یوم مئی پر بھی محنت کش سڑکوں پر، مہنگے پیٹرول نے مشکلات بڑھا دیں

محنت کشوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کا خرچہ بڑھنے سے ان کی آمدنی میں پانچ سے سات سو روپے تک کمی ہوئی ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح جمعے کو پاکستان میں بھی یوم مئی روایتی انداز میں منایا جارہا ہے لیکن امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران نے محنت کشوں کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔

پاکستان میں محنت کش طبقہ، خاص طور پر رکشہ اور موٹر سائیکل چلا کر دو وقت کی روٹی پوری کرنے والے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ یوم مئی پر بھی بہت سے محنت کش گھر رہنے کی بجائے روٹی روزی کمانے کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محنت کشوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی اب تک کی بلند ترین قیمت پریشانی کا باعث بن رہی ہے اور پیٹرول کا خرچہ بڑھنے سے ان کی آمدنی میں پانچ سے سات سو روپے تک کمی ہوئی ہے۔

رکشے پر اینٹیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا کر زندگی کا پہیہ چلانے والے تصور علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے آمدن کم ہوگئی ہے۔ آج یوم مزدور ہے لیکن چھٹی نہیں کر سکتے کیوں کہ مزدور ایک دن چھٹی کر لے تو دو دن بیوی بچے بھوکے رہیں گے۔‘

محنت کش لیبر قوانین پر عمل نہ ہونے اور مہنگائی میں ناقابل برداشت اضافے کو پریشان کن قرار دیتے ہیں۔

ساتھ ہی ان کا مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جائیں تاکہ وہ سکون کا سانس لے سکیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان