قدیم کیلاش قبیلے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے میرج بل منظور

ماضی میں شادیوں کے معاملات عموماً روایتی اور زبانی طریقے سے طے ہوتے تھے-

15 مئی 2022 کو کالاش قبیلے کی خواتین روایتی لباس پہنے ہوئے ’چلم جوشت‘ تہوار میں حصہ لینے کے لیے پہنچ رہی ہیں جس میں بمبوریت گاؤں میں موسم بہار کی آمد کا جشن منایا جا رہا ہے (عبدالمجید/ اے ایف پی)

 صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے کیلاش برادری کی شادیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیلاش میرج بل کی منظوری دے دی ہے۔ ماہرین اسے پاکستان کی ایک منفرد مذہبی و ثقافتی اقلیت کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان کے شمالی ضلع چترال کے پہاڑی علاقوں میں آباد کیلاش برادری اپنی منفرد زبان، مذہبی عقائد، تہواروں اور روایات کے باعث عالمی سطح پر پہچانی جاتی ہے۔ محدود آبادی کے حامل اس قبیلے کی تعداد اندازاً 3,500 سے 4,000 افراد کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

نئے قانون کے تحت کیلاش شادیوں کو باضابطہ قانونی حیثیت حاصل ہو گی اور ایک ایسا رجسٹریشن نظام متعارف کرایا جائے گا جو برادری کی ثقافتی روایات سے ہم آہنگ ہو گا۔ اس اقدام سے خاندانی شناخت، وراثت اور قانونی حقوق سے متعلق مسائل کے حل میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)



ماضی میں شادیوں کے معاملات عموماً روایتی اور زبانی طریقے سے طے ہوتے تھے، جس کے باعث قانونی دستاویزات کی عدم موجودگی برادری کے لیے مشکلات پیدا کرتی تھی۔ کیلاش افراد طویل عرصے سے اپنے خاندانی نظام کے لیے الگ قانونی فریم ورک کا مطالبہ کر رہے تھے۔

کیلاش برادری صدیوں سے ہندوکش کے پہاڑی خطے میں آباد ہے۔ ان کی ثقافت فطرت سے گہرا تعلق رکھتی ہے اور ان کے نمایاں تہواروں میں چلم جوشی، اوچاؤ اور چوموس شامل ہیں، جن میں موسیقی، رقص اور روایتی لباس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ماہرین کے مطابق اس منفرد ثقافتی ورثے کا تحفظ عالمی ثقافتی تنوع کے لیے بھی اہم ہے۔
 

زیادہ پڑھی جانے والی گھر