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ