مہاراجہ رنجیت کا توشہ خانہ ’خالی‘ کیسے ہو گیا؟

لمز میں منعقدہ نمائش میں دستاویزی شواہد کی مدد سے یہ بتایا گیا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے توشہ خانے کا بیش قیمت خزانہ، بشمول کوہِ نور ہیرا، کس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے لاہور سے لندن منتقل ہوا۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے شعبہ تاریخ اور ثقافتی ورثہ کے زیر اہتمام ایک نمائش میں پنجاب کے تاریخی حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے توشہ خانے کے خالی ہونے کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔

پروفیسر نادھرہ شہباز خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کی تاریخ پرانی دستاویزات کے ذریعے مرتب کی۔ خزانے کی تفصیلات کے بارے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسران کے درمیان رابطوں پر مبنی خطوط جمع کیے گئے، جن سے معلوم ہوا کہ کس طرح پنجاب کا ہیرے، جواہرات اور سونے سے بھرا خزانہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بحری جہازوں کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا۔‘

ان کے بقول: ’اسی دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جنوبی ایشیا کا تاریخی قیمتی کوہ نور ہیرا لاہور سے لندن لے جایا گیا، جو تراش خراش کے بعد ملکہ برطانیہ کے تاج کی زینت بنا۔‘

نادھرہ شہباز خان کے مطابق پنجاب کا خزانہ 1849 میں برطانوی حکومت کے کنٹرول میں چلا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول: ’ہم نے مصنوعی ذہانت اور دستاویزات کی مدد سے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خزانے اور کوہ نور کو تصاویری شکل دی۔ نمونے تیار کیے گئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوہ نور مہاراجہ کے بازوبند میں جڑا ہوا تھا، جہاں سے نکال کر اسے لندن منتقل کیا گیا۔‘

اسی طرح سونے سے بنے برتن، لیمپ اور یہاں تک کہ فرنیچر بھی موجود تھا، جسے برطانوی حکومت نے قبضے میں لے کر بحری جہازوں کے ذریعے لندن منتقل کر دیا۔ اس کے بعد جنوبی ایشیا کی سب سے امیر ریاست بتدریج مالی بدحالی کا شکار ہوتی چلی گئی۔

ڈاکٹر نادھرہ شہباز خان نے مزید بتایا کہ ’نمائش کا مقصد کھوئی ہوئی اشیا کو یاد کرنا اور ان کی دوبارہ منظرکشی کرنا ہے تاکہ یہ اپنے زمانے کی نفاست اور تخلیق کرنے والوں کے نظریات کی عکاسی کرتی رہیں۔‘

نمائش میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے توشہ خانے کی تاریخ اور اس میں موجود اشیاء کی دستاویزی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ