امریکہ ایران مذاکرات: راولپنڈی میں راستوں کی بندش سے شہری پریشان

پاکستان جہاں دہائیوں سے دہشت گردی کے واقعات پیش آتے رہے ہوں وہاں سخت سکیورٹی کے انتظامات یقینی طور پر قابل فہم ہیں لیکن راستوں کی بندش عام شہریوں کے لیے نقل و حرکت بڑی حد تک معطل کر دیتی ہے۔

امریکہ ایران ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر راولپنڈی میں 19 اپریل 2026 کو نور خان ایئر بیس کے قریبی علاقے کی گلیوں کو بند کر دیا گیا ہے(انڈپینڈنٹ اردو)

’میرا گھر پرانے ایئرپورٹ کے قریب ہے، دفتر اسلام آباد میں ہے، راستے بند ہونے کی وجہ سے سمجھ نہیں آتی دفتر کیسے پہنچوں؟‘

یہ کہنا ہے محمد عامر(فرضی نام) کا جو راولپنڈی کے علاقے چکلالہ کے رہائشی ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی حالیہ مشکل بیان کی۔

ویسے تو ریڈ زون اور اہم کمرشل علاقوں کی بندش سے روزانہ آنے جانے والے اکثر کاروباری طبقہ اور ملازمین متاثر ہوتے ہیں لیکن اس مرتبہ اسلام آباد کے پرانے ایئرپورٹ جسے بےنظیر بھٹو کا نام بھی دیا گیا تاہم آج کل نور خان بیس کی وجہ سے زیادہ خبروں میں ہے۔ محمد عامر اس ہوائی اڈے کے اردگرد بسنے والوں کی مشکلات کی عکاسی کر رہے ہیں۔

اسلام آباد مذاکرات کے لیے آنے ولی وی وی آئی پی شخصیات کی پروازیں راولپنڈی میں واقع پرانے ایئرپورٹ پر لینڈ کرتی ہیں۔ اسی نسبت سے اس کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کو اولڈ ایئرپورٹ کہا جاتا ہے۔

اس سڑک پر کئی بڑی آبادیاں ہیں جہاں ہزاروں مکانات اور لاکھوں کے حساب سے لوگ بستے ہیں۔ ان آبادیوں میں چکلالہ روڈ، شاہ فیصل کالونی، شاہ خالد کالونی، گلزار قائد، ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی سمیت کئی دیگر رہائشی اور کمرشل علاقے شامل ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور بعد جہاں ایک جانب مشرق وسطیٰ کے شہری اس جنگ سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں وہیں تقریباً پوری دنیا کے لوگ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، مہنگائی، معاشی غیر یقینی سمیت دیگر مسائل کا شکار ہیں۔ ان میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔

البتہ ایسے میں پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت نے آگے بڑھ کر فریقین میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی سعی کی ہے جو بظاہر ایک مشکل اور پیچیدہ عمل معلوم ہوتا ہے لیکن پاکستان کی اس حوالے سے بھرپور کوششیں تاحال جاری ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان کا عالمی سطح پر نام بھی بنا ہے اور ماضی سے تاثرات سے ہٹ کر کوریج بھی ملی ہے۔

اسی سلسلے میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مذاکراتی دور بھی ہو چکا ہے جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا اور اب دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں۔

ان ہی تیاریوں میں جو قدم سب سے پہلے اٹھایا جاتا ہے اور جو عام لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے وہ ہے راستوں کی بندش۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں دہائیوں سے دہشت گردی کے واقعات پیش آتے رہے ہوں وہاں سخت سکیورٹی کے انتظامات یقینی طور پر قابل فہم ہیں لیکن ان سکیورٹی انتظامات کے لیے راستوں کی بندش عام شہریوں کے لیے نقل و حرکت بڑی حد تک معطل کر دیتی ہے اور اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں دفتر، سکول اور علاج کے لیے جانے والے لوگ۔

اولڈ ایئرپورٹ روڈ کی آبادیوں میں سے سینکڑوں لوگ روزگار اور ضروری کام کے لیے روز اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیگر علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔ مذاکرات کے پہلے راونڈ کی طرح اب بھی یہاں کے رہائشی مشکل میں ہیں۔

محمد عامر کا کہنا ہے کہ انہیں گھروں تک محدود کر دیا ہے۔ ’گھر سے نکالنا چاہیے وہ میڈیکل ضرورت ہی ہو مشکل بنا دیا گیا ہے۔ اب اگر مذاکرات کا نیا دور کئی دن تک چلتا ہے تو ہماری حالت تو مزید خراب ہو جائے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالیہ دنوں میں مقامی انتظامیہ نے سکیورٹی کے مدنظر ایئرپورٹ سے ملحقہ علاقوں، گلیوں، سڑکوں کو ٹرک اور کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو علاج سمیت دیگر امور میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی مستقل ناکوں کے ساتھ اضافی اور عارضی ناکے بھی سفر کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔ 

بڑی سڑک کے علاوہ گلیوں کو بھی بیریئرز اور رکاوٹوں سے بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف سڑک پر نکلنا ناممکن ہے بلکہ گلیوں کے اندر بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے کئی گنا طویل راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں اور وہ بھی اکثر بند ملتے ہیں۔

عوام میں اس حوالے سے مکمل اتفاق موجود ہے کہ پاکستان کا اس حوالے سے کردار انتہائی مثبت ہے اور اس حوالے سے کی جانے والی تمام کوششوں میں عوام کی مکمل حمایت موجود ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہے جس میں ایک ٹرک نے ایک گلی بند کی ہوئی ہے۔

مقامی انتظامیہ اور پولیس کا کہنا ہے کہ مذاکرات عالمی سطح کا ایونٹ ہے اس لیے سکیورٹی یقینی بنانا بھی انتہائی ضروری ہے۔ 

ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عوامی مشکلات کو بھی اگر مدنظر رکھا جائے تو اس سے عوامی سطح پر اس عمل کی حمایت میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے پیر کو شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق حالیہ دنوں میں اسلام آباد پولیس نے صرف دارالحکومت کی حدود میں 57 ہزار افراد کی تلاشی لی ہے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی کارروائیاں اس کے علاوہ ہیں اور راولپنڈی کے اعداد و شمار اس رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔ 

اس کے علاوہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی حدود میں بڑی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا داخلہ بھی بند کر دیا گیا جبکہ دونوں شہروں کے درمیان چلنے والی میٹروز کی بندش سے بھی شہری نقل و حرکت میں مشکلات ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ