یوگنڈا میں گرفتار 27 پاکستانیوں کی وطن روانگی آج، کمبوڈیا میں 84 کو بچایا گیا: دفترخارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یوگنڈا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں گرفتار 27 پاکستانی آج وطن واپسی کے لیے روانہ ہوں گے جبکہ کمبوڈیا میں ملازمت کے جھانسے میں پھنسنے والے 84 پاکستانی شہریوں کو بچا لیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی عمارت کا بیرونی منظر (فائل فوٹو/ انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کو بتایا ہے کہ یوگنڈا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں گرفتار 27 پاکستانی آج وطن واپسی کے لیے روانہ ہوں گے جبکہ کمبوڈیا میں ملازمت کے جھانسے میں پھنسنے والے 84 پاکستانی شہریوں کو بچا لیا گیا ہے۔

افریقی ملک یوگنڈا کی وزارت داخلہ نے دو روز قبل کہا تھا کہ ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن کا انسانی سمگلروں اور سائبر سکیم کی کارروائیوں سے تعلق تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے، تاہم ان کی تعداد سامنے نہیں آئی تھی۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے 27 پاکستانیوں کی آج یوگنڈا سے روانگی کی خبر دیتے ہوئے بتایا کہ ’مزید 30 افراد بھی جلد اپنے ہوائی ٹکٹ کا انتظام کرنے کے خواہش مند ہیں۔ دیگر افراد بھی روانہ ہو جائیں گے کیونکہ وہ وزٹ ویزا پر ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ ’امیگریشن حکام نے ہر ایک فرد پر مالی جرمانہ عائد کیا ہے، لیکن ہمارے سفارت خانے کی ٹیم یوگنڈا کے حکام کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کر رہی ہے تاکہ اس جرمانے کو معاف کروایا جا سکے۔‘

یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ایک بند کمپاؤنڈ میں اکٹھے رہنے والے غیر ملکیوں کے دو گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں پیر سے کم از کم 231 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

دوسرے گروپ میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، گھانا، میانمار، ایتھوپیا، سری لنکا، کمبوڈیا اور ملائیشیا کے شہری شامل تھے، جو یوگنڈا کے حکام کے مطابق: ’ایک انتہائی محدود، خود ساختہ اپارٹمنٹ کمپلیکس میں مقیم تھے، جو اس کے اپنے ریستوران اور داخلی سہولیات سے آراستہ تھا، جو نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔‘

حکام نے بتایا تھا کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ بہت سے لوگوں کے پاس پاسپورٹ یا دیگر ضروری دستاویزات نہیں تھیں۔

کمبوڈیا میں 84 پاکستانی شہریوں کو بچا لیا گیا: دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا کہ اب تک کمبوڈیا میں ملازمت کے جھانسے میں پھنسنے والے 84 پاکستانی شہریوں کو بچایا جا چکا ہے۔

بقول ترجمان ان افراد کو ’فراڈ کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے ملازمت کی پیشکش کی گئی تھی، جس میں تقریبا 500 ڈالر ماہانہ تنخواہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ان میں سے اکثر درست سیاحتی ویزوں پر آئے تھے، لیکن انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں تھی بلکہ بطور سیاح قیام کرنا تھا۔‘

طاہر اندرابی کے مطابق یہ افراد غیر قانونی طور پر کام کرتے ہوئے پکڑے گئے، جو قانون کی پہلی خلاف ورزی تھی۔ ان میں سے کچھ نے قیام کی مقررہ مدت سے بھی تجاوز کیا، جو ایک اور خلاف ورزی تھی۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ ’پاکستانی حکام کو ان افراد تک قونصلر رسائی دی گئی اور ہم نے ان سے ملاقات بھی کی۔ ہمارے نمائندے کو رسائی دی گئی اور وہ ان افراد سے رابطہ قائم کرنے میں بھی کامیاب رہے۔‘

انہوں نے کہا کہ مشن نے اپنے وسائل سے کچھ افراد کو خوراک اور طبی سہولیات بھی فراہم کیں۔

طاہر اندرابی نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا: ’مجموعی طور پر یہ دیکھا گیا کہ کمبوڈیا کے حکام تمام زیرِ حراست افراد کو بنیادی سہولیات، بشمول خوراک اور طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں، لہذا ہماری ٹیم جو خوراکی امداد لے کر گئی تھی، ایک طرح سے اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ پہلے ہی فراہم کی جا رہی تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ امیگریشن حکام کے ساتھ ان افراد کی رہائش اور پاسپورٹ کی حیثیت کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی حکام نہایت ’مثبت جذبے کے ساتھ ان افراد پر عائد جرمانوں کو معاف کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، جب قانونی عمل مکمل ہو جائے گا تو ان افراد کی واپسی میں سہولت فراہم کی جائے گی۔ لہذا جب کمبوڈیا میں داخلی کارروائیاں مکمل ہو جائیں گی تو یہ افراد وطن واپس آ جائیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمارے لوگوں کو بیرون ملک پیش کی جانے والی ان آن لائن فراڈ ملازمتوں کے حوالے سے بہت محتاط رہنا چاہیے۔آسیان (ASEAN) خطے کے دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کی نوکریاں پیش کی جا رہی ہیں، اس لیے ہم اپنے ہم وطن پاکستانیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسی پیشکشوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور ان کے بارے میں احتیاط سے کام لیں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان