کیلاشی افراد سے انٹرویو کے لیے مذہبی رہنماؤں سے اجازت کی شرط

کیلاش قبیلے کے چیف قاضی شیرزادہ کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی جانب سے بغیر اجازت ویڈیو بنانا، تصویر کھینچنا اور بچوں سے مذہب کے بارے میں سوال پوچھنا باعث تشویش ہے۔

کیلاش قبیلے کے چیف قاضی شیر زادہ نے کہا کہ سیاح آئیں، ہمارا کلچر دیکھیں لیکن بغیر اجازت تصاویر نہ لیں اور انٹرویو نہ کریں (تصویر: امیر زادہ)

چترال کے ضلع کیلاش کی وادیوں بریر، رمبور اور بمبوریت میں 14 مئی سے شروع ہونے والا چلم جوشٹ یا چلم جوشی کا تہوار 16 مئی کو احتتام پذیر ہو رہا ہے۔ اس موقع پر کیلاش قبیلے کے چیف قاضی شیرزادہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں سیاحوں کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

کیلاش قبیلے کے کُل 70 قاضی ہیں اور ان کے چیف قاضی شیر زادہ ہیں۔

اپنے ویڈیو پیغام میں قاضی شیر زادہ کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاح کو کیلاش قبیلے کے افراد سے انٹرویو لینے کی اجازت نہیں ہے بلکہ انٹرویو کے لیے انہیں کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماؤں سے اجازت لینا ہوگی۔

بقول قاضی شیر زادہ: ’سیاح آئیں، ہمارا کلچر دیکھیں لیکن بغیر اجازت تصاویر نہ لیں اور انٹرویو نہ کریں۔‘

اس سلسلے میں انڈپینڈنٹ اردو نے قاضی شیرزادہ سے تفصیلی بات کی، جن کا کہنا تھا کہ ’اکثر سیاح بغیر اجازت کے خواتین کی تصویریں کھینچتے ہیں، ویڈیو بناتے ہیں، انٹرویو کرتے ہیں اور پھر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں، جو ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے۔‘

انہوں نے بتایا: ’کچھ سیاح بچوں سے مذہبی سوالات کرتے ہیں، انہیں ہمارے عقائد اور ثقافت کے بارے میں معلوم نہیں۔ یہاں سے کچھ سال پہلے دو لڑکیوں کا انٹرویو کرکے انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کیا گیا تھا، جس پر کیلاش قبیلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، لہذا ہم لوگوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر کسی کا انٹرویو لینا ہو تو پہلے اجازت لینی ہوگی۔‘

مزید پڑھیے:  چلم جوش میلہ: ’جیون ساتھی کے انتخاب کا موقع‘

شیرزادہ کا کہنا تھا کہ ’کچھ عناصر اس فیصلے کے خلاف بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان اپنی بات کرنا جانتے ہیں۔ زیادہ تر پڑھے لکھے ہیں۔ ان پر ایسی پابندی لگانا اور انہیں بات کرنے سے روکنا نا انصافی ہوگی، لیکن ہمارے خیال میں یہ لوگ ہماری ثقافت اور مذہب کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’ہمارا کیلاش طبقہ مختلف گروپوں میں بٹا ہوا ہے یا ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہمارے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔‘

قاضی شیرزادہ نے ایک اور مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ ان کے مذہب میں شراب کے استعمال کی اجازت ہے۔ ’ہم لوگ شراب بناتے ہیں اور خود استعمال کرتے ہیں، لیکن کچھ غیر کیلاشی اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد ہمارے علاقے میں آتے ہیں اور یہاں گھروں میں بیٹھ کر شراب نوشی کرتے ہیں۔ جب ہم انہیں منع کرتے ہیں تو ہمارے بچوں کے اوپر پرچہ کروا دیتے ہیں اور ان کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہمارے ہاں باہر سے آئے ہوئے مہمان کو خاندان والوں کے ساتھ بٹھا کر شراب نوشی کی اجازت نہیں ہے۔ ہم بھی انسان ہیں اور انسانوں کی بستی میں رہتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہمارے کلچر کو خطرہ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے: چترال: چلم جوشٹ تہوار اس سال سیاحوں کے بغیر منایا گیا 

اس سلسلے میں انڈپینڈنٹ اردو نے شاہی مسجد چترال کے خطیب مولانا خلیق الزمان سے بھی بات کی، جن کا کہنا تھا کہ کیلاشی بہت شریف لوگ ہیں، لہذا انہیں تنگ نہ کیا جائے۔ یہ لوگ خود بھی اس چیز کو پسند نہیں کرتے۔

بقول مولانا خلیق الزمان: ’کسی کے خاندان کی خواتین کو تنگ کرنا، گھروں میں گھسنا شرعاً اور قانوناً جرم ہے اور شراب ان کے مذہب کے مطابق حلال ہے۔ یہ لوگ اسے اپنی حد تک استعمال کرتے ہیں، لہذا ان کو کسی بھی لحاظ سے بے جا تنگ نہ کیا جائے اور حکومت کو بھی چاہیے کہ ان کے مذہبی تہوار کو مذہبی ہی رہنے دیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فیسٹیول کی تشہیر کرکے سیاحوں کو مدعو تو کرلیا جاتا ہے لیکن نہ وہاں قیام کا کوئی انتظام ہے نہ طعام کا۔ سیاح پہلی اور آخری بار چترال آتے ہیں اور پھر توبہ کرکے چلے جاتے ہیں۔ یہاں ایک چوزہ 1500 روپے میں فروخت ہوتا ہے اور ایک گھنٹے کا سفر پانچ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔‘

سیاحت کے شعبے سے وابستہ سید حریر شاہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی اور کہا: ’یہ بات ٹھیک ہے کہ کیلاش قبیلے کے افراد کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ہم سیاحوں کو تو وادی میں بلاتے ہیں لیکن انتظام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسی طرح جب کسی تہوار میں سیاح آتے ہیں تو اس مقام کو کچرا کنڈی بنا کر چلے جاتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان