اقوام متحدہ کے ماہرین نے انڈین حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال بند کریں اور ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران کریک ڈاؤن کی آزادانہ تحقیقات کروائیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے غیر مسلح طلبہ پر لاٹھیاں برسائیں، مظاہروں تک رسائی محدود کی اور مبینہ طور پر مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کی۔
ماہرین کے دو درجن ارکان نے کہا: ’اجتماعات کی پُرامن نوعیت کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مبینہ طور پر غیر مسلح طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا، جس میں لاٹھی چارج بھی شامل ہے، جبکہ ہزاروں افراد کو احتجاج میں شرکت سے روکا گیا۔‘
انہوں نے کہا: ’ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال بند کریں، اجتماعات پر عائد عمومی پابندیاں ختم کریں اور بائیومیٹرک نظام اور انٹرنیٹ کی بندش سمیت ڈیجیٹل نگرانی کے غلط استعمال سے گریز کریں۔‘
نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘، حزب اختلاف کی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کی قیادت میں مظاہرین مبینہ طور پر ووٹر فہرستوں سے تقریباً130 ملین نام نکالے جانے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے نتیجے میں اہل ووٹرز، بالخصوص غریب اور بے گھر افراد اور مسلم اقلیت، حق رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں، جبکہ اس سے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن اور بی جے پی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نظرثانی کا مقصد نااہل ووٹرز کو فہرستوں سے خارج کرنا ہے اور جن افراد کے نام غلطی سے نکالے گئے ہیں، وہ اپیل کر سکتے ہیں۔
ماہرین نے اپنے بیان میں کہا: ’یہ کریک ڈاؤن ایک وسیع تر اور تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم نے بارہا انڈین حکام کو پُرامن اجتماعات پر غیر ضروری پابندیوں، طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال، من مانے انداز میں حراستوں، جبری گمشدگیوں اور طلبہ کارکنوں کو نشانہ بنانے سمیت دیگر معاملات پر خبردار کیا ہے۔‘
انڈین حکومت نے اس سے قبل کہا تھا کہ پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کی اور اقوام متحدہ کی تنقید کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حکومت نے گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو بھی یکسر مسترد کر دیا۔ نریندر مودی کے وزرا میں شامل رام داس اٹھاولے نے کہا: ’چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی کریک ڈاؤن کی مذمت کی۔
احتجاج کے دوران دارالحکومت نئی دہلی میں 7,000 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں صحافی، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکن شامل تھے۔ ان میں سے متعدد افراد کے فون مبینہ طور پر ضبط کر لیے گئے اور احتجاج سے متعلق مواد حذف کر دیا گیا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے مظاہرین کے خلاف جنسی اور صنفی بنیادوں پر تشدد کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عوامی اجتماعات، نقل و حمل اور انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں پر بھی تنقید کی۔
ماہرین نے کہا: ’یہ اقدامات انڈیا کی بین الاقوامی قانون کے تحت بنیادی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہیں، جن میں پُرامن اجتماع کی آزادی، اظہار رائے کی آزادی، آزادی، شخصی تحفظ اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے کا حق شامل ہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’حکومت کو اس بات کی ضمانت دینی چاہیے کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش نہیں آئیں گے اور طلبہ سمیت دیگر افراد کے اجتماع اور اپنے تحفظات کے اظہار کے جمہوری حق کا احترام کیا جائے۔ پُرامن اجتماعات پر پابندیوں اور مظاہرین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے صنفی اثرات پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔‘
© The Independent