آسٹریلیا نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی پر پابندیاں عائد کر دیں

پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے آسٹریلین وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ ’دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف آسٹریلیا کا عزم غیر متزلزل ہے۔‘

ایک سکیورٹی اہلکار 30 جنوری 2024 کو بلوچستان کے ضلع بولان میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کے مسلح علیحدگی پسندوں کی جانب سے جلائے گئے ٹرک کنٹینرز کے قریب پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)

آسٹریلیا نے جمعے کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

کالعدم بی ایل اے ایک قوم پرست شدت پسند تنظیم ہے، جن کی عسکریت پسند کارروائیوں سے صوبہ انتشار کا شکار ہے۔

برطانیہ، پاکستان اور امریکہ سمیت کئی ممالک اسے ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے چکے ہیں، جن کے حملوں میں 2011 سے اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور اس نے خاص طور پر چینی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آسٹریلیوی ویب سائٹ ’news.com.au‘ کے مطابق جمعے کو پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے آسٹریلین وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ ’دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف آسٹریلیا کا عزم غیر متزلزل ہے۔‘

انہوں نے ایک بیان میں کہا:  ’بلوچستان لبریشن آرمی ایک ایسا گروہ ہے، جس نے پاکستان بھر میں پرتشدد دہشت گرد حملے کیے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ان ہولناک حملوں میں شہریوں، اہم انفراسٹرکچر، غیر ملکیوں اور ریاست پاکستان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

وزیر خارجہ پینی وونگ کے مطابق یہ پابندیاں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں مدد دیتی ہیں، جس سے ان کے لیے کارروائیاں کرنا، بھرتی کرنا اور اپنی نقصان دہ سوچ پھیلانا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے جو سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی فہرست میں شامل فرد یا تنظیم کے اثاثے استعمال کرنا یا انہیں فراہم کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے، جس پر بھاری جرمانے اور 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

بی ایل اے نے رواں سال جنوری میں پاکستان میں حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی تھی، جسے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کا نام دیا گیا، جس کے دوران صوبے کے نو اضلاع میں خودکش دھماکے اور مسلح حملے کیے گئے۔

حکام کے مطابق ان حملوں میں 274 افراد جان سے گئے تھے۔

جس کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا تھا وہ بی ایل اے کو اپنی پابندیوں کی رجیم کے تحت ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے لیے کام کرے۔

یہ گروہ غیر بلوچ افراد کو کر ٹارگٹ کلنگ، اجتماعی قتل اور انفراسٹرکچر پر مہلک تخریبی حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا