چترال صرف ایک خطہ نہیں، ایک مزاج ہے اور اس مزاج کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہاں بے ترتیبی ہی میں ہماری ترتیب ہے۔
ڈیڑھ سو سال قبل تک چترال اور افغان صوبے نورستان میں بڑی تعداد میں کیلاشی قبائل آباد تھے، مگر پھر ان کی شناخت زبردستی مٹانے کی کوششیں ہوئی۔