یوگنڈا میں پاکستانیوں سمیت 231 غیر قانونی تارکین وطن گرفتار: حکام

یوگنڈا کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ایک کمپاؤنڈ سے گرفتار کیے گئے 169 افراد میں سے 36 خواتین تھیں۔

10 فروری 2025 کی اس تصویر میں یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا کی ایک سڑک پر پولیس اہلکار دیکھے جا سکتے ہیں (اے ایف پی)

افریقی ملک یوگنڈا کی وزارت داخلہ نے منگل کو بتایا ہے کہ ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن کا انسانی سمگلروں اور سائبر سکیم کی کارروائیوں سے تعلق تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

وزارت داخلہ نے بتایا کہ ملک کے شمال میں رہنے والے نائجیریا کے ایک گروپ کے علاوہ دارالحکومت کمپالا میں ایک بند کمپاؤنڈ میں اکٹھے رہنے والے غیر ملکیوں کے ایک اور دوسرے گروہ کے خلاف کارروائیوں میں پیر سے کم از کم 231 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

دوسرے گروپ میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، گھانا، میانمار، ایتھوپیا، سری لنکا، کمبوڈیا اور ملائیشیا کے شہری شامل تھے، جو ’ایک انتہائی محدود، خود ساختہ اپارٹمنٹ کمپلیکس میں مقیم تھے، جو اس کے اپنے ریستوران اور داخلی سہولیات سے آراستہ تھا، جو نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔‘

وزارت داخلہ کے مطابق کمپاؤنڈ میں پائے جانے والے 169 افراد میں سے 36 خواتین تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکام کا کہنا کہ انہوں نے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کی جس میں غیر ملکیوں کے ایک بڑے گروپ کو یوگنڈا میں رہنے یا کام کرنے کے لیے ضروری کاغذات کے بغیر دکھایا گیا تھا۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ بہت سے لوگوں کے پاس پاسپورٹ نہیں تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’کچھ افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں یوگنڈا میں روزگار کے وعدوں کے ساتھ سمگل کیا گیا تھا، جبکہ دوسرے سائبر سکیم کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ کچھ کے قبضے میں ایسا مواد پایا گیا جو دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اشارہ کرتا ہیں۔‘

مزید کہا گیا کہ جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں انہیں مجرمانہ قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان سائمن پیٹر منڈی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دو جگہوں پر پوچھ گچھ کے لیے تین قسم کے غیر ملکیوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں سمگلنگ کے مشتبہ شکار، مبینہ مجرم اور وہ لوگ شامل ہیں، جنہوں نے اپنے ویزے کی مدت سے زیادہ قیام کیا لیکن مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سمگلنگ کے متاثرین اور ویزہ کی مدت سے زائد عرصے تک قیام کرنے والوں کو ان کے اپنے ٹکٹ خریدنے کے بعد یوگنڈا چھوڑنے میں مدد کی جائے گی جبکہ جن حکام کو سمگلنگ کے مشتبہ سرغنہ کے طور پر شناخت کیا جائے گا، ان پر فرد جرم عائد کی جائے گی اور انہیں بالآخر ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یوگنڈا غیر ملکیوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے شہرت رکھتا ہے، جو پڑوسی ممالک جیسے کانگو، برونڈی اور جنوبی سوڈان میں پرتشدد تنازعات سے فرار ہونے والے لاکھوں پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا ہے۔

مختصر دوروں کے لیے، افریقہ اور دیگر جگہوں کے بہت سے ممالک کے لوگوں کے لیے یوگنڈا میں داخلے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی افریقہ