تارکین وطن بمقابلہ ساکنان وطن

کیا آپ نے کبھی ملک میں رہنے والے اور بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کے درمیان ایک خاموش سی کشمکش محسوس کی؟ دونوں طبقات اکثر ایک دوسرے کے بارے میں سخت یا غلط فہمی پر مبنی آرا کا اظہار کرتے ہیں۔

چھ اپریل، 2015 کی اس تصویر میں اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک پاکستانی خاتون بیرون ملک سے آنے والے اپنے رشتہ داروں سے مل رہی ہیں (اے ایف پی)

کیا آپ نے کبھی ملک میں رہنے والے اور بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کے درمیان ایک خاموش سی کشمکش محسوس کی؟

یہ کشمکش سوشل میڈیا پر، دوستوں کی محفل میں یا گھریلو گفتگو کے دوران ہونے والی طنزیہ جملے بازی اور شکوے شکایات میں صاف نظر آتی ہے۔

دونوں طبقات اکثر ایک دوسرے کے بارے میں سخت یا غلط فہمی پر مبنی آرا کا اظہار کرتے ہیں۔

پاکستان میں رہنے والوں کا خیال ہے کہ ان کی زندگی سخت مسائل، بے یقینی اور معاشی مشکلات سے عبارت ہے جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ایک آسان، محفوظ اور شاہانہ زندگی گزارتے ہیں۔

دوسری طرف سمندر پار پاکستانیوں کا موقف ہے کہ پردیس میں جو سختیاں وہ جھیل کر روزی کماتے ہیں، اس درجے کی محنت اور کام سے لگن پاکستان میں مقیم ان کے عزیز واقارب کو چھو کر بھی نہیں گزری۔

یہ صرف ایک نکتہ ہے، اور بھی باتیں ہیں جو دونوں طبقوں کے درمیان رنجش کا باعث بنتی ہیں۔

دراصل جب باہمی رشتوں میں منسلک لوگ دو مختلف دنیاؤں کے باسی ہوں تو پھر ایسی کھینچا تانی اچنبھے کی بات نہیں۔

پہلے تو اس موضوع پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے خیالات کا جائزہ لیتے ہیں۔

سمندر پار پاکستانی جنہیں عام بول چال میں ’باہر والے‘ بھی کہا جاتا ہے، کا خیال ہے کہ ملک میں رہنے والے پاکستانی مجموعی طور پر انتہائی سست ہیں۔

اتنے سست کہ جیسے کاہلی ان کی رگوں میں لہو بن کے ’رینگتی‘ ہے۔ نہ ان کے سونے کا کوئی وقت مقرر ہے اور نہ جاگنے کا۔

متوسط طبقے کے گھروں میں بھی سارے کام ’کام والیاں‘ کرتی ہیں اور گھر کی عورتیں آرام دہ زندگی گزار کر بھی ناشکری کرتی ہیں۔

دوسری طرف مرد حضرات بھی انتہائی آرام طلب اور مواقع ہونے کے باوجود ذرائع آمدن بڑھانے کی بجائے فارغ بیٹھ کر مہنگائی کا رونا روتے ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ بے ایمانی، بددیانتی، جھوٹ اور موقع پرستی کے باعث یہ لوگ اب کسی معاملے میں اعتبار کے قابل بھی نہیں رہے۔

میں پاکستان کے دل لاہور میں رہتا ہوں۔ پھر بھی ذاتی طور پر میں ’باہر والوں‘ کی ان تمام باتوں سے بہت حد تک اتفاق کرتا ہوں۔ اختلاف کیا بھی جائے تو کس بنیاد پر۔

معاشرہ ایک گھر کی طرح ہی ہوتا ہے۔ جس گھر کے رہنے والے تعلیم یافتہ محنتی اور اپنے کام سے مخلص ہوں، وہ کسی مشترکہ کاروبار کی بجائے صرف اپنے اپنے کیریئر پر ہی توجہ دے لیں تو پورے کنبے کا سماجی مقام بتدریج بہتر ہو جاتا ہے۔

یہی اصول پورے ملک پر لاگو کریں تو محنتی اور ایمان دار افراد اپنا اپنا کردار ادا کرتے کرتے پورے ملک کی حالت بدل دیتے ہیں۔

اگر ہمارے ملک کی حالت دگرگوں ہے تو پھر اس بات کے درست ہونے کا بہت امکان ہے کہ ہم لوگوں کی اکثریت اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی۔

افراد کی پسماندگی پوری قوم کو پسماندہ بنا دیتی ہے۔ ہماری آرام طلبی کا یہ عالم ہے کہ ہماری مارکیٹیں دوپہر دو بجے کے قریب کھلتی ہیں۔

حکومت رات کو بجلی بچانے کے لیے بڑی مارکیٹیں صبح نو بجے کھولنے کا حکم دے تو اس کو کوئی مانتا نہیں کہ اتنی صبح گاہک نہیں آتے۔

آج کے کام کو کل پر ٹالنا ہمارا قومی مزاج ہے۔ موقع پرستی اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی روش بھی عام ہو چکی ہے۔

سمندر پار بسنے والوں کو ان کے اپنے رشتے دار سونے کے انڈے دینے والی مرغی سمجھتے ہیں۔

ان کے قریبی رشتہ داروں میں کوئی نا کوئی ایسا نکھٹو ضرور ہوتا ہے جس کو پالنا حتیٰ کہ اس کے بیوی بچوں کے اخراجات اٹھانا بھی ان کی ذمہ داری بنا دیا جاتا ہے۔

اور جب کبھی اپنی زندگی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے باعث پردیس میں مقیم پاکستانی یہ تقاضے پورے نہ کر پائیں تو پورا خاندان انہیں خود غرض اور جانے کیسے کیسے القابات سے نوازتا ہے۔

دراصل ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ’باہر والے تو امیر لوگ ہیں۔ ڈالر، پاؤنڈ میں کماتے ہیں، وہ تھوڑے تھوڑے بھی بھیجتے رہیں تو انہیں کیا فرق پڑ جائے گا۔‘

پھر ’باہر کی کمائی‘ سے جب یہ لوگ پاکستان میں کسی جگہ کوئی رقم انویسٹ کردیں تو ان کے ساتھ فراڈ کوئی انہونی بات نہیں۔

کسی جگہ شاپنگ کے لیے چلے جاہیں تو مقامی دکان دار ان کی بات چیت کے انداز اور شخصیت کو دیکھ کر فوراً بھانپ جاتے ہیں کہ یہ ’باہر والے‘ ہیں اور پھر ان سے دگنی تگنی قیمت وصول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ان سب باتوں کے بعد اگر اوورسیز پاکستانی ہم سے شکوے شکایات نہ کریں تو پھر اور کیا کریں۔ ہمیں ان کے اعتراضات اور اپنی غلطیوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔

تاہم تارکین وطن کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ بعض معاملات میں انتہائی سخت رائے دیتے ہوئے وہ بہت سے زمینی حقائق کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔

سستی، کاہلی، بے ایمانی اور بددیانتی جیسی برائیوں کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔

تاہم باہر والوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سماجی فضا، معیار زندگی، ترقی کے مواقع، اجرت اور کام کی جگہوں کے حالات انسانی طرزعمل، رویوں اور مزاج پر مثبت یا منفی اثر ضرور ڈالتے ہیں۔

مثال کے طور پر مغربی ملکوں میں سکیورٹی گارڈ اور پاکستان میں سکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی کا ہی جائزہ لے لیں۔ وہاں سکیورٹی گارڈ سرد یا گرم موسم سے مکمل محفوظ کیبن میں بیٹھتا ہے۔

سکیورٹی کا جدید ترین نظام اس کی سہولت کے لیے موجود ہوتا ہے اور پھر جتنے گھنٹے ڈیوٹی اتنی تنخواہ کا ملنا یقینی۔

ڈیوٹی کے دوران وہ ہرلمحہ پوری طرح الرٹ بیٹھتا ہے اور یقیناً یہ بھی کوئی آسان کام نہیں۔

لیکن ذرا ایک نظر پاکستان میں بینکوں، دکانوں اور گلی محلوں میں ڈیوٹی پر مامور سکیورٹی گارڈز پر بھی ڈالیں۔

وہ سخت ترین موسموں میں بنیادی سہولیات کے بغیر 12، 12 گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں۔ بدلے میں ماہانہ چند ہزار روپے کی تنخواہ اور وہ بھی اکثر وقت پر نہیں ملتی۔

اسی طرح یہاں کاروباری اداروں، کمپنیوں اور مختلف محکموں میں لاکھوں ملازمین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا تصور بھی محال ہے۔

یہ ایک فطری بات ہے کہ جب صلاحیت اور محنت کا صحیح مول نہ لگے تو ایسے حالات میں انسان کے لیے اپنے کام سے مخلص رہنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

بات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اب پاکستانی شہریوں کے موقف کو اوورسیز پاکستانیوں سے براہِ راست مکالمے کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔

آپ کا کہنا ہے کہ آپ شدید سردی بارش اور برف باری میں بھی سارے کام احسن طریقے سے نمٹاتے ہیں جبکہ پاکستان میں موسم کی تھوڑی سی سختی پر دفاتر میں حاضری کم اور تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا تقاضہ شروع ہوجاتا ہے۔

عرض یہ ہے کہ آپ کے ہاں ہر شخص کے پاس اپنی گاڑی یا پھر پبلک ٹرانسپورٹ کا عمدہ نظام نقل و حرکت کو آسان اور آرام دہ بنا دیتا ہے۔

آپ کے گھر، دفاتر، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ پوری طرح سینٹرلی ہیٹڈ ہوتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں ٹھٹھرتی سردیوں میں گرمائش کا وہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا جو آپ کو ہرجگہ میسر ہوتی ہے۔

شاید اسی لیے ہم لوگ آپ کے مقابلے میں موسم کی سختیوں کے آگے جلد ہار مانتے نظر آتے ہیں۔

آپ لوگ بہت جفاکش ہیں۔ ایمان دار اور چست بھی بہت ہیں۔ دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن آپ کو اس کا صلہ بھی پورا ملتا ہے۔

جس کام کے لیے بھی آپ گھر سے نکلتے ہیں، وہ دھکے کھائے بغیر فوراً ہو جاتا ہے اسی لیے شاید آپ کسی کام کو کل پر نہیں ٹالتے۔

ملازمت پر ایک منٹ کی تاخیر کا تصور بھی نہیں۔ پرفارمنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ بالکل درست! لیکن کام کی جگہ پر موجود سہولیات آپ کا کچھ بوجھ تو ہلکا کرتی ہوں گی۔

آپ اٹھتے بیٹھتے اپنی قربانیوں اور مشکلات کا ہی ذکر کرتے ہیں، مگر جن ملکوں میں آپ رہتے ہیں وہاں کا نظام آپ کو آپ کی محنت کے بدلے جو تحفظ، جو اطمینان اور معاشی آسودگی فراہم کرتا ہے اس کا ذکر کرنے سے آپ کیوں کتراتے ہیں؟

آپ کو ماننا ہوگا کہ ان ملکوں میں بنیادی حقوق کا تحفظ، انصاف اور فرائض کی ادائیگی کے لیے دستیاب سہولتیں آپ کی کارکردگی اور طرز عمل کو ہمارے مقابلے میں کہیں بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

آپ کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کے باقاعدہ شہری ہونے کے باوجود آپ کو روز مرہ زندگی میں بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ پاکستان میں زندگی آسان اور کام کا بوجھ نہ ہونے کے برابر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چلیں مان لیتے ہیں۔ لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہاں سب کچھ اتنا ہی سہانا اور پرآسائش ہے اور تو پھر آپ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان واپس کیوں نہیں آجاتے؟ یہ کیسی مشکل زندگی ہے جسے چھوڑنا بھی آپ کو گوارا نہیں؟

آپ کی ایمان داری اور محنت کے قصے بھی سر آنکھوں پر۔

بلاشبہ آپ کی غالب تعداد پردیس میں اپنے فرائض پوری ایمان داری سے جہد مسلسل کی طرح ادا کرتی ہے۔

لیکن آپ کی بدعنوانیوں، جھوٹ اور بے ایمانیوں کے قصے بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

آپ (یقیناً سب نہیں) کی ان عادات نے مغرب کے مقامی لوگوں میں بے چینی اور ردعمل کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ اب وہ لوگ سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے لگے ہیں۔

یقیناً یہ احتجاج صرف پاکستانی تارکین وطن کے خلاف نہیں بلکہ مغرب میں آباد ہر ملک کی تارکین وطن برادری کے خلاف ہو رہے ہیں لیکن آپ بھی ان کا حصہ ہیں۔

آپ ایسے احتجاج کو لاکھ نسل پرستی پر مبنی جذبات کہتے رہیں مگر ہم اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ میں سے بہت سے لوگ ان ممالک کے معاشی اور سماجی نظام سے ناجائز فوائد حاصل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اب وہاں کی حکومتیں امیگریشن اور شہریت کے قوانین کو سخت تر کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

جناب اگر ہم برے ہیں تو دودھ کے دھلے آپ بھی نہیں۔ اگر ہم سست، بددیانت اور موقع پرست ہیں تو حضور کہیں نا کہیں کچھ منافقت آپ میں بھی پائی جاتی ہے۔

قصہ مختصر۔ امکان یہی ہے کہ اندرون ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے درمیان ایسی بحث یا کشمکش کسی نا کسی انداز میں ہمیشہ جاری رہے گی کیونکہ یہ صرف محنت یا سستی، خلوص یا دھوکہ دہی، اور سہولت یا محرومی کی کہانی نہیں بلکہ دو مختلف نظاموں میں جینے والے لوگوں کی نفسیات کا فرق ہے۔

جب تک ہم ایک دوسرے کے حالات کو دل سے سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے، تب تک یہ کشمکش جاری رہے گی۔

کبھی طنز میں، کبھی شکوے میں اور کبھی خاموش فاصلے کی صورت۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ