کسی اور ملک میں واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد برداشت نہیں: فیلڈ مارشل

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علما کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ’علما کا کردار انتہا پسندی کے خاتمے اور قومی اتحاد کے فروغ میں نہایت اہم ہے۔‘

فیلڈ مارشل عاصم منیر علما سے بات چیت کر رہے ہیں (آئی ایس پی آر)

 فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان میں کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر تشدد کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بات راولپنڈی میں اہل تشیع مکتبہ فکر کے علما سے ملاقات میں کہی۔ ملاقات میں قومی سلامتی اور معاشرتی ہم آہنگی میں علما کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسرائیل اور امریکہ کے تہران پر 28 فروری کو کیے گئے حملے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں خاص طور پر کراچی، اسلام آباد اور گلگت میں پرتشدد احتجاج میں کم از کم 20 افراد جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ ’پاکستان میں کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علما سے ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی جذبات کو تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے علما کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ اتحاد، رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، خصوصاً غلط معلومات، فرقہ وارانہ بیانیے اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی تخریبی کوششوں کا مقابلہ کرنے میں۔‘

فیلڈ مارشل نے شرکا کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ’علما کا کردار انتہا پسندی کے خاتمے اور قومی اتحاد کے فروغ میں نہایت اہم ہے۔‘

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ملاقات میں شریک علما نے امن و استحکام کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور ’مذہب کے نام پر تشدد کی شدید مذمت کی اور ملک میں امن کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان کے خلاف آپریش ’غضب للحق‘ کا حوالہ دیتے ہوئے فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان یہ کسی صورت برداشت نہیں کرے گا کہ افغانستان کی سر زمین ’دہشت گردی‘ کے لیے پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان کے خلاف ’سرگرم دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورکس کو جہاں کہیں بھی ہوں، درست اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔‘

فیلڈ مارشل نے افغان طالبان پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بدھ کی رات ایک بیان میں کہا تھا کہ عید الفطر کے پیش نظر اور اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں عسکریت پسندوں اور ان کے حمایتوں کے خلاف آپریشن غضب للحق عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

اس کے جواب میں افغان طالبان نے بھی ‘رد الظلم’ کے نام سے اپنا آپریشن عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کو اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیوں کا آغاز کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان