ڈیڑھ سو سال قبل تک چترال اور افغان صوبے نورستان میں بڑی تعداد میں کیلاشی قبائل آباد تھے، مگر پھر ان کی شناخت زبردستی مٹانے کی کوششیں ہوئی۔
وادی کیلاش
کیلاشی خاتون بلوش بچی کا کہنا ہے کہ ’سیاح کیلاش کی ثقافت کو اور اس کی خوبصورتی کو دیکھیں، مقامی لوگوں کی عزت کا خیال رکھیں اوراگر کوئی کیلاشی اجازت دے تب ہی اس کے گھرکے اندرداخل ہوں۔‘