ٹویوٹا کی اگلے مارچ تک خالص منافع میں 22 فیصد کمی کی پیش گوئی

دنیا کی سب سے بڑی کار کمپنی نے 2026 کے پہلے تین مہینوں میں ای وی کی فروخت کو دوگنا سے زیادہ کر کے ریکارڈ 79,002 تک پہنچا دیا۔

جاپانی آٹومیکر کمپنی ٹویوٹا موٹر کارپوریشن نے 7 مئی 2026 کو ٹویوٹا ٹیکنیکل سینٹر سیمویاما میں لیکسس ایل ایس کانسیپٹ کی نمائش کی (یوئچی یامازاکی / اے ایف پی)

گاڑیوں کی فروخت کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی ٹویوٹا نے جمعے کو پیش گوئی کی ہے کہ اگلے مارچ تک ختم ہونے والے سال میں اس کے خالص منافع میں 22 فیصد کمی آئے گی، کیونکہ کمپنی امریکی محصولات اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات سے نمٹ رہی ہے۔

یہ اعلان اس وقت کیا گیا، جب کمپنی نے بتایا کہ مالی سال 26-2025 میں اس کا خالص منافع 19.2 فیصد کم ہو کر 3.8 کھرب ین (25 ارب ڈالر) رہ گیا۔

گذشتہ مالی سال کے دوران آمدنی میں 5.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 50.7 کھرب ین تک پہنچ گئی جبکہ موجودہ مالی مدت کے لیے کمپنی نے اندازہ ظاہر کیا کہ آمدنی 51.0 کھرب ین تک پہنچ جائے گی۔

ٹویوٹا نے کہا: ’امریکی محصولات کے اثرات کے باوجود ہم گاڑیوں کی فروخت میں اضافے، مضبوط مصنوعات کی مسابقت کی بنیاد پر قیمتوں میں ردوبدل اور ویلیو چین کی آمدنی بڑھانے جیسے مسلسل اصلاحی اقدامات کی بدولت اپنی پیش گوئی کے مطابق منافع حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔‘

جاپان نے 2029 تک امریکہ میں 550 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر اتفاق کیا ہے، جس کے بدلے مجوزہ 25 فیصد محصولات کو کم کر کے 15 فیصد کر دیا گیا۔

یہ وعدے اس وقت بھی برقرار رہے جب امریکی سپریم کورٹ نے فروری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی محصولات کو کالعدم قرار دیا اور انہوں نے نئی عمومی 10 فیصد ڈیوٹی نافذ کر دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ محصولات ٹویوٹا جیسی کمپنیوں کے لیے اب بھی تکلیف دہ ثابت ہو رہے ہیں، حالانکہ ٹویوٹا اور دیگر جاپانی کار ساز اداروں کے امریکہ میں وسیع پیداواری مراکز موجود ہیں۔

جمعے کو جاری مالی نتائج کے مطابق شمالی امریکہ میں ٹویوٹا کو گذشتہ سال آپریٹنگ نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو یویچی میازاکی نے کہا: ’بطور چیف فنانشل آفیسر میں اس حقیقت کو نہایت سنجیدگی سے لیتا ہوں کہ یہ مسلسل تیسرا مالی سال ہوگا جس میں آمدنی کے تخمینے جمود کا شکار ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’اس کی بنیادی وجوہات میں درمیانی اور طویل المدتی نقطۂ نظر سے کاروباری ڈھانچے کی اصلاح کی سست رفتار اور مستقبل کی ترقی کے لیے بنیاد رکھنے میں تاخیر شامل ہیں۔‘

میازاکی نے مزید کہا: ’ہم نے خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مستقبل کی ترقی کے لیے جامع سرمایہ کاری کے اخراجات کا مقابلہ فرسودگی میں لاگت میں کمی، ویلیو چین میں منافع بہتر بنانے اور ماڈل و حجم کے امتزاج میں بہتری جیسے اقدامات کے ذریعے کیا۔‘

انہوں نے  مزید کہا: ’تاہم ہم ابھی تک کاروباری ماحول میں بڑی تبدیلیوں، جیسے امریکی محصولات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال کے اثرات کا مکمل طور پر مقابلہ نہیں کر سکے۔‘

ٹویوٹا کے مطابق موجودہ سال میں مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال کے اثرات 670 ارب ین تک پہنچیں گے۔

تاہم کمپنی نے چینی الیکٹرک آٹو کمپنیوں کے سخت مقابلے سے اس کے کاروبارہ پر کسی اثر کا ذکر نہیں کیا۔

فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹویوٹا الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں تیزی لا رہا ہے جبکہ دیگر آٹو میکرز اپنے بلند اہداف کو کم کر رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہائبرڈ پیش رو ایسی گاڑیوں، خاص طور پر چینی حریفوں کی بنائی ہوئی گاڑیوں کے خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی کار کمپنی نے 2026 کے پہلے تین مہینوں میں ای وی کی فروخت کو دوگنا سے زیادہ کر کے ریکارڈ 79,002 تک پہنچا دیا، جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ہے، کیونکہ سات نئے ماڈلز کے تعارف نے اس کی الیکٹرک گاڑیوں کے لائن اپ کو 19 تک پہنچا دیا۔

برنسٹین کے تجزیہ کار ماساہیرو اکیتا نے کہا: ’ہمیں لگتا ہے کہ 2026 ٹویوٹا کی مکمل الیکٹرک شفٹ کا آغاز ہوگا۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ