معروف ناول نگار ارون دھتی رائے نے ایک بار مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب کشمیر انڈیا سے آزادی نہیں مانگے گا بلکہ انڈیا کو خود اپنی آزادی کا مطالبہ کرنا ہوگا۔
چند روز پہلے جب انڈیا کے دارالحکومت دہلی کو آناً فاناً عوام نے فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوتے دیکھا اور احتجاجی مظاہرین کے نعرے ’ہم لے کے رہیں گے آزادی‘ سنا تو دنیا کی نظروں میں یقیناً کشمیر کی تصویر رقص کرتی دکھائی دی ہوگی۔ ساتھ میں ارون دھتی کی بات پر غور بھی کیا ہوگا۔
ہزاروں مظاہرین کو چاروں طرف سے 30 ہزار سے زائد سکیورٹی فورسز نے گھیرا، کئی مقامات پر لاٹھی چارج کیا، زدوکوب کر کے بسوں میں ڈال دیا۔ بعض خبروں کے مطابق تقریباً سات ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں بند کر دیا گیا، جن میں کاکروچ کے بانی رہنما سورو داس، اشتوش رنکا اور ابھجیت دپکے شامل ہیں۔ تینوں کو اب رہا کردیا گیا ہے۔
مین سٹریم میڈیا نے بڑی چالاکی سے مظاہرین کی دل دہلانے والی تصویروں کو نہیں دکھایا۔ جب سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور یو ٹیوبرز نے یہ تصویریں وائرل کیں تو پھر ان کو بھی بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ ان تصویروں کو دیکھ کر عوامی ردعمل اتنا شدید ہوا کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بعض ووٹر بھی احتجاج میں شامل ہوگئے۔
کاکروچ رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد احتجاج میں کمی آئی، سرکاری حکم نامے میں جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر ڈی نوٹیفائی کیا گیا اور ہر اس مقام کو سکیورٹی فورسز نے گھیر لیا جہاں نوجوان جمع ہوتے رہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے اپنی احتجاجی مہم کو جاری رکھا لیکن سرکار کی آہنی پالیسیوں کی وجہ سے لیڈروں کو بڑی احتیاط کا مظاہرہ کرنا پڑا کیونکہ اس سے قبل کانگریس کے راہل گاندھی سمیت کئی سرکردہ رہنماؤں کو گھسٹینے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد عوامی غصے میں شدت آگئی۔
بی جے پی کے زیر اثر میڈیا نے فوراً کہنا شروع کر دیا کہ ’کاکروچوں‘ کا زور اب ختم ہوچکا ہے، اپوزیشن جماعتوں نے نوجوانوں کی مہم کو ہائی جیک کر کے ان کو نقصان پہنچایا، بی جے پی کی بروقت پالیسی سے افراتفری کو روک دیا گیا جس سے اپوزیشن جماعتوں یا ’کاکروچوں‘ کا زور ٹوٹ گیا۔
بعض چینلوں پر یہ بھی چلایا گیا کہ انڈیا کو بنگلہ دیش جیسی صورت حال سے بچا لیا گیا اور رجیم چینج کی کوششیں سب بےکار ثابت ہوگئیں؟
بقول ایک صحافی یہ صحیح ہے کہ بی جے پی کی مرکزی سرکار نے کریک ڈاؤن کرکے عوام میں، بالخصوص نوجوانوں میں خوف کا ایک ماحول پیدا کر رکھا ہے جس میں انتظامیہ، پولیس اور عدلیہ نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا مگر اندرونی طور پر بی جے پی میں شدید کھلبلی مچی ہوئی ہے، جو بعض لیڈروں کے بیانات سے ان کے چہروں سے صاف جھلکتی ہے۔ ’کاکروچوں‘ کو خاموش کرنا بی جے پی کے بس کی بات نہیں۔
بی جے پی کی این ڈی اے سرکار میں جو دوسری سیاسی حلیف جماعتیں شامل ہیں، جیسے نتیش کمار کی جنتا دل یونائیٹڈ اور چندر بابو نائیڈو کی تیلگو دیسم پارٹی، وہ بھی شدید دباؤ کا شکار بتائی جاتی ہیں اور بی جے پی کی نوجوانوں کو زیر کرنے کی پالیسی پر بظاہر ناخوش ہیں۔
بعض خبروں کے مطابق ان جماعتوں میں اس وقت سے اندرونی انتشار ہے جب سے انتخابی کمشنر گیانیش کمار کی ووٹ چوری یا ووٹ سے بے دخل کرنے کے الزامات منظر عام پر آئے ہیں، دونوں کی ساخت متاثر ہو رہی ہے البتہ دونوں پارٹیوں کے سربراہوں نے اب تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
پہلی بار انڈیا کی اقلیتوں کو محسوس ہوا کہ بی جے پی سرکار کی پالیسیوں کا صرف وہی شکار نہیں بلکہ ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد کو بھی ووٹ سے محروم کیا گیا ہے۔ وہ آئین کے تحت ملنے والی آزادی، حقوق اور جمہوریت سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
انڈیا کے امیروں اور غریبوں کے بیچ میں یہی ایک مشترک چیز ہے کہ دونوں کے پاس ووٹ کا برابر حق حاصل ہے۔ اس حق کی محرومیت کو انڈین کبھی برداشت نہیں کرسکتے۔
ہزاروں لوگوں کا دہلی پہنچنا اور مظاہروں میں شرکت کرنا سرکار کے لیے ایک بڑا پیغام تھا کہ اس کی ہندوتوا روٹیاں اب بیشتر لوگوں کو ہضم نہیں ہوتیں اور وہ جمہوری ملک کو مطلق العنانیت میں تبدیل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ کسان، سماجی ورکر، غیر سرکاری ادارے، ریٹائرڈ فوجی، طلبہ اور عورتوں کی ایک بڑی تعداد کی شمولیت سے ثابت ہوگیا کہ معاشرے کے بیشتر طبقے بی جے پی کی پالیسیوں کے کٹر مخالف بن چکے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بی جے پی نے ماضی کی طرح اس بار بھی آر ایس ایس سے چند بیانات دلوا کر ہندو ووٹرز کو اپنے کنٹرول میں بدستور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ جب موہن بھاگوت نے کہا کہ انڈیا بنگلہ دیش نہیں بن سکتا اور نہ یہاں ایسے حالات پیدا کیے جا سکتے ہیں مگر ان کے بیان سے ظاہر ہوا کہ پارٹی انتشار سے گزر رہی ہے اور وہ حالات کو سنبھالنے کا موقع تلاش کر رہے ہیں۔
میڈیا نے ’کاکروچوں‘ کے امیج کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، جب انہیں غیر ملکی عناصر، پاکستانی وغیرہ قرار دیا یا اپوزیشن کو مغرب کے اشارے پر چلنے والی پارٹیوں سے تعبیر کیا، مگر لگتا ہے کہ بی جے پی کی کوششوں کے باوجود ’کاکروچوں‘ کی شبیہہ متاثر نہیں ہوئی ہے اور نوجوان رہنما اپنے مطالبات پر اڑے ہوئے ہیں۔ اس میں پہلی شرط انتخابی کمشنر کا استعفیٰ ہے۔
’کاکروچوں‘ سے وابستہ بعض سرکردہ سیاسی رہنماؤں نے جب رجیم چینج کا مطالبہ کیا تو ’کاکروچوں‘ نے فوراً اس سے خود کو الگ کر دیا اور اپوزیشن جماعتوں کی مہم سے دور رہنے لگے۔
دوسرا الزام یہ کہ کاکروچ جنتا پارٹی اپوزیشن جماعتوں کے کہنے پر مظاہرے کر رہی ہے، غلط قرار دیا گیا، جب انہوں نے وضاحت کی کہ وہ کسی جماعت سے منسلک نہیں اور اپنے طور پر ملک میں جاری بی جے پی کی عوام کُش پالیسیوں کے خلاف پرامن جنگ لڑ رہے ہیں، جو مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گی۔
یہ پہلا موقع ہے جب اقوام متحدہ سمیت بیشتر انسانی حقوق اور دوسرے اداروں نے بی جے پی کی کٹر پالسیوں کے خلاف بیانات جاری کیے اور دہلی میں پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو استعماری قرار دیا۔
چند روز سے احتجاجی ’کاکروچ‘ عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کے کیسز لڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن کی صف بندی جاری ہے اور انتخابی کمشنر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
بی جے پی کو اس بات کا اندازہ ہے کہ نوجوانوں اور طلبہ کی تیاری، تعلیمی اداروں میں بے چینی اور سوشل میڈیا کی منظم مہم شاید ہی اس انقلاب کو روک سکتی ہے یا انتخابی کمشنر کی کرسی کو بچایا جاسکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بی جے پی مطالبات مان کر یا نہ مان کر کیا اپنی مدت مکمل کرسکتی ہے؟ مبصرین کہتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں بی جے پی کو نقصان اٹھانا پڑے گا چاہے انتخابی کمشنر مستعفی ہوتے ہیں یا نہیں۔
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے بعد اگر گیانیش کمار نے بھی استعفیٰ دیا تو چند برسوں میں ہوئے تمام انتخابات میں دھاندلیوں کے اپوزیشن کے الزامات کی تصدیق ہو جائے گی جب کہ دوسری جانب استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں ’کاکروچوں‘ کی مہم زور پکڑ کر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
سوشل ایکٹوسٹ رادھا گہلوٹ کہتی ہیں کہ بی جے پی نے انڈیا کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔
بی جے پی کی سرکار کو اس وقت ایک اور مصیبت نے آن گھیرا جب دو دن پہلے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ سوری کی ریپ میں ملوث جیفری ایپسٹین کے ساتھ فوٹو وائرل ہوئی۔ یہ اپوزیشن کے لیے ایک اور اہم ایجنڈا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ گیانیش کمار کے ساتھ ہردیپ سنگھ سوری کی بھی شامت آچکی ہے۔
مصنفہ لندن میں مقیم انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی سینیئر صحافی ہیں۔ یہ تحریر ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔