شیرِ مُلک کی شاعری کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی دکھ کو اجتماعی تجربہ بنا دیتے ہیں۔
یونیسکو کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے درج ہے کہ کیلاش کی تین وادیاں بمبوریت، بیریر اور رمبور پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے اس کی ثقافت کو محفوظ کیا گیا ہے۔