پانچ صدیاں گزرنے کے باوجود بھگت کبیر کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے مذہب کے نام پر قائم ظاہری رسومات اور تقسیم کو چیلنج کرتے ہوئے انسان اور خدا کے براہِ راست تعلق کی بات کی۔
تاریخ
باچا خان اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ ابھی میٹرک کا امتحان جاری تھا کہ برٹش انڈیا کی فوج کی طرف سے خط کا جواب آگیا جس میں ریکروٹنگ دفتر رپورٹ کرنے کا کہا گیا۔