کیلاش: بغیر اجازت گھروں میں سیاحوں کے داخلے سے پریشانی

کیلاشی خاتون بلوش بچی کا کہنا ہے کہ ’سیاح کیلاش کی ثقافت کو اور اس کی خوبصورتی کو دیکھیں، مقامی لوگوں کی عزت کا خیال رکھیں اوراگر کوئی کیلاشی اجازت دے تب ہی اس کے گھرکے اندرداخل ہوں۔‘

چترال کے پہاڑی درہ بمبوریت میں موجود کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے اپنے روایتی تہواروں کے دوران سیاحوں کے بغیر اجازت قبیلے کے لوگوں کی تصاویر لینے اور گھروں میں داخل ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔

اس قبیلے کے مذہبی تہوار اپنی ثقافت اور روایات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ ملک کے مختلف شہروں سے لوگ کثیر تعداد میں بمبوریت جاتے ہیں۔ یہ تہوار مئی، اگست اور دسمبر کے مہینوں میں منائے جاتے ہیں۔

وادی کیلاش میں بمبوریت سے تعلق رکھنے والی فرسٹ ایئرکی طالبہ اورمقامی گلوکارہ امرینہ نے انڈپینڈنٹ اردو سےگفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم کیلاشیوں کی ثقافت دیکھنے کے لیے ملک کے علاوہ دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں جن کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں لیکن  ان سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ آئیں اور بغیر اجازت تصویریں نہ کھینچیں اور سیاح کسی سے پوچھے بغیر گھروں میں  بھی داخل نہ ہوں کیونکہ یہ ہمیں اچھا نہیں لگتا۔‘

ان کے مطابق: ’جو سیاح وادی کیلاش آتے ہیں وہ دوسروں کو غلط معلومات فراہم کرتے ہیں اور کیلاشی لڑکیوں کے بارے میں غلط باتیں کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور اگر کوئی سیاح یہاں آئیں تو درست معلومات لے کر جائیں۔‘

کیلاشی گلوکارہ امرینہ نے کہا کہ ’وادی کیلاش میں لوگ مسلمان ہو رہے ہیں۔ میں ان سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ تمام لوگ مسلمان نہ ہوجائیں کیونکہ ہمارے یہاں تعداد بہت کم ہے اگر تمام کیلاشی مسلمان ہوگئے تو سارا کیلاش ختم ہوجائے گا۔‘

وادی کلاش کے گاؤں کراکال سے تعلق رکھنے والی خاتون بلوش بچی نے انڈپینڈنٹ اردو سے اپنی کیلاشی زبان میں سیاحوں سے متعلق گلے شکوے کیے جس کا اردو ترجمہ طالب علم شیر مجان نے کیا۔

انہوں نے ترجمہ کیا کہ خاتون بلوش بچی کہتی ہے کہ ’سیاحت کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے سیاح وادی میں خلل پیداکررہے ہیں۔ لوگوں کو تنگ کر رہے ہیں اگر کوئی کیلاشی لڑکی راستے میں گھومتی ہے یا کہیں جاتی ہے تو باہر سے آئے ہوئے لوگ اس کو اس طرح تنگ کرتے ہیں جیسے کہ کوئی پری اتری ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ سیاح کیلاش کی ثقافت کو اور اس کی خوبصورتی کو دیکھیں، مقامی لوگوں کی عزت کا خیال رکھیں اوراگر کوئی کیلاشی اجازت دے تب ہی اس کے گھرکے اندرداخل ہوں۔‘

امرینہ نے کہا کہ لوگ تو کیلاشی خواتین اور ان کی ثقافت دیکھنے کے لئے آتے ہیں لیکن وادی کیلاش میں خواتین کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔

انہوں نے بتایا کہ علاقے میں موجود بی ایچ یو میں نرس تو ہے لیکن لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ یہاں پر ایک لیڈی ڈاکٹر تعینات کرے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امرینہ نے مطالبہ کیا کہ ہسپتال میں ایمبولینس سروس نہیں ہے اگر کوئی ایمرجنسی ہوتی ہے تو کبھی چترال جانا پڑتاہے اگر وادی کیلاش میں ایمبولینس ہو تو ایسی صورت میں آسانی ہوگی۔

انہوں  نے تجویز دی کہ آئیون سے بمبوریت تک سڑک بن جائے تو مقامی قبائلیوں کو بھی فائدہ ہوگا اور سیاح کو بھی آسانی ہوگی اور وہ بھی زیادہ تعداد میں یہاں آ سکیں گے۔ خیبر پختونخوا کی ضلع چترال میں کئی سو سال کی تاریخ رکھنے والی کیلاشیوں کی آبادی چار ہزار افراد تک محدود ہوگئی ہے۔

کیلاش قبیلہ اپنا مذہب اور عبادت خانے رکھتا ہے اور اپنی تینوں وادیوں بمبوریت، رمبور اور برئیر میں مقامی مسلمانوں کے ساتھ پرامن طریقے سے اپنی زندگی گزاررہا ہے۔

شہر چترال سے 38 کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑی درہ بمبوریت کیلاشیوں کا مرکز ہے۔ قومی شاہراہ دیر چترال روڈ سے آئیون گاؤں کے مقام پر کیلاش ویلی تک جانے والا راستہ انتہائی خستہ حال اوردشوارگزار ہے لیکن اس کے باوجود ملکی وغیر ملکی سیاح یہاں آتے ہیں اور سیاحت ہی مقامی افراد کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین