کیا 5300 سال قدیم ممی میں ’زندگی‘ کے آثار باقی ہیں؟

محققین کا کہنا ہے کہ اوٹزی دا آئس مین کی ممی میں جرثوموں کا فعال نظام دریافت ہوا ہے۔

ایک محقق 3 جون 2026 کو اطالوی گلیشیئر سے دریافت ہونے والی اوٹزی آئس مین کی ممی کا جائزہ لے رہا ہے (آئس مین ڈاٹ آئی ٹی)

نئی تحقیق کے مطابق اوٹزی دی آئس مین کی 5300 سال پرانی باقیات میں آج بھی قدیم اور موجودہ دور کے جرثوموں کی ایک فعال تعداد موجود ہے۔

یہ ممی شدہ باقیات 1991 میں آسٹریا اور اٹلی کی سرحد کے قریب اوٹزٹال ایلپس میں دریافت ہوئی تھیں۔ سائنس دانوں نے انہیں منفی چھ درجے سیلسیئس پر محفوظ رکھا ہے تاکہ وہی حالات برقرار رہیں جن میں یہ باقیات ملی تھیں۔

اوٹزی ممی پر بہت تحقیق ہو چکی ہے، جس سے اس دور کے لوگوں کی زندگی کے بارے میں اہم معلومات ملی ہیں۔ تاہم سائنس دانوں کے لیے یہ سمجھنا اب بھی مشکل رہا ہے کہ باقیات پر موجود کون سے جرثومے اصل میں وہاں پہلے سے موجود تھے اور کون سے جدید دور کے ماحولیاتی آلودہ جرثومے ہیں جو حفاظتی عمل کے دوران شامل ہوئے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بات پوری طرح واضح نہیں کہ ممی کو جس ماحول میں محفوظ رکھا گیا ہے، کیا وہ جرثوموں کی افزائش کو روکتا ہے، اور یہ ماحول باقیات کے تحفظ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟

اس کا جائزہ لینے کے لیے اٹلی کی یونیورسٹی آف ٹرینٹو کے محققین نے ممی کی شکل میں موجود باقیات سے لیے گئے جِلد کے نمونوں، ٹشو کے ٹکڑوں اور اندرونی حصوں سے پگھلے ہوئے پانی کے نمونوں میں موجود بیکٹیریا اور فنگس کا تجزیہ کیا۔

اس کے بعد سائنس دانوں نے ان جرثوموں کا موازنہ ان مٹی اور برف کے نمونوں سے کیا جو 1991 میں دریافت کے مقام سے لیے گئے تھے اور محفوظ رکھے گئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ سیوڈوموناس بیکٹیریا تمام نمونوں اور مختلف اوقات میں موجود تھے۔

اندرونی بافتوں کے نمونوں میں ہر وقت این ایروبک بیکٹیریا کی ایک تعداد بھی موجود رہی، جس میں زیادہ تر کلوسٹریڈیم گروپ کے بیکٹیریا شامل تھے۔

محققین کے مطابق یہ بیکٹیریا ایک قدیم جرثومی برادری کا حصہ ہیں، جس کا تعلق اسی مقام سے ہے جہاں سے ممی دریافت ہوئی تھی۔

2019 میں لیے گئے نمونوں میں سرد ماحول کے مطابق ڈھلی ہوئی چار اقسام کی خمیر بھی پائی گئیں، جن میں فینولیفیریا، گلیسیوزائما، گوفیوزائما اور مراکیا شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محققین کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ یہ خمیر ممی کے پگھلنے کے بعد دوبارہ فعال ہو گئی ہوں، یا پھر یہ انہی قدیم خمیروں کی نسل سے تعلق رکھتی ہوں۔

ان میں سے ایک خمیر، گلیسیوزائما، موجودہ حفاظتی ماحول میں ممکنہ طور پر فعال ہے اور اپنی تعداد بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ خمیر سرد درجہ حرارت کے مطابق اچھی طرح ڈھلی ہوئی ہیں۔ غالباً ان کا تعلق برفانی ماحول سے ہے اور مستقبل میں انہیں کم درجہ حرارت پر خمیر اٹھانے جیسے صنعتی کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اوٹزی میں پائے گئے کچھ جرثوموں میں ایسے جینز بھی ملے جو فینول کو توڑنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ فینول ایک جراثیم کش مادہ ہے جو ماضی میں ان باقیات کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم سائنس دان ابھی یہ نہیں جانتے کہ یہ جرثومے مجموعی طور پر ممی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا نہیں۔

مائیکرو بایوم نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے لکھا: ’آئس مین کی ممی کوئی جامد شے نہیں بلکہ زندہ جرثوموں کا ایک متحرک نظام ہے، جہاں برفانی ماحول سے آنے والے قدیم جرثومے اور جدید آلودہ جرثومے میوزیم کے حالات میں ساتھ موجود ہیں۔‘

نئی تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ موجودہ حفاظتی طریقہ زیادہ تر جرثوموں کی افزائش کو دباتا ہے، لیکن ساتھ ہی کچھ ایسے جانداروں کو بھی برقرار رکھ سکتا ہے جو انہی حفاظتی حالات میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سائنس دانوں نے لکھا کہ ’یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ سخت ماحولیاتی شرائط برقرار رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ یہ خاص جرثومی برادریاں خاموش حالت سے نکل کر فعال جرثوموں میں تبدیل نہ ہو جائیں۔‘

اوٹزی کو 1991 میں پیدل سفر کرنے والوں نے آلپس کے ایک گلیشیئر میں جما ہوا پایا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے کپڑے اور اوزار بھی ملے تھے۔ چونکہ اس کا جسم بہت اچھی حالت میں محفوظ تھا، اس لیے سائنس دان تانبے کے دور میں لوگوں کی زندگی کے بارے میں بہت کچھ جان سکے ہیں۔

آسٹریا کے صحافی کارل وینڈل نے اس ممی کو ’اوٹزی‘ کا نام دیا تھا، کیوں کہ وہ اس کے لیے ایک آسان اور یاد رہ جانے والا نام چاہتے تھے۔ ساؤتھ ٹائرول میوزیم آف آرکیالوجی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ نام اوٹزٹال ایلپس سے لیا گیا ہے، جہاں یہ ممی دریافت ہوئی تھی۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق