ریلیف سکیم پر عمل نہ کرنے والے پیٹرول پمپوں کا لائنسنس منسوخ کرنے کی ہدایت

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ رجسٹرڈ مستحقین کو سکیم کے تحت وہ سہولیات ملیں جو فراہم کی گئی ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف 5 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (اے پی پی)

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو وزیراعظم فیول ریلیف سکیم پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور حکام کو ان پیٹرول پمپوں کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کی جو رجسٹرڈ مستحق افراد کو رعایتی نرخوں پر ایندھن فراہم نہیں کرتے۔

 اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے رواں سال 13 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ ایندھن سبسڈی سکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے صارفین کو کچھ ریلیف فراہم کرنا ہے۔

اس سکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی کے مالکان کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو زیادہ سے زیادہ 30 لیٹر پیٹرول پر یہی سبسڈی ملے گی۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے پروگرام کی پیش رفت اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ رجسٹریشن اور سبسڈی کی فراہمی کے طریقہ کار کو آسان بنانے سے رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے جس سے مزید مستحق شہری اس اقدام سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے اس بات کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا کہ رجسٹرڈ مستحقین کو سکیم کے تحت وہ سہولیات ملیں جو فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے ان افراد کو رعایتی ایندھن دینے سے انکار کرنے والے پیٹرول پمپوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

انہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی اور شفاف سبسڈی سکیم کو مستقبل کے عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے ممکنہ گیم چینجر قرار دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت اب تک کل 15519282 شہری رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ ان میں 1.506 کروڑ موٹر سائیکل مالکان اور 800 سی سی تک انجن کی صلاحیت والی گاڑیوں کے 4 لاکھ 49 ہزار مالکان شامل ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 63,153,685 سبسڈی ٹوکن جاری کیے گئے، جن میں سے 59,445,347 استعمال ہو چکے ہیں۔ 4 نومبر 2026 تک فیول سبسڈی سکیم کے تحت کل ادائیگیاں 28.6 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ، وفاقی سیکریٹری ضرار ہاشم خان اور ان کی ٹیم کو پروگرام کی شفافیت اور نگرانی یقینی بنانے کے لیے ایک مؤثر مانیٹرنگ نظام اور ڈیش بورڈ تیار کرنے پر سراہا۔

مستحقین کی سہولت اور شکایات کے ازالے کے لیے صارفین اور پیٹرول پمپ مالکان کے لیے الگ الگ کال سینٹر بھی قائم کیے گئے ہیں۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

حکومت نے جمعرات کو پیٹرول کی قیمتوں میں 9.41 روپے فی اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.56 روپے فی لیٹر کی کمی کر دی۔ 

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 362 روپے سے کم کر کے 352.59 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جب کہ ہائی سپیڈ ڈیزل 387.81 روپے سے کم ہو کر 382.25 روپے فی لیٹر ہو گا۔

جمعے سے لاگو ہونے والی یہ نظرثانی شدہ قیمتیں بین الاقوامی توانائی کی غیر مستحکم مارکیٹوں کے درمیان سامنے آئی ہیں، جہاں بدھ کو خام تیل کی قیمتیں دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔

روئٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز 8.7 فیصد کم ہو کر 94.62 ڈالر فی بیرل جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 8.3 فیصد کم ہو کر 88.12 ڈالر پر آ گیا۔

پاکستان جو درآمدی پیٹرولیم مصنوعات اور خام تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، کو رواں سال کے اوائل میں مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے تنازعے کی وجہ سے جہاز رانی اور ایندھن کی ترسیل میں تعطل کے بعد سے توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان